Khadim Resort

Khadim Resort Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Khadim Resort, Beach Resort, upper kachura, Skardu.

24/11/2021
24/11/2021
Graps
12/11/2021

Graps

Upper lake kachura
12/11/2021

Upper lake kachura

تم جیتو یا ہارو ہمیں تم سے پیار ھے ۔
12/11/2021

تم جیتو یا ہارو
ہمیں تم سے پیار ھے ۔

سفر کی داستانپارٹ“ بلتستان سفر داستان”کیا کبھی کچورا جھیل سے تنہائی میں ملے ہو ؟؟؟اگر نہیں تو کچورا جھیل کےپاس ایک رات گ...
01/11/2021

سفر کی داستان

پارٹ

“ بلتستان سفر داستان”

کیا کبھی کچورا جھیل سے تنہائی میں ملے ہو ؟؟؟

اگر نہیں تو کچورا جھیل کےپاس ایک رات گزار کر دیکھو سب سمجھ آجائےگا کہ میں کیا کہنا چاھتی ہوں۔ویسے وہ تو الگ بات ہے کہ میں نے کچورا جھیل پر چار راتیں گزار لیں۔

میں خود کو بہت خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ میں کچورا کے الگ رنگ دیکھ چکی ہوں جو شاید ایک ہی دن میں کچورا جھیل آکر دو تین گھنٹے میں واپس جانے والے نہیں دیکھ سکتے۔۔
مجھے یاد پڑتا ہے لاسٹ ائیر جب میں کچورا جھیل پہنچی تو اداس دل کے ساتھ واپس آگئی تھی، میں نے کچورا جھیل سے کہا کہ تم نے مجھے بہت زیادہ ڈس اپوائینٹ کیا ہے، تمہاری جتنی تعریف سنی ، میں نے تمہیں ویسا نہیں پایا۔۔
تو کچورا جھیل نے کہا کہ مسا میرے الگ الگ روپ ہیں، تم یہاں رات گزار لو پھر ملنا مجھ سے، میں نے بھی کچورا سے دوبارہ آنے کا وعدہ کیا اور واپس چلی گئی۔۔
اوراب اپنا وعدہ پوار کرنے آگئی کچورا جھیل کنارے رات گزارنے کے لیے۔۔۔
لاسٹ ائیر کچھ اور بھی بات ہوئی تھی ، کچورا جھیل کنارے کسی بینچ پر بیٹھے میں نے تھوڑا دور کچورا جھیل کے عین اوپر ایک ویو پوائینٹ دیکھا تھا یہ ایک ڈوک بنا تھا، وہیں دور ایک نارنجی رنگ کی کوئی بلڈنگ نظر آتی تھی، جو کہ ہوٹل تھی۔ اس کا نارنجی رنگ بہت اٹریکٹ کر رہا تھا، ابھی وہاں جانے کو سوچ ہی رہی تھی کہ وہاں کچھ نوجوان پہنچ چکے تھے جو شگل مستی کر رہے تھے۔۔ میں نے اُس پوائینٹ کو بھی مس کر دیا حالانکہ کچورا جھیل آنے والا کوئی بھی شخص یہ ویو پوائینٹ کبھی مس نہیں کرتا۔
وہ ویو پوائینٹ میں نے مس کیا، جس کا مجھے افسوس تو تھا لیکن میں فل مطمئن تھی کہ اس جگہ دوبارہ آنا ہے۔۔
اُس ویو پوائینٹ کا نام خادم ویو پوائینٹ اینڈ ریزارٹ ہے جیسے دو بھائی مل کر چلاتے ہیں ایک پرویز بھائی اور دوسرا شفقت بھائی، اور جو یہاں مزے کے کھانے بناتا وہ حسین ہے اور بہت زبردست ڈائیو لگاتا ہے۔
لاسٹ ائیر جو وعدہ جھیل سے کر آئی تھی اُس کو پورا کرنے کے لیے پرویز بھائی سے رابطہ کیا گیا۔
گاڑی پارکنگ ایریا میں روک دی گئی ، وہیں گلابی دکان نظر آئی۔ وہاں سے مجھے راستے یاد تھے ، میں جب سیڑھیوں کے پاس پہنچی تو ایک جامنی بورڈ پر نظر پڑی ، اُس بورڈ پر ہوٹل کا نام اور اُس کی سمت کے لیے تیر کا نشان بنایا گیا ہے۔ لیکن بورڈ کا ایک سائیڈ بلکل خالی ہے، میں نے مشورہ دیا کہ صفائی سے ریلیٹڈ کوئی الفاظ لکھ دیں۔
خادم ریزارٹ اور ویو پوائینٹ پر میں شام کے وقت پہنچی ۔ جھیل پر آس پاس کچھ لوگ تھے ، کوئی بوٹنگ کر رہا تھا تو کوئی جھیل میں نہا رہا تھا، کچھ ٹوراسٹ آتے اور گھوم پھر کر واپس جاتے۔۔ وہیں ہوٹل میں ایک جگہ ایک خیمہ نصب کیا ہوا تھا ، درخت کی چھاؤں میں ساتھ ہی کچھ کرسیاں رکھی تھی ، میں وہیں بیٹھ گئی اور اپنے سامنے نظارے انجوائے کرتی رہی، کچھ دیر تک میرے سامنے چیری رکھ دی گئی۔ چیری کا سیزن تو آلموسٹ ختم ہوچکا تھا لیکن پھر بھی یہاں کے لوگوں نے میرے لیے کہیں سے چیری ارینج کر لی تھی۔ میں نے سب سے پہلے تو تصاویر بنائی کیونکہ اچھی چیز کو کیپچر کرنا ضروری ہے، اُس کے بعد چیری کھائی اور خوب چیری کھائی۔۔
تھوڑی دیر تک پرویز بھائی آکر پوچھنے لگے کہ کیا پلان ہے ؟ آس پاس کہیں جانا ہے یا بوٹنگ کرنی ہے، میں نے اُن سے کہا کہ مجھے فلحال ڈسٹرب نہ کریں، بس کچھ وقت کے لیے تنہا چھوڑ دیں، وہ مجھے اکیلا چھوڑ کر چلے گئے، میں جانتی ہوں یہ چیز اچھی بھی نہیں، یہاں کے لوگ جس طرح محبت اورعزت سے بات کرتے ہیں ، اور میں نظاروں میں اتنی کھو جاتی ہوں کہ کسی وقت مقامی لوگوں سے تلخ ہوجاتی ہوں۔۔
کچھ دیر بعد وہ پھر آئے اور کہا میں جھیل کی صفائی کر کے آتا ہوں۔ میں نے پوچھا جھیل کی صفائی کیسے ؟؟
تو کہا میں نے یہاں پیڈل اور چکو چلانے والی کشتیاں رکھی ہوئی ہیں، اور ہر روز شام میں کسی ایک کشتی میں بیٹھ کر آہستہ آہستہ جھیل کی سیر کرتا ہوں اور جو بھی لوگ جھیل میں کچرا پھینک جاتے ہیں وہ کچرا سمیٹ کر اپنی کشتی میں لے آتا ہوں، مجھے یہ بات بڑی انٹرسٹنگ لگی اور میں نے کہا میں بھی آپ کے ساتھ آتی ہوں، ویسے مجھے پیڈل والی کشتی چلانے نہیں آتی، لیکن میں نے سوچا کیون نہ کچھ نئی چیز ٹرائے کرنی چاھئیے۔۔۔
میں اور پرویز بھائی پیڈل والی کشتی میں بیٹھ کر جھیل کی صفائی کو نکل چکے تھے۔۔۔ آس پاس جو جوس کے ڈبے، چپس کے ریپرز اور کولڈ ڈرنکس کی بوتلیں ملتی ہم وہ سمیٹتے اپنی کشتی میں رکھتے جاتے، مجھے اتنی زیادہ خوشی ہورہی تھی کہ میں بھی اس نیک کام میں اپنا حصہ ڈال رہی ہوں۔۔۔
وہیں یکدم سے بہت اسپیڈ میں ایک موٹر والی کشتی ہمارے پاس سے گزری اور اُس کی تیز رفتاری کی وجہ سے جھیل میں لاتعداد لہریں بننا شروع ہوگئی، اور ہماری پیڈل والی کشتی ڈگمگانے لگی، پر یہ لحمہ تھوڑی دیر کا تھا۔ میں نے سوچا کہ یہ موٹر والی کشتی میں تو یہ ٹوراسٹ کچھ بھی نہیں دیکھ پاتے ہونگے، اور جبکہ چکو چلا کر آپ کی ورزش بھی ہوجاتی ہے اور آپ بہت نظارے کر لیتے ہیں۔ موٹر والی کشتیوں پر مکمل پابندی لگانی چاھئیے کیونکہ اس کی وجہ سے جھیل کا پانی آلودہ اور خراب ہورہا ہے، اس جھیل میں رہنے والی ٹرواٹ مچھلیوں کے لیے بھی یہ موٹر والی کشتیاں اچھی نہیں۔۔۔
اگر میرے بس میں ہوتا تو اس پر پابندی لگا دیتی بس ایک درخواست ہی کرسکتی ہوں۔
یقین منائیے کہ پیڈل یا چکو والی کشتی میں آپ پچیس منٹ میں جھیل کا چکر لگا کر بہت کچھ محسوس کر لیتے ہیں جبکہ موٹر والی کشتی میں پانچھ منٹ میں کچھ بھی نہیں دیکھ یا محسوس کرتے ۔۔۔
خادم ریزاٹ کی ہر بات مجھے بہت پسند ہے ، یہاں کے کھانے، یہاں کے نظارے، لیکن ان کے پاس جو موٹر والی کشتی ہے مجھے اس پر اعتراض ہے۔۔۔
صرف اسی ہوٹل میں ہی نہیں بلکہ آس پاس کی ہر ہوٹل نے موٹر والی کشتیاں رکھی ہوئی ہیں۔۔۔

کچھ چیزیں اس جھیل کو خراب کر رہی ہیں جس پر یکدم
ایکشن لینا ضروری ہے ورنہ بہت دیر ہوجائے گی۔۔

نمبر ایک: جھیل میں موٹر والی کشتیوں پر مکمل پابندی۔
نمبر دو: یہاں کچھ مقامی لوگ فُل والیوم میں اسپیکر پر گانے چلاتے ہیں، جس سے باذوق ٹریولر بڑا ڈسٹرب ہوتا ہے اور یہ ماحولیاتی آلودگی میں آتا ہے، ان پر بھی پابندی ہونی چاھئیے۔۔
نمبر تین: اسکول کے بچے اور مقامی لوگ پیکنک منانے کے لیے اس جھیل پر آتے ہیں اور خوب کچرا پھینکتے ہیں ، اُن کے جانے کے بعد جب آپ نظر دوڑائیں تو جھیل میں ہر طرف چپس اور جوس کے ڈبے نظر آتے ہیں۔۔۔

ان باتوں پر کام کرنا ضروری ہے اور یہ یہاں کے مقامی لوگ ، جو کے ہوٹل انڈسٹری سے تعلق رکھتے ہیں وہی کچھ کر سکتے ہیں۔۔۔

اس جھیل کے منظر مختلف سے مختلف اور حیرت انگیز ہوتے جاتے ہیں۔ منظر کو سمجھانے کے لیے ہم جھیل کے کسی شام سے پہلے کا منظر سے شروع کرتے ہیں۔ شام سے تھوڑا پہلے جھیل پر رش لگی ہوتی ہے، کوئی بوٹنگ کر رہا ہوتا ہے تو کوئی تیراکی، کوئی گانے سن کر انجوائے کر رہا ہوتا ہے اور کوئی مچھلیاں پکڑتا نظر آتا ہے۔ کچورا جھیل اس وقت کافی پریشر میں ہوتی ہے ، لیکن یہ سب تھوڑی دیر کے لیے ہوتا ہے۔
شام ہوتے ہی عوام اپنے گھروں کو لوٹ جاتی ہے، جو لوگ فشنگ کر رہے تھے وہ مچھلیاں پکڑ کر واپس ہوجاتے ہیں، اچھا فشنگ پر یہاں لائسنس ہوتا ہے جو کہ چند ہوٹل والوں کے پاس ہوتا ہے ، اس سے پھر وہ اپنے گیسٹ کو فشنگ کرواتے ہیں۔
بوٹنگ کرنے والے بھی واپس اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔

مقامی لوگ بھی اپنے ہوٹل شوٹل بند کر کے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔
کچورا جھیل کے پانی پُرسکون ہوجاتے ہیں۔ اب صرف باذوق ٹریولر یہاں موجود ہوتے ہیں۔
شام کا منظر جب یکدم سے ٹھنڈی ہوا چلنے لگ جاتی ہے، شام ہوتے ہی اس جھیل کی لہریں ہل چل مچا دیتی ہیں، جیسے کہ یہاں آئےہوئے کسی ایک باذوق مسافر کو خوش آمدید کہتی ہوں۔ آج کچورا کے پانی خوب جھوم کر مجھے خوش آمدید کہہ رہے تھے، آج کا منظر صرف میرے لیے سجایا گیا تھا کیونکہ میرے علاوہ یہاں ہر شخص مقامی تھا۔ آج سورج غروب ہونے کا منظر ایسا تھا جس کو ایک بار دیکھنے کے لیے آپ بار بار دیکھنا چاہتے ہیں۔ میں نے سفید کرسی پر بیٹھے خود کو اس اینگل میں سیٹ کر لیا کہ کرسی پر ٹیک لگا کر تھوڑا لیٹ گئی، میری نظر اس خوبصورت منظر پر تھی۔ وہ سُرخ ہوتے بادل اور جھیل پر پڑتی سُرخ روشنی نے مزید ماحول بنا دیا تھا۔ ہاں میں اس بار کچورا کی محبت میں مست ہوئی ہوں۔ مجھے بلتستان کی اس شاندار و خوبصورت ترین جھیل سے محبت ہوچکی ہے ۔ یہ منظر دیکھ کر میں نے چند آنسو بھائے تھے، کچھ دیر بعد جب محمد کاظم ملنے آیا تو اداسی کی وجہ پوچھی ، اور میرے پاس بتانے کو کچھ نہیں تھا، میرے لیے یہ لوگوں کو سمجھانا مشکل ہوتا ہے کہ مجھے مناظر سے وائبس ملتی ہیں، کچھ پیغامات چھپے ہوتے ہیں ان مناظر میں، پھر میں سوچتی ہوں کہ میں کیا ہوں آخر ؟؟؟؟
کس لیے یہ دوڑ لگائی ہوئی ہے۔۔ آخر کیوں یہ خانہ بدوشی چُن لی ہے، پھر جواب ملتا ہے تم تو خاک ہو اور خاک ہوجاؤ گی۔خاک ہونے سے پہلے اپنی درویش روح کو کچھ اپ گریڈ ورژن تک لانا چاہتی ہوں۔۔
محمد کاظم کو تو آپ سب جانتے ہونگے۔۔۔ نہیں جانتے ؟ چلیں تھوڑی دیر تک بتاتی ہوں۔۔۔

کچورا آتے مجھے چند لوگ ملے جنہونے کہا کہ کچھ اچھا لکھ دئیجے گا، میں نے جواباً کہا کہ مجھے معاف کئیجے یہ میرے بس کی بات ہی نہیں۔۔۔ کچورا گاؤں ، کچورا جھیل اور یہاں کا ماحول مجھے جو کچھ دے گا وہی لفظ بنتے جائیں گے، لیکن اب کہتی ہوں کہ میرا قلم شاید کچورا سے انصاف نہ کر سکے، اگر لفظ خوبصورتی بیان نہ کر سکے تو تصاویر اُس کی بھرپائی کر دیں گی۔

یہاں لوگ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، یہاں اسٹے بہت کم لوگ کرتے ہیں۔
کم لوگ یا یہ کہنا دُرست ہوگا کہ ایک دو لوگ۔
آج رات میں بھی یہیں موجود تھی ، رات ہوتے جھیل کےپانی چمکنے لگے جیسے آسمان سے ستارے اُتر کر کچورا جھیل کے پانیوں پر سجا دئیے گئے ہوں۔ آس پاس کے درخت مزید ماحول کو پُر اسرار بنا دیتے ہیں۔۔۔
ویو پوائینٹ پر جو لائٹنگ جلائی ہوئی تھی ، میں پرویز بھائی سے درخواست کر کے وہ لائیٹس بھی بند کروا دی تاکہ بہتر ین طرح سے آسمان اور ستارے دیکھ سکوں۔۔
یہ رات گزارنے کے بعد کل صبح کا جھیل کا منظر منتظر تھا۔
دور برف پوش پہاڑوں پر سورج کی پہلی کرن پڑتے ہی یہاں آس پاس پرندے اور چیڑیاں گنگناے لگی تھی۔
جھیل کا پانی اس قدر صاف تھا کہ جھیل کے اندر کے پودے اور پتھر تک نظر آرہے تھے، آسمان اور درختوں کا رنگ مل کر جھیل کہیں سے فیروزی نظر آتی تو کہیں زمرد جیسے رنگ تھے۔
میں کچورا کے فیروزی اور زمرد پانیوں کے رنگ میں مست تھی ۔
گولڈن ٹراوٹ بھی پانی میں گھومتی نظر آتی۔ شدید قسم کے خاموشی لیکن اس خاموشی میں بھی ہر ایک چیز بات کر رہی تھی، کچورا جھیل کی طرف متوجہ ہوں تو وہ باتیں کرتی ، تھوڑا اور دھیان دیں تو جھیل کے اندر کے پودے اور پتھر بھی باتیں کرتے، جھیل میں تیرتی مچھلیاں بھی اپنے رنگ دکھاتی ، مجھے کوئی نہ کوئی الگ سبق پڑھاتی، یہاں تک کے یہاں موجود ہر پہاڑ ، ہر درخت ، ہر پھول اور ہر پتہ پتہ کچھ نہ کچھ کلام کرتا اور اپنے بنانے والے کی حمد اور ثنا کرتا تھا۔۔۔

••••

یہ اچھا ہوگا اگر کچورا جھیل تک راستے بن جائیں، پر میں اس کے فیور میں نہیں ہوں، میں اس جھیل کی خوبصورتی کو ہمیشہ ایسا ہے دیکھنا چاہتی ہوں، کچورا گاؤں میں ایس کام کے نیٹورک پر فور جی انٹرنیٹ چل جاتا ہے پر جب آپ جھیل پر پہنچتے ہیں تو انٹرنیٹ کو بھول جائیں، میں خوش ہوں یہاں انٹرنیٹ نہیں ، میں اور میرے جیسے چند لوگ یہاں ماحول کو محسوس کرنے آتے ہیں، اگر انٹرنیٹ ہوگا تو وہ سب ہمیں نہیں مل سکے گا جس کے لیے ہم شہروں سے یہاں پہاڑوں کا رُخ کرتے ہیں۔۔۔

خادم ریزارٹ پر اپنے چار دن کے اسٹےکو کس طرح بیان کروں کہ یہ میرے لیے ممکن نہیں، بس چند جملے اپنے خوبصورت لحموں کو لکھ رہی ہوں کہ جس کو پڑھ کر میرے جیسا انسان ایک بار یہاں آکر رات ضرور گزارے گا۔۔۔

یہ چند دن میرے لیے ایسے تھے جیسے میں بلتستان میں اپنوں کے بیچ ہوں، کچورا جھیل پر ندیم اور اُس کا دوست ، جو رات میں ڈور ڈال کر مچھلیاں پکڑتے اور میں اُنہیں دیکھتی رہتی، پھر جب کوئی بڑی مچھلی پکڑتے تو خوش ہوکر کہتے مسا باجی ہم نے مچھلی پکڑا ہے۔ اورمیں اُنہیں شاباش کہہ کر حوصلہ افزائی کرتی۔ اب ان بچوں کا مجھ سے کیا تعلق ہے کہ وہ اپنی خوشی مجھ سے بانٹ رہے ہیں ، اورمیرا کیا رشتہ ہے ان سے کہ ان کے مچھلی پکڑتے ہی مجھے ایسے خوشی ہوتی ہے جیسے میرے چھوٹے بھائیوں نے مچھلی پکڑی ہو، زندگی سے آخر کیا چاھئیے بس یہ چند قیمتی لحمے، جنہیں جی کر اندر خوش اورمطمئن ہوتا ہے۔
ندیم کے بارے میں بتاتی چلوں کہ یہ ایک مسکراتا ہوا لیکن حد سے زیادہ شرمیلا بچہ ہے، لاسٹ ائیر جب میں کچورا جھیل پہنچی تب بھی اس سے ملاقات ہوئی ، اسے مچھلی پکڑتے دیکھ میں نے اس کا چھوٹا وڈیو کلپ بنایا تھا، اور اس بار ندیم سے ملتے میں سوچتی رہی کہ یہ مسکراہٹ تو میں پہلے دیکھ چکی ہوں، پر کہاں؟؟ کچھ یاد نہیں آتا تھا لیکن چوبیس گھنٹے دماغ پر زور دینے سے یاد آیا کہ میں ندیم سے لاسٹ ائیر جھیل پر ہی ملی تھی۔۔ بس پھر کیا تھا، ندیم کو بُلا کر اُس سے پوچھا گیا کہ کیا تم نے مجھے پہلے بھی دیکھا ہے، تو ہنس کے کہتا ہے ہاں مسا باجی آپ سے میں ملا تھا پچھلے سال۔ میں نے کہا واہ ماشاءاللہ تمہاری میموری تو بڑی تیز ہے۔ میں نے اُسے بتایا کہ تمہارا وڈیو کلپ میرے پاس موجود ہے اگر تم مجھے اس بار بھی ایک چھوٹا سا انٹرویو دینا پسند کرو ،
تو وہ ہنستے ہوئے بھاگ گیا۔۔۔
اور تین دن تک اُس کو مناتی رہی لیکن مجال ہے کہ وہ دوبارہ میرے سامنے آیا ہو۔۔
خیر لیکن میں نے اُس کی ایک دو تصاویر بنا لی تھی جو کہ آپ البم میں چیک کر سکتے ہیں۔۔۔

••••

چلیں اب کچھ معلوماتی باتیں بھی کر لیتے ہیں، میں جانتی ہوں مجھے پڑھنے والے اہلِ علم ہیں لیکن پھر بھی تحریر میں جھیلوں کا ذکر ہو اور اُن کی معلومات نہ دی گئی ہو تو زیادتی ہے، ویسے یہ ساری معلومات آپ کو گوگل سے بھی مل جائے گی، میری کوشش ہے کہ میں آپ کو بور نہ کروں ۔۔۔۔

کچورا صرف ایک جھیل نہیں ہے بلکہ یہاں کافی گاؤں ہیں، جہاں کے لوگ مھمان نواز اور سچے ہیں۔
کچورا کا نام جب بھی آتا ہے تو دو الفاظ مزید مل جاتے ہیں، اپر کچورا اقر لوئر کچورا۔

لوئر کچورا :

لوئر کچورا اصل میں مشہور ہوٹل شنگریلا کے اندر نظر آنے والی جھیل ہے ، یہ ہوٹل بہت خوبصورت ہے خاص کر کے رات کے وقت، یہاں جو جھیل ہے وہ مین میڈ ہے۔
لوئر کچورا میں صرف شنگریلا نہیں آتا بلکہ اوربھی بہت کچھ ہے جو آپ آگے پڑھ لئیجے گا۔

اپر کچورا:

یہ وہی جھیل ہے جس کے لیے میں کہتی ہوں کہ یہاں رات گزار لیں۔ یہ جھیل صاف شفاف پانیوں کی ایک خوبصورت ترین نیچرل جھیل ہے ، یہاں کا ہر منظر الگ ہوتا ہے۔
اس جھیل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ جھیل پہلے اس جگہ موجود نہ تھی بلکہ کچورا کا ایک اور گاؤں غازی آباد وہاں تھی، پھر لینڈ سلائیڈ ہوئی ، سیلاب آیا اور وہ جھیل کے پانی وہاں سے یہاں آگئے، میں وہ مقام بھی دیکھنے گئی ، وہ جگہ ایسے ہی لینڈ اسکیپ پر موجود ہے جیسے پر یہ جھیل ہے ، بس وہاں درخت اور باغیچے ہیں۔۔۔
وہاں کے دو مقامی لوگوں سے بھی ملاقات ہوئی،جن کے نام علی خان اور حاجی غلام جن کی عمر 72 اور 92 سال ہے ، اُن کےمطابق یہ سب من گھڑت کہانیاں ہیں جن کی کوئی سچائی نہیں۔ اور یہ بھی کہا کہ ہم بھی یہ کہانیاں سنتے بڑے ہوئے ہیں ہر حقیقت کیا ہے ہمیں خود معلوم نہیں۔ اور یہ بھی بتایا کہ یہیں کہیں دور ایک پتھر ہے جو حضرت عیسیٰ کے زمانے کا ہے، اُس پر کچھ لکھا ہے پر ہم میں سے کسی کو پڑھنا نہیں آتا۔۔۔

••••

ہم سب کی زندگیوں میں کوئی نہ کوئی خوف ضرور ہوتا ہے چاہے ہم کتنے بہادر کیوں نہ بن جائیں۔ مجھے پانی سے خوف ہے اس لیے اس بار اُس کو ختم کرنے کے لیے میں کوشش کر رہی ہوں، ہاتھ سےچلانے والی بوٹ میں بیٹھ کر بیچ جھیل میں پہنچ گئی اور اکیلی گئی تاکہ پانیوں کے قریب ہوسکوں، میرا یہ تجربہ اچھا رہا، وڈیوز میں آپ دیکھ سکیں گے انشاءاللہ ۔۔

؀مساتالپور

پی ایس:

اگلی قسط میں سوک ویلی کا ذکر ہوگا اور میری بیماری کا۔۔۔
میری حالت پہلے سے بہتر ہے۔ دعا میں یاد رکھئیے گا۔

“””””” جاری ہے “”””””

Address

Upper Kachura
Skardu

Telephone

+923455981788

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Khadim Resort posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Khadim Resort:

Share

Category