19/08/2026
کمالبن، مالکنڈی اور لولوسر کو نیشنل پارک بنانے سے پہلے مقامی آبادی کے مستقبل پر بھی غور کیا جائے
کمالبن، مالکنڈی اور لولوسر ہماری پہچان، ہماری زمین، ہمارے چراگاہی وسائل اور صدیوں سے یہاں آباد مقامی لوگوں کی زندگی کا حصہ ہیں۔ قدرتی حسن، جنگلات، جنگلی حیات اور ماحول کے تحفظ کے لیے ان علاقوں کو نیشنل پارک قرار دینے کا مقصد بلاشبہ قابلِ احترام ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اس فیصلے سے مقامی آبادی کے حقوق، روزگار اور مستقبل پر کیا اثر پڑے گا؟
اگر نیشنل پارک بننے کے بعد مقامی لوگوں کو اپنی ہی زمینوں، چراگاہوں اور جنگلات کے استعمال سے روک دیا گیا، لکڑی، گھاس، جڑی بوٹیوں اور دیگر قدرتی وسائل کے حصول پر سخت پابندیاں عائد ہوئیں، تعمیرات، سڑکوں، گھروں، دکانوں اور سیاحتی کاروبار کے لیے اجازت ناموں کا پیچیدہ نظام نافذ ہوا تو سب سے زیادہ متاثر وہی لوگ ہوں گے جو نسلوں سے ان علاقوں میں رہتے آئے ہیں۔ آنے والے وقت میں زمین کی ملکیت، تعمیرات، مویشی پالنے، چراگاہوں کے استعمال، روزگار، سیاحت سے حاصل ہونے والی آمدن اور مقامی کاروبار جیسے معاملات بڑے مسائل بن سکتے ہیں۔
ہم تحفظِ ماحول اور جنگلی حیات کے خلاف نہیں۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ لولوسر اور ملحقہ علاقوں کا حسن ہمیشہ قائم رہے، لیکن تحفظ ایسا ہو جس میں مقامی آبادی شریکِ کار ہو، متاثرہ فریق نہ بنے۔ نیشنل پارک بنانے سے پہلے مقامی لوگوں سے باقاعدہ مشاورت کی جائے، ان کی ملکیتی زمینوں کے حقوق محفوظ کیے جائیں، روایتی چراگاہوں اور مقامی ضروریات کے لیے واضح پالیسی بنائی جائے، مقامی نوجوانوں کو روزگار اور سیاحت میں ترجیح دی جائے اور پارک سے حاصل ہونے والی آمدن کا مناسب حصہ علاقے کی ترقی پر خرچ کیا جائے۔اور یہاں پر بھی آبادی والی جگہوں پر پارک کے فیصلے کو واپس لیا جائے۔
قدرت بھی محفوظ رہے اور مقامی لوگوں کا مستقبل بھی۔
فیصلے بند کمروں میں نہیں، مقامی آبادی کو اعتماد میں لے کر ہونے چاہئیں۔ کیونکہ جس زمین اور ماحول کی حفاظت کی بات کی جا رہی ہے، اس کے اصل محافظ وہ لوگ بھی ہیں جو نسلوں سے یہاں رہتے آئے ہیں۔
نیشنل پارک ضرور بنائیں،لیکن صدیوں سے آباد لوگوں کی اراضی پر نہیں اور نہ ہی مقامی لوگوں کے حقوق اور مستقبل کی قیمت پر ۔
#کمالبن #مالکنڈی #لولوسر #سیاحت #ماحولیات