Al-Hind family dhaba and restaurant

Al-Hind family dhaba and restaurant Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Al-Hind family dhaba and restaurant, Hotel, nh 28 mawai ayodhya, Barabanki.

12/08/2025
12/08/2025
11/08/2025
11/08/2025
07/08/2025

جنرل ضیاء الحق کا ظالمانہ دور
وہ دور جب پاکستان میں تمام بھارتی میڈیا پہ پابندی تھی ۔ ٹی وی پہ ایک چینل ہوتا تھا اور نیوز کاسٹر سرپہ دوپٹہ رکھ کہ آتی تھیں ۔

ٹی وی نشریات شام چار بجے سے رات گیارہ بجے تک ہوتی ۔
نشریات کا آغاز اور اختتام تلاوت کلام پاک ، حمد اور نعت سے ہوتا ۔

چوری ، زنا کی بہت سخت سزائیں تھیں اور ملک میں مکمل امن و امان تھا ۔

ایک روپے کا بن کباب ملتا تھا اور پانچ روپے کا تو بس ایسا بہترین برگر ملتا تھا کہ کھاتے رہ جاؤ ۔
تندور پر روٹی آٹھ آنے کی ملتی تھی اور دس روپے میں ایک مزدور آرام سے دو وقت کا کھانا کھا لیتا تھا ۔
دوکانوں پر سوئی سے لیکر ہاتھی تک کے نرخ نامے لگے ہوتے اور مجال کہ کوئی ایک دھیلا پیسہ بھی زیادہ لے لے ۔

تمام سیاسی پارٹیوں پہ پابندی تھی اور عوام کو گمراہ کرنے والے سیاستدان جیل میں تھے ۔
سرکاری سکول فیس 10 روپے ماہانہ تھی اور پرائیوٹ سکول فیس 30 روپے ماہانہ۔

سکول میں پڑھایا جانے والا نصاب سخت جانچ پڑتال سے گزرتا اور اسلام مخالف اور پاکستان مخالف کوئی چیز بچوں کو نہ پڑھائی جاتی ۔

کالج میں ایک مہینہ فوجی ٹریننگ ہوتی جس میں حصہ لینے والوں کو بیس اضافی نمبر ملتے ۔
پاکستانی برانڈ کمپنیوں کو تحفظ حاصل تھا۔

ملک کی اپنی پولکا آئس کریم ، آر سی کولا ، بنایا ٹوتھ پیسٹ ، فوجی کارن فلیکس ۔ ناصر صدیق گلاس ، رہبر واٹر کولر ، پرافیشنٹ موٹر کار ، یعصوب ٹرک ، پاکستان 🇵🇰میں عام نظر آتے ۔

دور دراز گاؤں میں مسجد فجر اور ظہر کے درمیان سکول کے طور پہ استعمال ہوتی ۔

تعلیم بالغاں کیلئے نئی روشنی سکول شام کو کھلتے ۔

انہی کے دور حکومت میں شریعت عدالت بنی جس میں ایک مقدمے میں سود کو حرام اور قابل سزا جرم قرار دیا گیا !

جب وہ شہید ہوے تو کرایہ کے گھر میں تھا اس کا اپنا گھر نہیں رہ گیا ۔ اور دوسرا ان کا حساب اکاؤنٹ میں صرف بیس ہزار روپے تھے اپنی تنخوا کے۔۔ افغان جنگ کو جتنا ڈالر آتا تھا ان میں ضیا صاحب نے ایک بھی نہیں کھایا ہے ۔۔

پھر 1988 میں جنرل ضیاء الحق ایک پراسرار حادثے میں شہید ہو گئے
اور بینظیر بھٹو کا دور شروع ہوا ۔
سب سے پہلے بینظیر نے ضیاء الحق کی تمام اسکیمیں بند کیں ، جن میں مسجد سکول اور نئی روشنی سکول شامل تھے ۔

پھر زنا کی سزا حدود آرڈیننس پاس کرا کہ ختم کر دی ۔

اور تعلیم مہنگی ہوتی گئی اور وہ سب کچھ ہوتا گیا کہ اللہ کی پناہ ۔

اس کے بعد نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں حکومت نے آرڈیننس پاس کر کے شرعی عدالت کو ختم کر دیا اور سود کے حرام اور قابل سزا جرم کے شرعی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ لیجایا گیا جو کہ آج تک اسٹے پر ہے بلکل اسی طرح جس طرح کچھ حکومتیں اور وزارتیں پہلے اسٹے پر چلتی رہیں اور اسی اسٹے کی آڑ میں سود کا کام کھلے عام یعنی اللہ زولجلال اور اور اس کے نبی ؐ سے جنگ کھلے عام

جنرل ضیاء ایک ملٹری ڈکٹیٹر تھا مگر ساری دنیا کا کفر اس سے کانپتا تھا
۔ اپنے ملک کےسارے شیاطین اس کے دور حکومت میں زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے ۔

ہمیں فخر ہے آپ پہ جنرل ضیاء الحق شہید
اللہ آپکو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے
آمین 🇵🇰


__________________
جبین۔۔۔

Address

Nh 28 Mawai Ayodhya
Barabanki
225001

Telephone

+918528289328

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al-Hind family dhaba and restaurant posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category