08/04/2026
گلگت بلتستان میں کاروباری طبقے کے لیے ٹیکس معطلی، رجسٹریشن روکنے اور ایندھن سبسڈی کی تجویز
گلگت: وزیر سی اینڈ ڈبلیو و ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن راجہ شہباز خان نے گلگت بلتستان میں کاروباری طبقے کو ریلیف دینے کے لیے ٹیکسز کی عارضی معطلی، نئی کاروباری رجسٹریشن روکنے اور ایندھن پر یکساں سبسڈی دینے کی تجویز پیش کر دی ہے، جس کا مقصد مہنگائی اور سیاحت میں کمی سے متاثرہ معیشت کو سہارا دینا ہے۔
یہ تجاویز ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں پیش کی گئیں جس کی صدارت وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان نے کی۔ اجلاس میں آئی جی پولیس ناصر خان سمیت وفاقی و صوبائی حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران راجہ شہباز خان نے گلگت بلتستان کی نمائندگی کرتے ہوئے خطے کی معاشی اور امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی۔ انہوں نے ہوٹل، ٹرانسپورٹ اور بازار ایسوسی ایشنز کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ سیاحت میں نمایاں کمی کے باعث کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں، اس لیے فوری طور پر کاروباری رجسٹریشن کا عمل روکا جائے اور تاجروں پر عائد ٹیکسز معطل کیے جائیں۔
انہوں نے امن و امان کو مزید مضبوط بنانے کے لیے 3,500 اضافی پولیس اہلکاروں کی فراہمی اور ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول محکموں کی استعداد کار بڑھانے کی تجاویز بھی پیش کیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ سابقہ صوبائی حکومت کی جانب سے کاروباری رجسٹریشن سے متعلق قانون منظور کیا گیا تھا، تاہم موجودہ حالات کے پیش نظر اس پر عملدرآمد فی الحال روک دیا گیا ہے۔
مزید برآں، اجلاس میں یہ تجویز بھی زیر غور آئی کہ پاک-چین سرحدی تجارت سے حاصل ہونے والی تقریباً 70 ارب روپے کی آمدن میں سے ایک فیصد حصہ مقامی چھوٹے کاروباری افراد کے لیے مختص کیا جائے، جبکہ چین سے وابستہ تاجروں کو مزید سہولیات فراہم کی جائیں۔
پاکستان میں داخل ہونے والے ہر کنٹینر پر 200 آر ایم بی ٹیکس عائد کرنے کی تجویز کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ چپورسن اور مسگر کے زلزلہ متاثرین کے لیے خصوصی ریلیف پیکیج پر بھی غور کیا گیا، جس میں چھوٹے تاجروں کو چین سے اضافی سامان لانے کی اجازت دینے کی تجویز شامل ہے۔
انفراسٹرکچر کے حوالے سے تتہ پانی پل کے ٹینڈر کی منظوری متوقع ہے، جبکہ پاکستان اور چین کے درمیان چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں کو دونوں اطراف یکساں رکھنے پر اتفاق کیا گیا، جو 225 چینی یوآن مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح گلگت بلتستان اور پاکستان کے دیگر حصوں کے درمیان چلنے والی گاڑیوں سے ٹول ٹیکس 2022 پالیسی کے تحت وصول کیا جائے گا۔
اجلاس میں دیامر بھاشا ڈیم متاثرین کے مطالبات جلد حل کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں پیش کی گئی تجاویز کو حتمی منظوری کے لیے وزیراعظم کو ارسال کیا جائے گا، جس کے بعد باقاعدہ عملدرآمد متوقع ہے۔