Hotel White Palace (Swat), Pakistan

Hotel White Palace (Swat),  Pakistan Its all about news and issues of community from Swat Situated at 7000 feet above sea level on Marghazar Hill Swat , Pakistan

10/11/2025

غالباً یہ وڈیو PKLI لاہور کی ہے
جہاں ایک مریض جو زندگی موت کے کشمکش میں ہے اسے ڈاکٹر صاحب پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت مبارک سنا رہا ہے ساتھ اسکا ٹریٹمنٹ بھی اور وہ مریض پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں جھوم رہا ہے اپنی بیماری کو بھول کر
اللہ ایسے اسٹاف کو بھی اپنی امان میں رکھے اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے مریضوں کو صحت و تندرستی عطا فرمائے۔
بہت خوشی ہوئی یہ عمل دیکھ کر

خاتون نے جوان بیٹے کے گردے عطیہ کردیے، میت خود لیکر اسپتال پہنچیکراچی کی باہمت خاتون پروفیسر ڈاکٹر مہر افروز نے ٹریفک حا...
08/11/2025

خاتون نے جوان بیٹے کے گردے عطیہ کردیے، میت خود لیکر اسپتال پہنچی

کراچی کی باہمت خاتون پروفیسر ڈاکٹر مہر افروز نے ٹریفک حادثے میں جاں بحق نوجوان بیٹے کے دونوں گردے سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) کو عطیہ کر دیے۔

ڈان نیوز کے مطابق کراچی کی باہمت خاتون پروفیسر ماں نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے انسانیت کی خدمت کی مثال قائم کر دی، ڈاکٹر مہر افروز نے ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہونے والے اپنے 23 سالہ بیٹے سلطان ظفر کے دونوں گردے عطیہ ایس آئی یو ٹی کو عطیہ کیے۔

ڈاکٹر مہر افروز ایس آئی یو ٹی کی نیفرولوجی اسپیشلسٹ اور ایسوسی ایٹ پروفیسر بھی ہیں، خاتون پروفیسر نے بیٹے کی موت کے بعد اعضا عطیہ کرنے کا جرات مندانہ فیصلہ کیا، گردے دو مریضوں میں کامیابی سے ٹرانسپلانٹ بھی کر دیے گئے۔

ہسپتال انتظامیہ کے مطابق ‏ایس آئی یو ٹی کے ماہر یورولوجسٹ اور اینستھیٹسٹ کی ٹیم نے سرجری میں حصہ لیا۔

ایس آئی یو ٹی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر ادیب رضوی نے کہا کہ مرحوم کے خاندان کا یہ اقدام قابلِ ستائش ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاشرے کو اس عمل کی پیروی کرنی چاہیے، مریضوں کے اہلِ خانہ میں کوئی ڈونر نہ ہونے پر انہیں انتظار کی فہرست میں رکھا گیا تھا، ڈاکٹر کی جانب سے گردے عطیہ کرنے کے فیصلے پر ٹرانسپلانٹ کر کے 2 افراد کی جان بچائی گئی ہے۔

30 جولائی
2025

سوات سے اسلام آباد:  نیورو سرجن پروفیسر ڈاکٹر عنایت اللہ خان کی لالچسوات سےہم، سر کی شدید چوٹ کا مریض لے کر نکلے  پہلے پ...
04/11/2025

سوات سے اسلام آباد: نیورو سرجن پروفیسر ڈاکٹر عنایت اللہ خان کی لالچ

سوات سےہم، سر کی شدید چوٹ کا مریض لے کر نکلے پہلے پشاور اور پھر اسلام آباد ۔ پشاور کے سینیئر ڈاکٹر نے تجویز کیا : "اسلام آباد جائیں، پروفیسر ڈاکٹر عنایت اللہ خان، نیورو سرجن، کو چیک کروائیں" پشاور سے ٹیسٹ کروا لیے تھے، فوری اسلام آباد پہنچے۔ ڈاکٹر عنائیت اللہ خان نیورو سرجن کی فون پر اپائنٹمنٹ لی۔
ڈاکٹر صاحب کے کمرے میں داخل ہوئے تو ہمارا سادہ لباس ان کی نظر میں غریبی کی نشانی بن گیا۔ مریض کو سرسی سا دیکھا، رپورٹس بھی نہ دیکھیں اور بولے "تم لوگ یہ علاج برداشت نہیں کر سکتے۔" ان کی آواز میں توہین تھی۔ مریض کی خاطر صبر کیا: "نہیں ڈاکٹر صاحب، ہم برداشت کر سکتے ہیں۔ آپ ادائیگی کی فکر نہ کریں۔"

پھر شروع ہوا تماشا۔ پشاور کی تازہ رپورٹس ہاتھ میں تھیں ، مگر حکم ہوا"سب ٹیسٹ دوبارہ کرواؤ۔" ایک خاص لیب تجویز کی، اصرار کیا کہ صرف اسی لیب کی اسی برانچ سے دوبارہ ٹیسٹ کرواؤ، وہی! ٹیسٹ ہوئے، رپورٹس وہی کوئی تبدیلی نہ تھی ۔
پھر اپنی بتائی لیب کی رپورٹس دیکھ کر ایک ہفتہ بعد سرجری تجویز کی
اس ایک ہفتہ سرجری سے قبل کے لئیے دوائیوں کی پریسکرپشن ملی۔ میڈیکل سٹور پہنچے تو فارماسسٹ ہنس پڑا "ڈاکٹر عنایت جو دوائیاں دیتے ہیں، وہ صرف وہیں سے ملتی ہیں۔ آپ اُسی جگہ جائیں، یہ کہیں اورنہیں ملیں گی ، یا پھر کیمسٹ سٹور بھی وہ خود بتاتے ہیں،یہ علاج تھا یا دھوکہ؟ ہمیں شک اُٹھا، فوری اسلام آباد کے ایک آرتھوپیڈک ڈاکٹر کو فون کیا جو سوات سے ہیں۔ کچھ دیر بعد ان کی کال بیک آئی انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر عنایت اب لالچ میں ڈوب گئے ہیں۔ فوری دوسرے ڈاکٹر کے پاس جاؤ۔" راستہ بدلا، اللہ کی مہربانی سے مریض ٹھیک ہو گیا۔

مگر ڈاکٹر کا لالچ، ہمیں لرزاتی ہے۔ کپڑوں سے فیصلہ، خاص لیب اور مخصوص دوائیاں، مریض کی بجائے جیب کی فکر۔ یہ سب آگاہی کے لیے،تاکہ کوئی اور جال میں نہ پھنسے۔ اللہ ہمیں ایسے "ڈاکٹروں" سے بچائے، جو جانوں کو کاروبار بنا دیں۔

Address

Hotel White Palace Marguzar
Swat
44000

Telephone

+923429607644

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hotel White Palace (Swat), Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Hotel White Palace (Swat), Pakistan:

Share