Shahid Malik

Shahid Malik کچھ نہ کچھ اچھاکرو

22/02/2026
4جنوری 2026 ابوبکر کے ساتھ راجدھانی پارک کی کچھ یادیں
21/02/2026

4جنوری 2026 ابوبکر کے ساتھ راجدھانی پارک کی کچھ یادیں

18جنوری 2026 طیب شاہد اور سعد رضا کے ساتھ نکیال میں گزرے کچھ یادگار لمحات
21/02/2026

18جنوری 2026 طیب شاہد اور سعد رضا کے ساتھ نکیال میں گزرے کچھ یادگار لمحات

21/02/2026
21/02/2026
21/02/2026
10/02/2026

بسنت کا تاریخی پس مظر
حکیم افتخار یوسف زئی
بسنت منانے والے یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ جب موسم سرما رخصت ہوتا ہے اور بہا ر کی آمد آمد ہوتی ہے تو یہ تہوار منایا جاتا ہے جبکہ تاریخی حقائق اس کے خلاف ہیں۔

سکھ مورخ ڈاکٹر بی ایس نجار نے اپنی کتاب پنجاب میں آخری مغل دور حکومت میں لکھا ہے کہ ۱۷۰۷ء تا ۱۷۵۹ء زکریاخان پنجاب کا گورنر تھا۔ حقیقت رائے سیالکوٹ کے ایک کھتری باکھ مل پوری کا بیٹا تھا۔ اس نے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی صاحب زادی سیدہ سلام اللہ علیہا کی شان اقدس میں نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ اس جرم پر حقیقت رائے کو قاضی وقت نے موت کی سزا دی۔ اس واقعہ سے غیر مسلم آبادی کو شدید دھچکا لگا اور بڑے بڑے ہندو مہاشے اور سرکردہ لوگ زکریا خان گورنر کے پاس گئے کہ حقیقت رائے کی سزا ئے موت معاف کر دی جائے لیکن زکریا خان نے ان کی سفارش ماننے سے انکار کر دیا اور ۱۷۴۷ء میں اسے موت کی سزا دے دی گئی۔

ہندوؤں کے نزدیک حقیقت رائے نے ہندو دھرم کے لیے قربانی دی۔ اس لیے انہوں نے پیلی (بسنتی) پگڑیاں اور ان کی عورتوں نے پیلی ساڑھیاں پہنیں اور اس کی مڑھی پر پیلا رنگ بکھیر دیا۔ بعد میں ایک ہندو کالو رام نے اس مڑھی پر ایک مندر تعمیر کروایا۔ جس دن حقیقت رائے کو موت کی سزا دی گئی اس دن کو پیلے رنگ کی نسبت سے بسنت کا نام دیا گیا۔ اس دن ملحقہ میدان میں پتنگ بازی بھی ہوئی اور حقیقت رائے کی یاد تازہ رکھنے کے لیے یہ بسنت ہندو تہوار کے طور پر ہر سال منانے کا سلسلہ قائم ہوا جو بھارت میں تو معمولی انداز میں منایا جاتا ہے اور یہاں بڑی دھوم دھام سے پتنگ بازی اور دیگر ہر قسم کی لغویات اور بے ہودگی کا مظاہرہ کئی کئی دن تک شب وروز کیا جاتا ہے جس میں ہمارے ذرائع ابلاغ بھرپور رنگینی اور فحاشی کے ساتھ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔

حقیقت رائے کی یہ مڑھی کوٹ خواجہ سعید (کھوجے شاہ / گھوڑے شاہ) لاہور میں ہے۔ اب یہ جگہ باغبان پورہ میں باوے دی مڑھی کے نام سے مشہور ہے اور اسی علاقہ کے قبرستان میں موجود ہے۔ ہندو سکھ زائرین بسنت کے موقع پر اب تک باوے دی مڑھی پر حاضری دیتے اور منتیں مانتے ہیں۔ شاید ان میں بسنت منانے والے مسلمان بھی ہوں۔ اس لیے بسنت موسمی تہوار نہیں ہے بلکہ ہندو اسے یادگار حقیقت رائے کے طور پرمناتے ہیں اور یہ خالصتا ہندوانہ تہوار ہے لیکن مسلمانوں کو اس بات کا احساس تک نہیں کہ ایک گستاخ رسول کی یاد میں منائے جانے والے تہوار پر لاکھوں روپیہ لٹا کر اور جانی نقصان اٹھا کر وہ ہر سال اس منحوس رسم کی آبیاری کرتے ہیں۔
اس پیغام کو دوسروں تک پہنچا دیں میرا کام آپ تک پہنچانا تھا کیوں کے شراب کی بوتل پر روح افزا لکھ دینے سے وہ ہلال نہیں ہو جاتی نوجوانوں کو علم ہونا چاہیے اس تہوار کے پہچھے کی سچائی کا زیادہ سے زیادہ شئیر کریں ہو سکتا ہے کوئی عمل کر لے۔

10/02/2026

*مَیں شُکر گُزار ہُوں اُن لوگوں کا جو میری بُرائی کرتے ہیں اور میرے گُناہُوں کا بوجھ ہلکا کرنے میں مَدَد گار بَن رہے ہیں لیکِن مَیں فِکر مَند بھی ہو جاتا ہُوں اُن لوگوں کے بارے ميں جو میری غِیبَت کر کے اپنے گُناہُوں کا بوجھ بڑھا رہے ہیں*

10/02/2026

*احادیث کی روشنی میں جھوٹ کی مذمت:*

آئیے!احادیثِ مبارکہ میں بَیان کردہ جھوٹ کی مختلف تباہ کاریاں سنتے ہیں۔
جھوٹ کے بھیانک نتائج:
1- جب بندہ جھوٹ بولتا ہے اس کی بدبو سے فِرِشتہ ایک مِیْل دور ہوجاتا ہے۔
*(سنن ترمذی، رقم الحدیث : 1979)*
2- جھوٹ بولنا سب سے بڑی خیانت ہے۔
*(سنن ابی داود، رقم الحدیث : 4971)*
3- جھوٹ ایمان کے مخالف ہے۔
*(مسند امام احمد، جلد 1، صفحہ 22، رقم الحدیث : 16)*
4- لوگوں کو ہنسانے کے لئے جھوٹ بولنے والے کے لئے ہلاکت ہے۔
*(سنن ترمذی، رقم الحدیث:2322)*
5- لوگوں کو ہنسانے کے لئے جھوٹ بولنے والا دوزخ کی اتنی گہرائی میں گرتا ہے جو آسمان و زمین کے درمیانی فاصلے سے زِیادہ ہے۔
*(شعب الایمان، جلد 4، صفحہ 213، رقم الحدیث:4832)*
6- جھوٹ بولنے سے منہ کالا ہو جاتاہے۔
*(شعب الایمان، جلد 4، صفحہ 208، رقم الحدیث: 4813)*
7- جھوٹی بات کہنا کبیرہ گناہ ہے۔
*(معجم کبیر، رقم الحدیث :293 ملخصا)*
8- جھوٹ بولنا منافق کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
*(صحیح مسلم، رقم الحدیث:106)*
9- جھوٹ بولنے والے قیامت کے دن اللہ کریم کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ افراد میں شامل ہوں گے۔
*(کنزالعمال، رقم الحدیث:44037)*

10/02/2026

*عنوان: وضو کو توڑنے والی صورتیں*
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ وضو کن صورتوں میں ٹوٹ جاتا ہے؟

بینوا توجروا
بیان فرما کر اجر پائیے

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ
اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

مندرجہ ذیل چیزوں میں سے کوئی بھی ایک چیز پائی گئی تو وضو ٹوٹ جائے گا: جیسے پاخانہ، پیشاب، ودی، مذی، مَنی، کیڑا، پتھری مرد یا عورت کے آگے یا پیچھے سے نکلیں، منہ بھر قے، اور اسی طرح رکوع و سجود والی نماز میں بالغ کا قہقہہ لگانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
نوٹ: تفصیلی معلومات کے لیے بہار شریعت جلد اول، حصہ دوم سے نواقضِ وضو یعنی وضو توڑنے والی چیزوں کا بیان پڑھ لیجیے۔

المختصر للقدوری میں ہے:
"كل ما خرج من السبيلين والدم والقيح والصديد إذا خرج من البدن فتجاوز الی موضع يلحقه حكم التطه‍ير، والقيء اذا كان ملأ الفم......والقه‍قه‍ة في كل صلاة ذات ركوع وسجود."ملتقطا۔
ترجمہ: ہر وہ چیز جو سبیلین سے نکلے، اور خون، پیپ، زرد پانی جب بدن سے نکل کر ایسی جگہ تک بہہ جائے جسے دھونے کا حکم ہے، اور قے جبکہ وہ منہ بھر کر ہو، اور قہقہہ لگانا ہر ایسی نماز میں جس میں رکوع اور سجدہ ہو۔
(المختصر للقدوری، کتاب الطھارۃ، صفحہ11، مطبوعہ: دار الکتب العلمیہ، بیروت)

بہار شریعت میں ہے:
"پاخانہ، پیشاب، وَدِی، مَذِی، مَنی، کیڑا، پتھری مرد یا عورت کے آگے یا پیچھے سے نکلیں وُضو جاتا رہے گا۔"
(بہار شریعت، حصہ دوم، کتاب الطہارت، وضو کا بیان، جلد01، صفحہ306، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ، کراچی)

کتبہ: ابو النجات حافظ عباد علی صدیقی
نظر ثانی: مفتی ندیم مدنی حنفی
من جانب: دارالافتاء عرفان شریعت
مورخہ 17 شعبان المعظم 1447ھ
بمطابق 06 فروری 2026، بروز جمعہ۔

10/02/2026

**روتی ہوئی شکل مت بنائے رکھئے ؛ ہر وقت کی مظلومیت شخصیت کو دیمک کی طرح چاٹ کھاتی ہے**

Address

Kotli
Kotli

Telephone

+923466550671

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shahid Malik posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Shahid Malik:

Share

Category