Ch Furqan Jutt

Ch Furqan Jutt Students services, Hostel Services

12/08/2020
.              👈  *بچے کی نفسیات سمجھنے کے 12 گن* 👉والدین کی حیثیت سے آپ اپنے بچے کو پیدائش کے دن سے سمجھنا شروع کردیتے ...
11/08/2020

. 👈 *بچے کی نفسیات سمجھنے کے 12 گن* 👉

والدین کی حیثیت سے آپ اپنے بچے کو پیدائش کے دن سے سمجھنا شروع کردیتے ہیں۔ بلاشبہ ایک ذمہ دار والدین کی حیثیت سے یہ آپ کے لیے سب سے ضروری بات ہے۔ دانت کے درد کی تکلیف سے لے کر پیٹ کے درد تک اور نیپی بدلنے سے لے کر لڑکپن کے مسائل تک بچوں کو سمجھنا آسان نہیں ہوتا۔
بچوں کوسمجھنا ان کی بہتر پرورش کے لیے بہت ضروری ہے۔ آپکا بچہ خاص شخصیت کا حامل ہے اور یہ خصوصیت ساری زندگی اس کے ساتھ رہتی ہے۔ آپ کا رویہ بچے کی شخصیت کے مطابق ہو نہ کہ آپ اسکی شخصیت کو بدلنے کی کوشش کریں۔

بچے کی نفسیات کو سمجھنا ایک صبر آزما کام ہے۔ درج ذیل طریقوں سے آپ کو اپنے بچے کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کر کے اسے سمجھنے میں مدد ملے گی۔۔

1۔مشاہدہ کیجئے
اپنے بچے کی مصروفیات پر نظر رکھیں۔اس طرح آپ کو یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ آپ کا بچہ کیسے کھیلتا ہے کیسے کھاتا ہے اور کس طرح دوسروں سے بات چیت کرتا ہے۔
۔آپ کو اس کی بہت سی خوبیوں سے آگاہی ہوگی۔
۔مشاہدہ کیجئے کہ آیا آپ کا بچہ کسی تبدیلی میں جلد رچ بس جاتا ہے یا وقت لیتا ہے۔
۔سارے بچے ایک جیسی خوبیوں کے حامل نہیں ہوتے، یاد رکھئے ہر بچے کی الگ شخصیت ہوتی ہے۔

2۔دوست کی حیثیت سے پیش آئیں
بچے کے ساتھ دوست کیطرح پیش آئیں اس طرح آپ کا بچہ آپ کے بہت قریب آجاتا ہے لیکن ساتھ ہی کچھ حدود کا خیال رکھیں۔ اگر وہ کوئی غلطی کرتا ہے تو اسے مورد الزام ٹھہرانے کی بجائے دوست کی حیثیت سے فیصلہ دیجئے۔کیونکہ اگر آپ والدین کی حیثیت سے فیصلہ کریں گے تو وہ قدرے مختلف ہوگا۔ اور اسطرح آپ کا بچہ آپ سے کوئی بات شئیر نہیں کرے گا۔ صرف یہی نہیں بلکہ اسے بھی موقعہ دیں کہ وہ آپ کی بات سمجھ سکے۔

3۔بچے کے ساتھ وقت گزاریں
اپنے بچے کے ساتھ زیادہ وقت گزاریں تاکہ آپ اسکو اور اسکے دوستوں کو جان سکیں، اور وہ بھی آپ سے اپنے مسائل شیئر کرسکے۔ آپ کتنے ہی مصروف ہوں اسے تھوڑا وقت ضرور دیں تاکہ اسے پتہ ہو کہ آپ اس کی مدد کے لیئے موجود ہیں۔

4۔بچے کو ذمہ دار بنائیے
اپنے بچے کو کم عمری ہی سے اس کی ذمہ داریوں سے آگاہ کریں۔
اگر وہ بغیر گرائے کپ میں دودھ نکالتا ہے، یا کھیلنے کے بعد اپنے کھلونے واپس ڈبے میں رکھتا ہے تو یہ اسکے ذمہ دار ہونے کی نشانی ہے اس کی حوصلہ افزائی کریں۔ اسکی تعریف کیجئے۔ تاکہ وہ اور زیادہ شوق سے اپنا کام خود کرے۔

5۔ بات سنئے
اپنے بچے کی بات رد کرنے کے بجائے غور سے سنیں اگر آپ اس سے متفق نہیں ہیں تواسے اپنے خیالات سے آگاہ کریں۔

6۔اس پر الزام تراشی نہ کریں
اگر وہ کوئی غلطی کرتا ہے تواسے بتائیں کہ اس نے جو کیا وہ صحیح نہیں تھا۔لیکن آپ اب بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔

7۔ اپنے بچے کو پر اعتماد بنائیں
اس میں اعتماد پیدا کریں۔ اگر اسکا اسکول میں پہلا دن ہے تو اس سے اسکول کے بارے میں پوچھیں، اس نے اسکول میں کیا پڑھا، اسے اپنا ٹیچر کیسا لگا، اس نے کوئی دوست بنایا یا نہیں۔ اس کا اعتماد بڑھائیں تاکہ وہ دوست بنانے کے ساتھ نئے اسکول کا بہتر انداز میں سامنا کر سکے۔

8۔گھریلو معاملات میں اسکی رائے لیں
اگر آپ گھر کے معاملات میں بچے سے رائے لیتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو بہت اہم سمجھے گا اور زیادہ ذمہ دار بن جائے گا۔گھر کی سیٹنگ ہو یاکمرے کو نئے سرے سے ترتیب دے رہے ہیں اس میں اپنے بچے کی رائے لیں اور اس میں چھپے منصوبے پر غور کریں بجائے اس کے کہ اس کی غلطیاں نکالیں۔ اسطرح آپ کے بچے میں اعتماد پیدا ہوگا اور قوت فیصلہ میں بھی اضافہ ہوگا۔

9۔بچے کی ذاتی دلچسپیوں سے واقفیت
بچے کی پرورش پر دھیان دینے کے ساتھ اس کی ذاتی پسند، ناپسند سے بھی واقفیت ضروری ہے۔ اپنے بچے سے اس کے پسندیدہ مضمون، پسندیدہ کھیل اور ٹی وی پروگرام کے بارے میں بات کیجئے۔اسے اس کی پسندیدہ فلم دکھائیے یا اس کے ساتھ اس کا پسندیدہ کھیل دیکھئے۔ اسطرح آپ کو اپنے بچے کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔

10 ۔اپنے وعدے پر قائم رہیں
اپنے بچے سے کئے ہوئے وعدے کو پورا کر کے آپ اسکا دل جیت لیں گے۔ چاہے وہ ساحل سمندر پر جانے کا ہو یا سپر مارکیٹ کا، اپنے وعدے پر قائم رہئیے اسطرح آپ کے بچے میں بھی ایمانداری بڑھے گی۔

11۔اسے آزادی دیجئے
ہر وقت اپنی مرضی چلانے کے بجائے اپنے بچے کو آزادی دیجئے، اسے اسکی پسند کے کام کرنے دیں لیکن اس کے قریب رہیں تاکہ وہ کوئی غلطی نہ کرے اور ضرورت پڑنے پر اس کی رہنمائی کریں۔

12۔بچے کو بچہ ہی رہنے دیں
بچے سے زیادہ امید نہ رکھیں اگر وہ غلطی کرتا ہے تو اس سے بہت کچھ سیکھے گا۔ اسے کسی کام سے روکنے کے بجائے احتیاط کرنا سکھائیں👈🏻

WhatsApp Group Invite

09/08/2020
ریسٹورینٹ کھولنے کے لیے حکومتئ ایس او پیز تیارمزیدتفصلات کے لے لنک پر کلک کریںhttps://lahoretoday.pk/restarant-news-with...
08/08/2020

ریسٹورینٹ کھولنے کے لیے حکومتئ ایس او پیز تیار
مزیدتفصلات کے لے لنک پر کلک کریں
https://lahoretoday.pk/restarant-news-with-sops/

سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ نے ایس او پیز جاری کردیے۔ سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیرفاسٹ فوڈ اور ریسٹورینٹ کے ڈائننگ ہال میں سوشل پارٹیز کی اجازت نہ...

07/08/2020

جنرل ضیاء الحق کا ظالمانہ دور 😌
وہ دور جب پاکستان میں تمام بھارتی میڈیا پہ پابندی تھی ۔ ٹی وی پہ ایک چینل ہوتا تھا اور نیوز کاسٹر سرپہ دوپٹہ رکھ کہ آتی تھیں ۔👰
ٹی وی نشریات شام چار بجے سے رات گیارہ بجے تک ہوتی ۔
نشریات کا آغاز اور اختتام تلاوت کلام پاک ، حمد اور نعت سے ہوتا ۔👍
چوری ، زنا کی بہت سخت سزائیں تھیں اور ملک میں مکمل امن و امان تھا ۔✊💪
ایک روپے کا بن کباب ملتا تھا اور پانچ روپے کا تو بس ایسا بہترین برگر ملتا تھا کہ کھاتے رہ جاؤ ۔👌
تندور پر روٹی آٹھ آنے کی ملتی تھی اور دس روپے میں ایک مزدور آرام سے دو وقت کا کھانا کھا لیتا تھا ۔✌
دوکانوں پر سوئی سے لیکر ہاتھی تک کے نرخ نامے لگے ہوتے اور مجال کہ کوئی ایک دھیلا پیسہ بھی زیادہ لے لے ۔✊
تمام سیاسی پارٹیوں پہ پابندی تھی اور عوام کو گمراہ کرنے والے سیاستدان جیل میں تھے ۔👊
سرکاری سکول فیس 10 روپے ماہانہ تھی اور پرائیوٹ سکول فیس 30 روپے ماہانہ۔👏
سکول میں پڑھایا جانے والا نصاب سخت جانچ پڑتال سے گزرتا اور اسلام مخالف اور پاکستان مخالف کوئی چیز بچوں کو نہ پڑھائی جاتی ۔👌💪
کالج میں ایک مہینہ فوجی ٹریننگ ہوتی جس میں حصہ لینے والوں کو بیس اضافی نمبر ملتے ۔👌
پاکستانی برانڈ کمپنیوں کو تحفظ حاصل تھا۔👍
ملک کی اپنی پولکا آئس کریم ، آر سی کولا ، بنایا ٹوتھ پیسٹ ، فوجی کارن فلیکس ۔ ناصر صدیق گلاس ، رہبر واٹر کولر ، پرافیشنٹ موٹر کار ، یعصوب ٹرک ، پاکستان 🇵🇰میں عام نظر آتے ۔👍👌✌💪💪💪
دور دراز گاؤں میں مسجد فجر اور ظہر کے درمیان سکول کے طور پہ استعمال ہوتی ۔👌👍
تعلیم بالغاں کیلئے نئی روشنی سکول شام کو کھلتے ۔👏
انہی کے دور حکومت میں شریعت عدالت بنی جس میں ایک مقدمے میں سود کو حرام اور قابل سزا جرم قرار دیا گیا !✌👍
😓 جب وہ شہید ہوے تو کرایہ کے گھر میں تھا اس کا اپنا گھر نہیں رہ گیا ۔ اور دوسرا ان کا حساب اکاؤنٹ میں صرف بیس ہزار روپے تھے اپنی تنخوا کے۔۔ افغان جنگ کو جتنا ڈالر آتا تھا ان میں ضیا صاحب نے ایک بھی نہیں کھایا ہے ۔۔
پھر 1988 میں جنرل ضیاء الحق ایک پراسرار حادثے میں شہید ہو گئے 😥
اور بینظیر بھٹو کا دور شروع ہوا ۔
سب سے پہلے بینظیر نے ضیاء الحق کی تمام اسکیمیں بند کیں ، جن میں مسجد سکول اور نئی روشنی سکول شامل تھے ۔😲😰😢
پھر زنا کی سزا حدود آرڈیننس پاس کرا کہ ختم کر دی ۔👎
اور تعلیم مہنگی ہوتی گئی اور وہ سب کچھ ہوتا گیا کہ اللہ کی پناہ ۔ 🤔🤐
اس کے بعد نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں حکومت نے آرڈیننس پاس کر کے شرعی عدالت کو ختم کر دیا اور سود کے حرام اور قابل سزا جرم کے شرعی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ لیجایا گیا جو کہ آج تک اسٹے پر ہے بلکل اسی طرح جس طرح کچھ حکومتیں اور وزارتیں پہلے اسٹے پر چلتی رہیں اور اسی اسٹے کی آڑ میں سود کا کام کھلے عام یعنی اللہ زولجلال اور اور اس کے نبی ؐ سے جنگ کھلے عام 😨😨
جنرل ضیاء ایک ملٹری ڈکٹیٹر تھا مگر ساری دنیا کا کفر اس سے کانپتا تھا 👍۔ اپنے ملک کےسارے شیاطین اس کے دور حکومت میں زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے ۔ 👌💪
ہمیں فخر ہے آپ پہ جنرل ضیاء الحق شہید
اللہ آپکو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے

07/08/2020

ایوب خان نے کشمیر کیوں نہیں لیا؟

یہ سوال اکثر کیا جاتا ہے کہ 62ء کی چین انڈیا جنگ میں ایوب خان نے کشمیر پر قبضہ کیوں نہیں کر لیا؟
جواب بہت سادہ سا ہے۔ پاکستان کو اس جنگ میں اتنا بڑا ایڈوانٹیج حاصل نہیں تھا جیسا کہ لوگ سمجھتے ہیں۔
چین کے ساتھ انڈیا کی صرف 22 ہزار فوج ہی لڑ رہی تھی اور وہ بھی ایک محدود سے علاقے میں۔ جب کہ ایکٹیو اور ریزرو ملا کر کل انڈین فوج اس وقت بھی 10 لاکھ سے اوپر تھی۔
یعنی انڈیا کی صرف 2٪ فیصد فوج چین کے ساتھ مصروف تھی باقی 98٪ فارغ تھی۔ نہ انڈیا کی ائر فورس اس جنگ میں حصہ لے رہی تھی اور نہ نیوی۔ وہ بھی فری تھی۔
یوں پاکستان کے لیے کوئی بہت بڑا ایڈوانٹیج ہرگز نہ تھا۔

نیز یہ کوئی اچانک چین کا انڈیا پر بہت بڑا حملہ نہیں تھا بلکہ ایک محدود سے متنازعہ علاقے میں تین سال سے جاری جھڑپوں کا تسلسل تھا۔ یہاں 1959ء سے چین اور انڈیا کی جھڑپیں چل رہی تھیں۔ یہ بڑی جھڑپ بھی ایک دو دن کی نہیں تھی بلکہ پورا ایک مہینہ چلتی رہی۔ اس وقت چین کی خواہش تھی کہ پاکستان بھی اس میں کودے اور آزاد کشمیر کی لائن آف کنٹرول عبور کرے تاکہ انڈیا فوج پر دو طرف دے دباؤ پڑے۔ کیونکہ چینی افواج کی اموات بھی ہورہی تھیں۔ 1500 کے قریب انڈین فوج کی ہلاکتیں ہوئی تھیں تو 700 سے اوپر چینی فوجی بھی ہلاک ہوئے تھے۔

روس جو اس وقت سپر پاور تھا کھل کر انڈیا کی مدد کر رہا تھا۔ روس نے انڈیا کو یقین دلایا کہ پاکستان اس جنگ میں کودا تو روسی ائر فورس پاکستان کو سبق سکھا دے گی۔ روس کی وجہ سے برطانیہ اور امریکہ اس جنگ سے لاتعلق رہے اور انڈیا کی براہ راست مدد نہ کی۔ لیکن انہوں نے ایک کام ضرور کیا۔ بروس ریڈل کی کتاب
JFK’s Forgotten Crisis: Tibet, the CIA and the Sino-Indian War
کے مطابق ایوب خان کو جنگ میں کودنے کے لیے پر تولتا دیکھ کر امریکہ اور برطانیہ دونوں نے پاکستان کو خبردار کیا کہ اگر وہ اس جنگ میں کودا تو یہ سیٹو اور سنٹو معاہدوں کی خلاف ورزی ہوگی نیز دونوں ممالک پاکستان پر معاشی اور سفری پابندیاں عائد کردینگے۔ یاد ہے کہ اس وقت پاکستان صرف امریکہ سے ہتھیار لیا کرتا تھا۔ امریکہ نے ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کی بھی دھمکی دی۔

ایوب خان کو اقتدار سنبھالے ابھی چار سال ہوئے تھے اور پاکستان تیزی سے معاشی طور پر مضبوط ہو رہا تھا۔ اس حالت میں ایک بڑی جنگ اس معاشی ترقی کو بریک لگا سکتی تھی۔

لیکن اگر پاکستان تمام خطرات مول لے کر بھی اور ہر چیز داؤ پر لگا کر بھی اس جنگ میں کود پڑتا تو بھی کامیابی کا امکان نہ ہونے کے برابر تھا کیونکہ جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ ہمیں کوئی خاص ایڈوانٹیج نہ تھا۔

اب ذرا ان سب چیزوں کو ذہن میں رکھ کر 65ء کی طرف آئیں جب انڈیا نے پاکستان پر حملہ کرنے میں پہل کر دی۔ اس وقت انڈیا کی تینوں مسلح افواج نیوی، ائر فورس اور بری فوج پاکستان کے ساتھ تقریباً تمام سرحدی پٹی پر جنگ میں مصروف ہوگئی۔ پاکستان نے انڈیا کی 70 فیصد ائر فورس کا صفایا کر دیا۔ ان کی بری فوج کے سب سے مضبوط حصے کو ٹینکوں کی لڑائی میں تباہ کر کے رکھا دیا اور انڈیا کے پاس لڑنے کے لیے ٹینک نہ ہونے کے برابر رہ گئے۔
اس حالت میں پاکستان نے چین سے دو تین بار کہا کہ وہ لداخ وغیرہ میں پیش قدمی کرے لیکن چین نے نہیں کی۔

جب کہ چین کو 65ء کی جنگ میں ہزار گنا بڑا ایڈوانٹیج حاصل تھا اس سے جتنا پاکستان کو 62ء کی جنگ میں تھا۔ 65ء میں انڈیا کی تقریباً پوری فوج پاکستان کے ساتھ مصروف تھی اور جیسا کہ اوپر عرض کیا ان کی ائر فورس اور ٹینکوں کا پاکستان نے صفایا کر دیا تھا۔
اور چین اس وقت بھی پاکستان کے مقابلے میں کئی گنا بڑی دفاعی قوت رکھتا تھا۔ لیکن اس نے رسک نہیں لیا۔ چین نے جواز پیش کیا کہ اگر پیش قدمی کی تو روس اور امریکہ دونوں ناراض ہونگے اور روس چین پر حملہ بھی کر سکتا ہے۔

تب آپ سوچیں کہ ایوب خان جو پاکستان کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا اور کئی متضاد معاہدوں میں جھکڑا ہوا تھا روس اور امریکہ کا خطرہ مول لے کر انڈیا کی محض ایک چھوٹی سی جھڑپ کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کیسے کرتا؟؟

ایوب خان سپاہ سالار تھا اور بہت اچھا سپاہ سالار تھا۔ مجھے یقین ہے کہ جنگوں کے بارے میں ہم سے زیادہ جانتا تھا۔ مجھے یہ بھی یقین ہے کہ اس وقت کے حالات سے بھی ہم سے زیادہ واقف تھا۔
لہذا اس وقت کے حالات اور انڈیا چین کی جنگ کی اصل صورتحال کو سمجھے بغیر یہ کہنا کہ ایوب خان کشمیر لے سکتا تھا لیکن نہیں لیا کم علمی اور حماقت ہے۔

دفاع پاکستان کےسالار

Address

Islamabad

Telephone

+923344181533

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ch Furqan Jutt posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Ch Furqan Jutt:

Share