04/12/2025
باہر طوفان ،اندر سنسان:نوجوانوں میں بڑھتے ذہنی مسائل اور ان کا حل
مینٹل ہیلتھ سیریز قسط نمبر 1
#تحریر
کچھ عرصے سے میرے پاس کوچنگ یا مینٹورنگ کے لیے آنے والے نوجوانوں میں ایک عجیب اور تکلیف دہ تبدیلی نظر آ رہی ہے۔
پہلے یہ وہ لوگ ہوتے تھے جو سیکھنا چاہتے تھے، بڑھنا چاہتے تھے، اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے خواہش مند ہوتے تھے۔
لیکن اب آہستہ آہستہ ان کی جگہ ایسے نوجوان آ رہے ہیں جو کلائنٹس سے زیادہ مریض دکھائی دیتے ہیں۔
یہ جسمانی بیماریوں کے مریض نہیں—یہ وہ لوگ ہیں جن کی تکلیف لفظوں میں بیان نہیں ہوتی، جو مسکرا کر بیٹھتے ہیں مگر اندر سے ٹوٹے ہوئے ہوتے ہیں۔
ایسی کیفیت جس میں کوچنگ ایک حد تک مدد تو دے سکتی ہے لیکن بعض اوقات وہ حد اتنی تنگ ہو جاتی ہے کہ آگے بڑھنے کے لیے نفسیاتی مدد اور ماہر معالج کی رہنمائی ناگزیر ہو جاتی ہے۔
میں، بحیثیت کوچ، جتنا ممکن ہو راستہ دکھاتا ہوں۔
کسی کو اس کی سٹریس یا اینزائٹی کنٹرول کرنے کا طریقہ بتاتا ہوں،کسی کو مایوسی سے نمٹنے کا سادہ سا عمل سمجھا دیتا ہوں۔
اکثر لوگ ان چھوٹی ہدایات سے بہتری محسوس بھی کرتے ہیں لیکن کچھ ایسے ہوتے ہیں جن کے لیے یہ سب کافی نہیں ہوتا۔
ان کے مسائل کی جڑ خراب ہوتی ہوئی مینٹل ہیلتھ ہوتی ہے،
اور پھر انہیں چاہے کچھ بھی کہہ لیں، انہیں پروفیشنل مدد چاہیے ہوتی ہے۔
میں گول سیٹنگ، خود شناسی، پرسنل ڈیویلپمنٹ، مائنڈ سیٹسب میں مدد دیتا ہوں لیکن جب مسئلہ اندر کی گہری تھکن، دباؤ، یا ٹوٹ پھوٹ کا ہو تو پھر بہترین کوچ بھی صرف ایک حد تک سا تھ دے سکتا ہے۔
ایسے میں میں انہیں وہی سائیکاٹرسٹ ریکومنڈ کرتا ہوں
جنہیں میں ذاتی طور پر جانتا ہوں اور جو واقعی مسیحائی کے جذبے کے ساتھ علاج کرتے ہیں۔
لیکن اصل سوال کچھ اور ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں دل ایک ہی سوال کرتا ہے:
یہ وہ مقام ہے جہاں انسان رُک کر سوچتا ہے کہ آخر مسئلہ کہاں ہے؟
ہماری نسل کے پاس وہ سب کچھ ہے جو پچھلی نسلوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا—تیز رفتار انٹرنیٹ، سکرینوں پر سجی رنگین دنیائیں، آرام، سہولتیں، لامتناہی تفریح۔ مگر اس سب کے باوجود دل کا بوجھ کیوں نہیں ہلکا ہوتا؟ ذہن کی دھند کیوں نہیں چھٹتی؟
میں نے درجنوں نوجوانوں اور پروفیشنلز سے بات کی تو ایک حقیقت بار بار سامنے آئی: ہماری خوشیاں، سکون اور ذہنی توازن ایک ایسے خاموش طوفان کا شکار ہیں جو دکھائی نہیں دیتا، لیکن اندر سے ہم سب کو کھوکھلا کر رہا ہے۔
اس تحریر میں میں اسی طوفان کے پوشیدہ پہلوؤں کو کھولوں گااور وہ عملی راستے بھی دوں گا جو کسی بھی نوجوان کو اس اندھیرا توڑنے میں واقعی مدد دے سکتے ہیں۔
آئیے اصل مسئلے کو سمجھتے ہیں، اور اصل حل کی طرف بڑھتے ہیں۔
1.سوشل میڈیا کا سراب اور موازنے کی نفسیات
(The Trap of Comparison)
ہماری نسل واقعی ڈوپامائن کی غلام بن چکی ہے۔
صبح آنکھ کھلتے ہی سب سے پہلا عمل — سوشل میڈیا کی فیڈ چیک کرنا — اب عادت نہیں، نشہ بن چکا ہے۔
جیسے ہی ہم اسکرین آن کرتے ہیں، ہمارا دماغ فوراً ایک کام شروع کر دیتا ہے:
اپنی زندگی کا مقابلہ دوسروں کی زندگیوں سے کرنا۔
انسٹاگرام پر دیکھتے ہیں کہ کوئی یورپ گھوم رہا ہے، کسی نے نئی گاڑی خرید لی، کوئی دوست ہر وقت ہنستا ہوا اور بے فکر نظر آتا ہے۔
یہ سب دیکھ کر ہمیں لگتا ہے کہ شاید ہم ہی پیچھے رہ گئے ہیں، شاید ہماری زندگی ہی عام ہے، شاید ہم ہی خوش نہیں۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر دل کے پیچھے ایک درد ہوتا ہے،
ہر تصویر کے پیچھے ایک کہانی اور ہر ہنسی کے پیچھے ایک جدوجہد۔
ایک مفکر نے بڑی خوبصورتی سے کہا تھا:
“Comparison is the thief of joy.”
یعنی موازنہ خوشی کو چُرا لیتا ہے. خاموشی سے، آہستہ آہستہ، اور روزانہ۔
ہم دوسروں کی ہائی لائٹس دیکھ کر اپنی پوری زندگی کا فیصلہ سناتے ہیں جبکہ ہماری زندگی کا زیادہ حصہ تو یعنی Behind The Scenes ہوتا ہے.
وہ خامیاں، وہ مشکلات، وہ خاموش پریشانیاںجو کوئی کیمرہ دکھاتا ہی نہیں۔یہی موازنہ ہمیں اندر سے توڑ دیتا ہے۔
یہ احساسِ محرومی، ذہنی دباؤ اور آخرکار شدید ڈپریشن کی جڑ بن جاتا ہے۔
2. حقیقی سماجی رابطوں کا فقدان
(Social Disconnection)
ہم تاریخ کی سب سے "کنیکٹڈ" نسل ہیں، لیکن شاید سب سے زیادہ "تنہا" بھی ہم ہیں۔
ہزاروں ورچوئل دوست موجود ہیں، لیکن دکھ بانٹنے کے لیے کوئی حقیقی کندھا نہیں۔
انسان کا دماغ اسکرینز کے لیے نہیں، بلکہ لمس، آواز کے اتار چڑھاؤ، آنکھوں کے رابطے (Eye contact) کے لیے بنایا گیا ہے۔
جب ہم صرف ٹیکسٹ کرتے ہیں، تو ہمارا دماغ وہOxytocin پیدا نہیں کرتا جو بانڈنگ اور سکون کا ہارمون ہے۔
یہ تنہائی آج کے نوجوان کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے، اور ایک خاموش خلیج پیدا کر رہی ہے جسے شاید وہ خود بھی نہ دیکھ پائیں۔
3. ہسل کلچر کا دھوکہ
(The Toxic Hustle Culture)
ہمیں ایک ایسی "ریٹ ریس" میں لگا دیا گیا ہے جہاں آرام کرنا جرم سمجھا جاتا ہے۔
'25 سال میں کروڑ پتی بن جاؤ'، 'اگر سو رہے ہو تو ہار رہے ہو'.
یہ سب پیغامات نوجوانوں سے ان کا حال چھین رہے ہیں۔
نتیجتاً آج کے نوجوان مستقبل کے خوف میں اتنے مبتلا ہیں کہ آج کی چائے کا ذائقہ، موسم کی خوبصورتی، یا چھوٹے لمحے کا سکون محسوس نہیں کر پاتے۔
یہ مستقل دباؤ کورٹیسول (Stress Hormone) کی سطح بڑھاتا ہے، جس سے اینزائٹی اور ذہنی تھکن جنم لیتی ہے۔
4. ذہنی غذا کی آلودگی
(Mental Diet)
جسمانی غذا کی طرح ذہنی غذا بھی اتنی ہی اہم ہے۔
ہم اپنے معدے میں تو گلی سڑی چیزیں نہیں ڈالتے، لیکن اپنے دماغ کو روزانہ بے مقصد، شور سے بھرا اور منفی مواد کھلاتے رہتے ہیں۔
کرائم شوز، سیاسی چیخ و پکار، منفی خبریں، ٹک ٹاک اور یوٹیوب کی سطحی ویڈیوز — یہ سب دھیرے دھیرے ہمارے لاشعور میں زہر چھوڑتے رہتے ہیں۔
اسی لیے ماہرین کہتے ہیں:
“What you consume, consumes you.”
یعنی جو کچھ آپ روز دیکھتے، سنتے اور پڑھتے ہیں، وہی آخرکار آپ کی سوچ، آپ کا مزاج، اور آپ کی شخصیت کو کھا جاتا ہے۔
جب آپ کا دماغ سارا دن صرف یہی سب کچھ لیتا رہے،
تو وہ مثبت سوچنے، سکون پیدا کرنے یا خوشی محسوس کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔
یہ ایسے ہی ہے جیسے گاڑی میں پیٹرول کی جگہ کیچڑ ڈال دیا جائے
اور پھر امید رکھی جائے کہ گاڑی بھی روانی سے چلے۔
5. فزیکل ایکٹیویٹی کا نہ ہونا اور غیر صحت مند طرزِ زندگی
ہمارا طرزِ زندگی قدرتی نہیں رہا۔
سورج کی روشنی سے دوری، راتوں کو جاگنا، اور پروسیسڈ فوڈ (چینی اور میدہ) کا زیادہ استعمال، آج کے نوجوان کی جسمانی اور ذہنی صحت کو متاثر کر رہا ہے۔
سائنس بتاتی ہے کہ ورزش نہ کرنا دماغ پر ویسا ہی اثر ڈالتا ہے جیسا ڈپریشن کرتا ہے۔
جب ہم حرکت نہیں کرتے، تو قدرتی اینٹی ڈپریسنٹس (Endorphins) پیدا نہیں ہوتے، دماغ بے چینی اور ذہنی دباؤ کا شکار رہتا ہے۔
سادہ الفاظ میں ہم ایک عجیب دور میں جی رہے ہیں:
باہر مسکراہٹیں، اندر ویرانی۔
ہمارے پاس وسائل، سہولیات، علم اور کنیکٹیویٹی ہے،
لیکن ہم اپنے ذہن، دل اور روح کے ساتھ بے رحم سلوک کر رہے ہیں۔
یہ وہ حقیقت ہے جو اکثر نظر انداز کی جاتی ہے، مگر اگر ہم اس کا سامنا نہ کریں تو ہماری خوشیاں، سکون اور زندگی کے لمحات دھندلانے لگیں گے۔
اب وقت ہے کہ ہم اپنے ذہن کی غذا صاف کریں، حقیقی تعلقات قائم کریں، آرام اور سکون کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، اور روحانی و جذباتی صحت کو اولین ترجیح دیں۔
👈واپسی کا راستہ :سکون، خودی اور معنی کی طرف
اگر آپ کا دل آج بھی بے چینی محسوس کرتا ہے، اگر ذہن کبھی کبھی خاموش ہو کر سوال کرتا ہے کہ “یہ زندگی آخر کس سمت جا رہی ہے؟” — تو یہ کوئی خرابی نہیں، یہ ایک دعوت ہے۔
آپ کا اندرونی انسان آپ کو جگا رہا ہے۔
یہ وہ لمحہ ہے جس میں زندگی چاہتی ہے کہ آپ رکیں، سوچیں اور واپس اپنے حقیقی راستے کی طرف لوٹ آئیں۔
ہم سب اس دور کے ذہنی دباؤ کے شکار ہیں، لیکن یہ دباؤ کوئی ناقابلِ شکست طاقت نہیں۔
یہ بس ہمارے طرزِ زندگی، ترجیحات اور ذہنی غذا کا ردِ عمل ہے۔اور اچھی خبر یہ ہے کہ جیسے غلط راستہ انسان پریشانی دیتا ہے، ویسے ہی درست راستہ سکون لوٹا دیتا ہے۔
1. ذہن کی صفائی
جیسے آپ اپنے جسم کو کچرے سے بچاتے ہیں، بالکل ویسے ہی ذہن کی حفاظت بھی ضروری ہے۔
دماغ کو ہر طرح کا مواد کھلانا ظلم ہے خاص طور پر وہ مواد جو خوف، مایوسی اور بے سکونی کا زہر رکھتا ہے۔
نیوروسائنس کہتی ہے کہ مسلسل منفی خبریں، سیاسی لڑائیاں، کرائم شوز اور بے مقصد ویڈیوز امیگڈالا (خوف کا مرکز) کو ہر وقت الیرٹ رکھتی ہیں۔
نتیجہ کیا ہوتا ہے؟
ایک مسلسل بے چینی، غیر ضروری گھبراہٹ، اور دماغ کا ٹوٹل اوورلوڈ۔
اس بے چینی کو کم کرنے کے لیے سب سے پہلے آپ ذہن کو مثبت غزا دینا شروع کریں.
مثلاً روزانہ صرف 15 منٹ کوئی ایسی کتاب پڑھیں جو آپ کی سوچ کو بلند کرے۔
فلسفہ، مثبت نفسیات، سیرتِ طیبہ، اسٹوئک فلاسفی یا کچھ اور مثبت لٹریچر اور یہ سب آپ کے دماغ میں نئے، صحت مند نیورل روٹس بناتے ہیں۔
بہتر لوگوں کے ساتھ وقت گزاریں.
وقت اُن لوگوں کے ساتھ گزاریں جو آپ کو ثابت قدم رہنے، سوچنے اور بہتر بننے کی موٹیویشن دیں۔
کیونکہ زہریلی محفلیں ذہن کو ہمیشہ نیچے لے جاتی ہیں، جبکہ حکمت سے بھرپور گفتگو انسان کو اوپر اٹھا دیتی ہے۔
2. حال میں جینے کا فن: مائنڈ فلنس اور میڈیٹیشن
ہماری آدھی پریشانیاں ماضی کی یادوں سے ہوتی ہیں،
اور باقی آدھی مستقبل کے خوف سے۔
بدقسمتی سے ہم زندگی صرف ذہن میں جیتے ہیں، لمحوں میں نہیں اور اس کا بہترین حل مائنڈفلنس ہے.
مائنڈ فلنس کا مطلب ہے:
“جو کر رہے ہو، بس اُسی میں مکمل موجود رہو۔”
جب آپ ایسا کرتے ہیں توپری فرنٹل کورٹیکس مضبوط ہوتا ہے (جو فیصلوں اور سکون کا حصہ ہے) اور امیگڈالا پرسکون ہو جاتا ہے۔
اس کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر چند منٹ Breathing Meditation کریں.
سب سے پہلے اپنی آنکھیں بند کریں، صرف سانس کو محسوس کریں۔
خیالات آئیں، کوئی بات نہیں۔
نرمی سے واپس سانس پر توجہ لائیں۔
یہ مشق دماغ کے اندر “سیٹ پوائنٹ” بدل دیتی ہے اور انسان آہستہ آہستہ بہتر سوچنے اور پرسکون رہنے لگتا ہے۔
3. اللہ سے تعلق: نفسیاتی سکون کا سب سے مضبوط فارمولہ
ایک بڑی وجہ اینزائٹی کی یہ ہے کہ ہم ہر چیز پر کنٹرول چاہتے ہیں لیکن زندگی کنٹرول نہیں ہوتی، زندگی بہتی ہے۔
ان حالات میں اللہ تعالیٰ سے کنیکشن اور توکل سب سے بہترین سٹریٹجی ہے.
یہاں یہ بات بھی سمجھ لیں کہ توکل کوئی مذہبی جملہ نہیں بلکہ یہ ایک نفسیاتی حکمت عملی ہے۔
آپ اپنی کوشش کریں اور نتائج اللہ پر چھوڑ دیں۔
یہی وہ لمحہ ہے جب ذہن کا بوجھ 70 فیصد کم ہو جاتا ہے۔
اللہ کے ساتھ کنیکشن بہتر کرنے کے لیے نلاز سے بہتر کوئی کام نہیں ہے اور ویسے بھی ایک سجدہ انسان کے اندر دبے خوف، دباؤ اور بوجھ کو پگھلا دیتا ہے۔
روزانہ کی بنیاد پر چند آیات ہی سہی لیکن تلاوت ضرور کریں.
قرآن کہتا ہے:
"دلوں کا سکون اللہ کی یاد میں ہے"
اور یہ حقیقت ہے کہ روحانی سکون کے بغیر کوئی ذہنی سکون مکمل نہیں ہوتا۔
4. شکر گزاری: دماغ کو خوشی کا عادی بنانا
ناشکری وہ عینک ہے جو انسان کو صرف کمی دکھاتی ہے، نعمتیں نہیں۔
لیکن شکر گزاری دماغ کا فوکس بدل دیتی ہے. قلّت (Scarcity) سے کثرت (Abundance) کی طرف۔
شکرگزاری کے لیے آپ Gratitude Journal لکھنا شروع کریں.
روز رات کو سونے سے پہلے تین چیزیں لکھیں جن کیلئے آپ شکر گزار ہیں۔
یہ معمولی چیزیں بھی ہو سکتی ہیں جیسے اچھی چائے، کسی کا خیال رکھنا، ایک محفوظ رات.
اپنی زندگی کی چھوٹی چھوٹی مثبت چیزوں کا شکر ادا کریں کیونکہ زندگی کی خوشی ہمیشہ چھوٹے لمحوں میں چھپی ہوتی ہے۔
5. خود پر شفقت برتیں.
ہم اپنے ساتھ سب سے زیادہ سختی کرتے ہیں۔
اپنی غلطیوں کو کوستے ہیں،اپنی کمزوریوں پر شرمندہ ہوتے ہیں اور خود سے وہ توقعات رکھتے ہیں جو غیر انسانی ہیں۔
اپنی زندگی میں کچھ Self-Compassion کا مظاہرہ کریں.یعنی خود پر کچھ شفقت اور رحم دلی کا مظاہرہ کریں.
ریسرچ کہتی ہے کہ جہاں خود تنقید انسان کو توڑ دیتی ہے وہیں خود پر شفقت انسان کو اندر سے جوڑ دیتی ہے۔
اپنے آپ کو ملامت نہ کریں۔
آپ انسان ہیں، روبوٹ نہیں۔
زندگی سیدھی لائن نہیں بلکہ اتار چڑھاؤ ہی زندگی ہے اور ہر دن نئے آغاز کا امکان رکھتا ہے۔
اور سب سے اہم بات یہ رکھیں:
ہم اپنی زندگیاں اس لیے نہیں جیتے کہ دوسروں کو “دکھا” سکیں۔زندگی کا اصل مقصد “محسوس کرنا” ہے. ہر چائے کا گھونٹ، ہر تازہ ہوا، ہر چھوٹا لمحہ،ہر دعا، ہر شکر، ہر نرمی۔
آئیے آج سے فیصلہ کریں:
ہم اپنے ذہن میں کچرا نہیں ڈالیں گے۔
ہم اپنی روح کی صفائی کریں گے۔
ہم حال میں جئیں گے، شکر کے ساتھ، سکون کے ساتھ اور ہر لمحہ اللہ پر توکل رکھتے ہوئے۔
کیونکہ اصل خوشی کسی منزل میں نہیں بلکہ اُس سفر میں ہے جو ہم ہوش اور شکرگزاری کے ساتھ جیتے ہیں۔
اگر آپ نے اس تحریر سے کچھ سیکھا یا یہ آپ کو پسند آئی، تو اسے ضرور شیئر کریں تاکہ کسی اور کو بھی فائدہ پہنچ سکے۔
توصیف اکرم نیازی