Nayi Jung web news

Nayi Jung web news साहित्य, संस्कृति, विचार-दर्शन, समाचार Let us pray and hope for the unity and Renaissance of the human values in world's peace.!

31/10/2024

गर्द-आलूद है आईना, इधर कांच की दीवार भी है
कैसे बतलाऊँ कि चेहरे पे कोई दाग़ नहीं
रंजन ज़ैदी

10/04/2024

Dr. Z. A. Zaidi Ranjan Zaidi
सोम, 18 मार्च, 5:30 pm
THE

فیروز ظفر کی خوبصورت شاعری
ڈاکٹر رنجن زیدی
طالب علمی کے دور میں ھم نے کہیں پڑھا تھا کہ شاعری حیات سے پیدا ہوری ہے اور حیات کے لئے ہی زندہ رہتی ہے- یہ قول شاید میتھیو آرنلڈ کا رہا ہوگا-کیونکیہ اسی نے شاعری کے اصل اصول کو حیات کی ترجمانی میں تلاشہ تھا اور وضاحت میں بتایا گیا کہ اخلاق سے بغاوت در اصل حیات سے بغاوت ہے-جو شاعری اخلاق کو پیش نظر نہیں رکھتی اس میں حیات کا لحاظ بھی نہیں ہو سکتا-یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ واعظ اور شاعر میں اتنا ہی فرق ہے جتنا ایک ٹریں کی دو پٹریوں میں ہوتا ہے- اسکے باوجود دونوں کے بیچ اخلاق اورمنافا ت قایم رہتا ہے تبھی، ٹرین سمودلی پٹریوں پر دوڑتی رہتی ہے-
یہ ربط حسن و عشق تو دیکھو کہ رات بھر
وہ مجھ میں جاگتا رہا، میں اسمیں سو گیا
(فیروز ظفر)
یہاں یہ شعرمقففی انشا ہے-مین نے یہاں اس کا ذکر اسلئے کیا ہے کہ اس فن کا تصور ہمارے سامنے آے اورہم اسے سمجھ سکیں کہ یہ جو تعقل اور تخیل کی مدد سے انبساط کا پیوند صداقت کے ساتھ لگاتا ہے، جو ساینس کےمدد مقابل ہے اور اسکا راست مقسد ے انبساد -یہ نذریعہ میرا نہیں ڈاکٹر جانسن اورکللرج کا ہے-( بیوگریفیالٹریریا، باب ١٤)
بات بڑی لگ سکتی ہے لیکن طرز انداز یا رنگ و بو کے سفر میں جو خوشبو ہم میر کے اس شعرمیں محسوس کر سکتے ہیں وہ، حسرت یا مجروح میں نہیں-
دل وہ نگر نہیں کہ پھر آباد ہو سکے
پچھتاؤگےسنو ہو یہ-یہ بستی اجاڈ کے
(میر تقی میر)
'خوشبو سفر میں ہے' کا شاعرفیروز ظفر اپنی غزل (صفہ ٣٠ پر) میں لکہتا ہے ---
روشنی جب جب ہوئی کم میری دھرتی پر ظفر
میں نے آنکھوں سے لہو چھلکایا بھارت لکھ دیا
--------
پیار ھے دھوکا عشق بغاوت مہر و وفا سب دنیاداری
قد کے برابر آ گئے بچچے اب کہنے سے کیا ہوگا
(فیروز ظفر)
فیروز ظفر کا یہ پہلا شعری مجموعہ نہیں ہے -شاید، شہرگل انکا پہلا مجمع تھا-کانٹوں کی خوشبو، گل تہہ خاک، اور پھول تمہارے خار ہمارے (1955) کے بعد لکھنے کا تسلسل دھیما پڈ گیا، اپنے شعر میں انہوں نے اپنی جس خواہش کا اظہارکیا ہے وہ کچھ یوں ہے-
میرے بیٹے میری میراث سخن کے وارث
لو اٹھاو یہ میرے لوح و قلم رکھے ہیں
جدید انقلاب کے آغاز سے کچھ عرصۂ قبل جہاں شاہنامہ کا ترجمہ اردو میں کیا گیا وہیں اردو میں ہی 'مہابھارت' اور 'رام چرت مانس' کے ترجمے بھی کئیے گئے-لا حاصل یہ کہ کوئی بلند پہ کی تخلیق سامنے نہیں آ سکی -حالانکہ منشی جوالا پرساد برق کی نظم 'پدمنی کا جوہر' یا سرورکی نظم 'چتتوڑکی گزشتہ عظمت' کا ذکر بطور تمثیل کیا جا سکتا ہے-ڈاکٹر راہی معصوم رضا نے
'مہابھارت' کو سلولائیڈ پر بھی ابھارا اور١٨٥٧ کے انقلاب کو بھی اپنا منظوم موضوع چنا- فیروز فرشوری کہتے ہیں،
خون اپنا ہو یا پرایا ہو، خون کا رنگ لال ہوتا ہے
قتل مغرب میں ہو کہ مشرق میں طایردل حلال ہوتا ہے
(فیروز ظفر/٩٧)
'خوشبو سفر میں ہے'فیروز ظفر کا تازہ مجموعه کلام ہے-اردوکی تاریخ کے ہر دور میں ادب کی سرزمین بدایون میں عظیم موررخ ، دانشور، ناقدین ، ادیب محققق اور شاعر پیدہ ہوتے رہے ہیں-فیروز ظفر اسی کڈی کا ایک باشعورشیر ہے. جو کہتا ہے--
اک سڈک اک جسم بھیگی رات بجلی کی چمک
مین نے اس منظر کو دیکھا اور ضرورت لکھ دیا
(فیروز ظفر)
چونکہ فیروزغزل کا شاعر ہے اسلئے اسکی شاعری میں تعریف کے سوا حسن و عشق کا سمندربھی انگڑاییاں لیتا رہتا ہے- اسکی غزل کا معنوی امتیاز بھی حسن و عشق کے رزم میں تصوف، اخلاق اور حکمیان مضامین شامل نظر آتے ہیں- غور و فکر کی آنچ میں سلگتی رہنے والی ظفر کی شاعری اوڑھی ہوئی جدّت کا فن نہیں، صحتمند تشکیک مروجہ راستوں کی دیوار جیسی ہے جس سے سر ٹکرانا عمرعزیز کو رایگان کر دینے یا زخموں سے بھر دینے جیسا ہے- شاہد صددیقی نے کہا تھا، 'روشنی میں ڈھلتی ہے دل کے خون میں سرخی
تب کہیں سرے مژگاں اک چراغ جلتا ہے'
بقول صغیر احمد صددیقی کے کہ-'سچچی شاعری واقعی ایک نعمت ہے- بقول ماسٹررونق بدایونی کے (جو فیروز ظفرکے استاد بھی تھے) 'وقت قطروں کو سکھا دیتا ہے طوفان ہونا-'
--------------------------
٩٤ فرسٹ فلور، آشیانہ گرینس، آهنسہ کھنڈ-٢، اندراپرم، غازیآباد ٢٠١٠١٤ اتر پردیش ، بھارت

09/04/2024

فیروز ظفر کی خوبصورت شاعری
ڈاکٹر رنجن زیدی
طالب علمی کے دور میں ھم نے کہیں پڑھا تھا کہ شاعری حیات سے پیدا ہوری ہے اور حیات کے لئے ہی زندہ رہتی ہے- یہ قول شاید میتھیو آرنلڈ کا رہا ہوگا-کیونکیہ اسی نے شاعری کے اصل اصول کو حیات کی ترجمانی میں تلاشہ تھا اور وضاحت میں بتایا گیا کہ اخلاق سے بغاوت در اصل حیات سے بغاوت ہے-جو شاعری اخلاق کو پیش نظر نہیں رکھتی اس میں حیات کا لحاظ بھی نہیں ہو سکتا-یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ واعظ اور شاعر میں اتنا ہی فرق ہے جتنا ایک ٹریں کی دو پٹریوں میں ہوتا ہے- اسکے باوجود دونوں کے بیچ اخلاق اورمنافا ت قایم رہتا ہے تبھی، ٹرین سمودلی پٹریوں پر دوڑتی رہتی ہے-
یہ ربط حسن و عشق تو دیکھو کہ رات بھر
وہ مجھ میں جاگتا رہا، میں اسمیں سو گیا
(فیروز ظفر)
یہاں یہ شعرمقففی انشا ہے-مین نے یہاں اس کا ذکر اسلئے کیا ہے کہ اس فن کا تصور ہمارے سامنے آے اورہم اسے سمجھ سکیں کہ یہ جو تعقل اور تخیل کی مدد سے انبساط کا پیوند صداقت کے ساتھ لگاتا ہے، جو ساینس کےمدد مقابل ہے اور اسکا راست مقسد ے انبساد -یہ نذریعہ میرا نہیں ڈاکٹر جانسن اورکللرج کا ہے-( بیوگریفیالٹریریا، باب ١٤)
بات بڑی لگ سکتی ہے لیکن طرز انداز یا رنگ و بو کے سفر میں جو خوشبو ہم میر کے اس شعرمیں محسوس کر سکتے ہیں وہ، حسرت یا مجروح میں نہیں-
دل وہ نگر نہیں کہ پھر آباد ہو سکے
پچھتاؤگےسنو ہو یہ-یہ بستی اجاڈ کے
(میر تقی میر)
'خوشبو سفر میں ہے' کا شاعرفیروز ظفر اپنی غزل (صفہ ٣٠ پر) میں لکہتا ہے ---
روشنی جب جب ہوئی کم میری دھرتی پر ظفر
میں نے آنکھوں سے لہو چھلکایا بھارت لکھ دیا
--------
پیار ھے دھوکا عشق بغاوت مہر و وفا سب دنیاداری
قد کے برابر آ گئے بچچے اب کہنے سے کیا ہوگا
(فیروز ظفر)
فیروز ظفر کا یہ پہلا شعری مجموعہ نہیں ہے -شاید، شہرگل انکا پہلا مجمع تھا-کانٹوں کی خوشبو، گل تہہ خاک، اور پھول تمہارے خار ہمارے (1955) کے بعد لکھنے کا تسلسل دھیما پڈ گیا، اپنے شعر میں انہوں نے اپنی جس خواہش کا اظہارکیا ہے وہ کچھ یوں ہے-
میرے بیٹے میری میراث سخن کے وارث
لو اٹھاو یہ میرے لوح و قلم رکھے ہیں
جدید انقلاب کے آغاز سے کچھ عرصۂ قبل جہاں شاہنامہ کا ترجمہ اردو میں کیا گیا وہیں اردو میں ہی 'مہابھارت' اور 'رام چرت مانس' کے ترجمے بھی کئیے گئے-لا حاصل یہ کہ کوئی بلند پہ کی تخلیق سامنے نہیں آ سکی -حالانکہ منشی جوالا پرساد برق کی نظم 'پدمنی کا جوہر' یا سرورکی نظم 'چتتوڑکی گزشتہ عظمت' کا ذکر بطور تمثیل کیا جا سکتا ہے-ڈاکٹر راہی معصوم رضا نے
'مہابھارت' کو سلولائیڈ پر بھی ابھارا اور١٨٥٧ کے انقلاب کو بھی اپنا منظوم موضوع چنا- فیروز فرشوری کہتے ہیں،
خون اپنا ہو یا پرایا ہو، خون کا رنگ لال ہوتا ہے
قتل مغرب میں ہو کہ مشرق میں طایردل حلال ہوتا ہے
(فیروز ظفر/٩٧)
'خوشبو سفر میں ہے'فیروز ظفر کا تازہ مجموعه کلام ہے-اردوکی تاریخ کے ہر دور میں ادب کی سرزمین بدایون میں عظیم موررخ ، دانشور، ناقدین ، ادیب محققق اور شاعر پیدہ ہوتے رہے ہیں-فیروز ظفر اسی کڈی کا ایک باشعورشیر ہے. جو کہتا ہے--
اک سڈک اک جسم بھیگی رات بجلی کی چمک
مین نے اس منظر کو دیکھا اور ضرورت لکھ دیا
(فیروز ظفر)
چونکہ فیروزغزل کا شاعر ہے اسلئے اسکی شاعری میں تعریف کے سوا حسن و عشق کا سمندربھی انگڑاییاں لیتا رہتا ہے- اسکی غزل کا معنوی امتیاز بھی حسن و عشق کے رزم میں تصوف، اخلاق اور حکمیان مضامین شامل نظر آتے ہیں- غور و فکر کی آنچ میں سلگتی رہنے والی ظفر کی شاعری اوڑھی ہوئی جدّت کا فن نہیں، صحتمند تشکیک مروجہ راستوں کی دیوار جیسی ہے جس سے سر ٹکرانا عمرعزیز کو رایگان کر دینے یا زخموں سے بھر دینے جیسا ہے- شاہد صددیقی نے کہا تھا، 'روشنی میں ڈھلتی ہے دل کے خون میں سرخی
تب کہیں سرے مژگاں اک چراغ جلتا ہے'
بقول صغیر احمد صددیقی کے کہ-'سچچی شاعری واقعی ایک نعمت ہے- بقول ماسٹررونق بدایونی کے (جو فیروز ظفرکے استاد بھی تھے) 'وقت قطروں کو سکھا دیتا ہے طوفان ہونا-'
--------------------------
٩٤ فرسٹ فلور، آشیانہ گرینس، آهنسہ کھنڈ-٢، اندراپرم، غازیآباد ٢٠١٠١٤ اتر پردیش ، بھارت

तवील अफ़साना                                                                                                   दिल दरिया-...
25/03/2024

तवील अफ़साना
दिल दरिया-दरिया
डॉ रंजन जैदी

आज शराफत यार खान का दिन पुराने जमाने के कुछ पुराने मुहावरों की तरह बेहद मनहूस रहा था। देश भर में कोविड के लॉकडाउन की घोषणा की जा चुकी थी। नई खबर थी कि ट्रेनों का भी चक्का जाम होने वाला है। अब पता नहीं कि यह फैलाई गई अफवाह थी या सचमुच कोई सरकारी विज्ञप्ति थी। ऐसी खबरों के बीच शराफत यार ख़ान को अपनी माँ और मौसियों का खयाल आ गया। इस समय दोनों ही लखनऊ में रह रही थीं ।
इन्हीं उधेड़बुन में शराफत यार खान को अचानक उस एक अजनबी लड़की का भी खयाल आ गया जो पिछली दो रातों से पहले घर लौटते समय उनसे प्लेटफ़ॉर्म के बाहर मिली थी और बिना टिकेट के सफर करती रही थी। उन्होंने तुरंत माता माई को फोन किया, उसके आदमियों से भी संपर्क किया, बताया कि उन्होंने किसी लड़की को उसके पास भेजा था, लेकिन जवाब तो आश्चर्य-चकित कर देने वाला था। वह तो ढाबे तक पहुंची ही नहीं। कहाँ है वह?
शराफत यार खान के हाथों से तोते उड़ गए। वह हड़बड़ाकर इधर-उधर फोन खटखटाने लगे, घर के नौकर बंदे हसन को सब तरफ दौड़ा दिया, खुद भी प्लेटफ़ॉर्म के अंतिम सिरे तक जहां बेंच पर मुसाफिर आकार बैठते थे, देख आए। खुद खान ने रिटायरिंग-रूम में जाकर पता किया, अटेंडेंट ने जरूर बताया कि वह दो रातों तक तो यहां रुकी थी, फिर किसी वृद्ध महिला के साथ वह कहीं चली गई। खोजबीन की दृष्टि से अटेंडेंट ने रजिस्टर के पन्ने पलटकर उस अज्ञात महिला का नाम, पता और टिकट नंबर नोटकर ख़ान को दिए और ख़ान ने रेटायरिंग से बाहर निकलकर बंदे हसन को दिए और हिदायत दी कि बिना समय गँवाए वह तलाशकर उन्हें रिपोर्ट करे।
इस नए संपर्क-सूचना ने शराफत यार ख़ान को फिक्र में डाल दिया था। पता नहीं वह महिला कौन थी, ठीक भी थी या नहीं। जब तक पता नहीं चलेगा, फिक्र तो होगी ही। लड़की के पास टिकट भी नहीं था। मतलब साफ़ है कि उसके हालात सामान्य नहीं थे। वह कुछ बताना भी चाहती थी, लेकिन मैंने सुना ही नहीं, यह तो कोई बात नहीं हुई, मुझे सुनना चाहिए था। अम्मी जब यह सारी बातें सुनेंगीं तो कितनी डांट पड़ेगी। इस तकलीफ़ में भी ख़ान को फीकी सी हंसी आ गई।
इसलिए अजनबी लड़की का डर समझ में आता है। शायद उसकी मदद करते हुए लाइनमैन बहुआ बेहरा को भी डर लगा होगा। ज़माना भी तो बहुत खराब है । हालांकि लोगों की बातों से पता चलता है कि लाइनमैन से उसकी कुछ बातें हुई थीं, शायद वही कुछ बता सके लेकिन फिर वह भी तो दिखाई नहीं दे रहा है। तीन रातें हो रही हैं, तीन रातें...? कहाँ चली गई वह...? कितनी बड़ी ग़लती हो गई। वह कुछ खान से कहना चाह रही थी। उन्होंने क्यों उसकी बात नहीं सुनी, उफ़…कहीं ग़लत हाथों में न पड़ गई हो। वह रेलवे पुलिस से भी संपर्क नहीं कर सकते हैं। कहीं कोई मामला खुद उनके अपने गले न पड़ जाए। इस विषय पर बहुत सावधानी बरतनी होगी। शायद मैं कुछ ज़्यादा ही उत्सुकता दिखा रहा हूँ। मुझे अब अधिक खोजबीन में रुचि नहीं लेनी चाहिए
स्टेशन पर मारी-मारी जैसा हाल था। कोरोना के भय ने सबको डरा दिया था। ट्रेनें न केवल लेट थीं बल्कि बहुत सी कैंसिल भी होती जा रही थीं। यात्रियों का जमगठा बढ़ता जा रहा था। उधर, बंदे हसन खाली हाथ नहीं लौटा था। उसने जो खबर दी उससे शराफत यार ख़ान के पैरों के नीचे से जमीन खींच ली थी। खबर के अनुसार ‘सहर’, यानि वह अजनबी लड़की जिसने शराफत यार खान की नींदें हराम कर दी थीं, वह इस समय सीतापुर के ही कस्बा मछरेठा में स्थित स्वर्गीय मौलवी अहमदुल्लाह शाह के टीले वाली हवेली में सकुशल मौजूद है और खुश है।
यूं तो यह हवेली इतिहास पुरुष एक स्वतंत्रता सेनानी क्रांतिकारी मौलवी अहमदुल्लाह शाह ने अपने जीवनकाल में बनवाई थी लेकिन उन्हें इसमें रहना कभी नसीब नहीं हुआ और वह 1857 के विप्लव के जमाने में ही 16 अप्रैल, 1857 को शहीद हो गए। स्वतंत्रता संग्राम के सैनिक क्रांतिकारियों के साथ उनकी यह लड़ाई सिधौली, (सीतापुर) के कस्बा बाड़ी के करीब तत्कालीन ब्रिटिश हमलावर सेना की एक टुकड़ी के साथ हुई थी। तब घाघरा नदी तक सैनिक क्रांतिकारियों का पूरा कब्जा था। इस युद्ध में राजा लोन सिंह, फिरोज शाह और बख्शी हरी प्रसाद सिंह भी शहीद हुए थे।
यह युद्ध फैलते हुए खैराबाद तक जा पहुँचा था जहां अंग्रेज़ी सेना के ब्रिगेडियर जनरल बाकर के लिए नई कुमुक पहुंची तो देशी क्रांतिकारियों के हौसले पस्त होने लगे लेकिन फिर उन्हें भी राजा हरी प्रसाद सिंह, लोन सिंह और ख़ान बहादुर ख़ान के दस हजार घुड़-सवार, पैदल फौज और दस हजार पैदल सैनिकों की कुमुक मिल गई और जंग का नक्शा बदल गया लेकिन कुछ कायस्थ वारियरों और इलाकाई जमींदारों के धोखा देने के कारण राजा हरी प्रसाद के आदेश पर याक़ूब ख़ान, लक्कड़ शाह और घुममन सिंह के साथ खैराबाद में फिर युद्ध जीतने का प्रयास किया लेकिन मछरेठा में अंततः स्वतंत्रता सेनानी शहीद हो गए। बिसवा में फिरोज शाह भी अपने 15 सैनिकों के साथ घाघरा पार करते हुए शहीद हो गये और राजा हरी प्रसाद बेगम हज़रत महल के साथ नेपाल की तरफ चला गया।
बिना समय गंवाए शराफ़त यार खान ने अलीगढ़ से अपने कज़िन (मौसेरे भाई) असलम ख़ान से वाट्सऐप पर बातें करते हुए सिधौली पहुँचने का तुरंत अनुरोध किया और तदुपरांत असलम ने भी इसे बड़े भाई का आदेश मानकर कुछ ही समय में अपना किट लेकर बाईक पर सवार हो गया, लेकिन रास्ते भर दिल में एक ही संदेह कुलबुलाता रहा कि शहरयार भाई को ऐसी क्या इमरजेंसी आ गई...कि वाट्सऐप पर भी नहीं बताया, बस कह दिया, ‘आ जाओ!’ असलम ने भी चलने से पहले संदेश प्रेषित कर दिया…, ठीक है, आ रिया हूँ भाई......।’

सब तरफ अंधेरा था। पावर-स्टेशन का कोई बड़ा ब्रेक-थ्रो हो सकता है, लेकिन रेलवे कालोनी का तो अपना जेनरेटर भी है। शायद कोई और तकनीकी मामला हो सकता है। व्यवस्था के सौ लफड़े होते हैं। लाइट तो आ ही जाएगी। पहले वह आँगन में चहलकदमी करते रहे, घुप अंधेरा। बस, आकाश पर तारों का जाल फैला हुआ था। आँगन में अनार के दरख्त पर कोई परिंदा फड़फड़ा कर कानों के पास से गुजरकर अँधेरों में ग़ायब हो गया। एक बिल्ली की आंखेँ चमकीं फिर मियाऊँ की आवाज आई। वह कूदकर अमरूद के दरख्त पर पहुंची और सन्नाटे में किसी परिंदे की चीखें कानों के परदों को चीरने लगीं लेकिन फिर एकाएक सन्नाटा छा गया। शराफत यार ख़ान की घबराहट और बढ़ गई।
ग्राउन्ड-फ्लोर के अपने एल-शेप कुआर्टर के पीछे की खिड़की के उस पार से गुजरने वाला ट्रैफिक भी इस समय कुछ कम हो चुका था। गाड़ियों की रोशनियों से अंधेरे ह्यूले थरथराने लगे थे। शराफत यार ख़ान एमर्जेंसी लाइट ऑन कर सड़क से लगी खिड़की की ही तरफ आकर खड़े हो गए। सामने नौ फुट की चौड़ाई वाली सड़क पर अभी भी इक्का-दुक्का गाड़ियां आ जा रही थीं। उससे टिककर वह सामने देखने लगे लेकिन उनका ध्यान अपने भाई असलम की ही तरफ था कि अब असलम शाहजहांपुर से आगे बाईपास से निकल गया होगा। उसे बहुत तेज बाइक नहीं चलानी चाहिए। अल्लाह उसे साथ खैरियत के यहाँ तक ले आए।
इसी समय छज्जे से अंधेरे में ही नुमाइरा की आवाज़ सुनाई देती है।’ “भाई जान, खाला नहीं आईं?”

“क्यों? आने वाली हैं क्या?” शराफ़त यार ख़ान चौंक गए।
“आपकी नाक पर तो अंधेरे में भी मक्खी बैठी रहती है।’ नुमाइरा एकदम खिलखिलाकर हंस पड़ी,” इकदम बारिश के भीगे पौधे की तरह जड़ों से उखड़ जाते हैं भाईजान? एक बात बताएं, आप जब पैदा हुए थे तब आपने बिना सांस लिए दाई से कितने थप्पड़ खाए थे?”
“बदतमीज़! घर में कोई बड़ा नहीं है क्या?”
“छोटा भी नहीं है। रात भर लाइट नहीं आई तो मैं कैसे रहूंगी। अकेले में मुझे बहुत डर लगता है। आप भी वहीं आ जाइए, साथ ही खाना खाएंगे। मेरे घर के सब लोग तो चालीसवें में अलादातपुर फुप्पो के यहां गए हुए हैं। सुना है, कोई कह रहा था, असलम भाई ने एएमयू में दाखिला ले लिया है। यह खबर सुनकर मैं तो बहुत ही खुश हो गई हूँ।”
“क्यों, इस खुशी का मतलब...कोई नई रेटिंग है? ”
“हाय अल्लाह, आप कैसे हैं भाई जान, खाला आयेंगी तो पूछूँगी कि पहली पान की पीक आपके मुंह में किसने डाली थी, किसी शादीशुदा बाजी ने या कुँवारी बिब्बो ने? कसम से भाईजान, शुक्र मनाइए कि मैंने आपकी रैगिंग नहीं की, लेकिन असलम भाई की रैगिंग मैं जरूर करूंगी।”
इसी समय लाईट आ गई, इसका शोर भी सुनाई देने लगा, शराफ़त यार ख़ान ने निगाह ऊपर उठाई तो देखा, खिड़की की चौखट से चिपकी कौसर अंसारी कमर तक नीचे लटकी हुई थी। वह लगातार हँसे जा रही थी,”भाईजान, आज मैंने पाए बनाए थे। मैं पाए बहुत अच्छे बनाती हूँ, कसम से। लेकर आऊं?, दुत्कारेंगे तो नहीं?’
शराफत यार ख़ान कौसर अंसारी की शरारत पर हँसकर कमरे में लौट आए और मुसकुराते हुए एमर्जेंसी लाइट आफ़ कर दी। माँ के फोन का नंबर डायल किया और जब उन्होंने जवाब में अजनबी आवाजें सुनीं तो पूछा,’आप ...! लखनऊ में नहीं हैं क्या... ? कहाँ हैं?”
“नहीं! मैं मछरेठा में हूँ, आपकी चहीती खाला नवाबज़ादी बेगम शदाना की हवेली में। आज यहाँ ‘ब्लॉक वुमन-चेतना-मंच’ की तरफ से सीएए और एनआरसी को लेकर ब्लॉक-समिति की इमरजेंसी बैठक बुलाई गई थी, उसमें शामिल होने के लिए लखनऊ से मैं भी आ गई हुई थी। एक राज़ की बात बताऊँ... बेटा? यहाँ मैंने आपके लिए एक खूबसूरत लड़की देखी है, सुभान अल्लाह! क्या हुस्न-ए-जमाल है, क्या शोला-बयानी। बस! अब आगे इंतजार नहीं। आपकी मुंह बोली खाला यानि हमारी बेगम शदाना बाजी को भी वह बहुत पसंद आई है। हमें अल्लाह पर भरोसा है, बेगम बाजी की पसंद आप दोनों भाइयों को भी पसंद आएगी, इंशाल्लाह!”
“आप...आप... आप क्या कह रही हैं मम्मी? हम नहीं समझे! हमें पता करना था कि एक लड़की, उसका नाम सहर आशोब है, वह खाला बेगम के घर पर ही है। आप जब आएं तो उसे अपने साथ जरूर लेते आइएगा। उसका यहाँ आना ज़रूरी ही नहीं, बहुत जरूरी है। वैसे भी आप लखनऊ तो जाएंगी नहीं, इधर ही आ जाइए। बंदे हसन, असलम के साथ गाड़ी लेकर सुबह यहाँ से रवाना हो जाएंगे। कोरोना का जोर बढ़ रहा है, बहुत केयर करने की जरूरत है। आप अपना ख्याल रखिएगा।”
घंटी बजी तो बंदे हसन ने जाकर बाहर पहले तो लड़की को ऊपर से नीचे तक देखा, सकुचाए, फिर पूछा, “घर में माँ जी नहीं हैं! कल-परसों आएंगी। साहब अपनी स्टडी में हैं। चाय के लिए दूध अगर खत्म हो गया हो तो बताएं बीबी, चाहिए क्या? आप यहीं रुकें, मैं लेकर आता हूँ।’ इसके साथ ही दरवाजे के दोनों पट खोल दिए गए। दरवाजे के बीचो-बीच कौसर अंसारी दोनों हाथों पर शीशे के मर्तबान में कुछ लिए हुए खड़ी दिखाई दी। उसने बड़बड़ाते हुए कहा,”इस घर का तो आवे का आवा ही बिगड़ा हुआ है। अजीब बत्त्तमीज़ लोग हैं।’
बंदे हसन की उपेक्षा करते हुए कौसर अंसारी ने रसोई में खुद जाकर मर्तबान रख दिया। जब वह जाने के लिए मुड़ी तो उसने हँसते हुए पूछा, ‘आप साहब को जाकर इत्तिला देंगे या मैं ही उनके कमरे में जाकर इत्तिला दूँ कि इस मर्तबान में लज़ीज़ पाए हैं।’ दांत पीसते हुए वह शहरयार ख़ान को नजर गड़ाकर देखने लगी। कुछ क्षणोपरांत शहरयार ने कहा, “पाए में लाल मिर्चें तो डाली ही होंगीं। फिर भी आपके बनाए हुए पाए हम जरूर खाएंगे और असलम मियां भी। हो सकता है, वह आने ही वाले हों। हाँ! बंदे हसन भाई, आप जाकर ढाबे से दस-15 रोटियाँ लेते आइए, हमें अब भूख लग रही है।”
” “पाए मेरे नहीं भाईजान, बकरे के हैं।” कौसर ने ग़लती सुधारते हुए जवाब दिया।
लेकिन ठीक इसी समय मालूम हुआ कि बाहर आड़ू के बाग में शोर मचाती हुई असलम की बाईक का शोर कुछ लम्हों तक गूंजते रहने के बाद धुआँ फैलाकर शांत हो जाता है लेकिन दीवानगी में “ सांलेकुम असलम भाई !” कहती हुई कौसर बग़ल की सीढ़ियों पर चढ़ती हुई खनखनाती हंसी के साथ एकाएक ग़ायब हो जाती है।
कौसर अंसारी के इस ‘सांलेकुम’ ने असलम को एक ही सांस में न केवल आश्चर्यचकित कर दिया था, बल्कि एक महीन मुस्कान से उनकी मुलाकात भी करा दी थी, ”मोटी!”

उस रात शायद कोई नहीं सोया था, न इधर शराफत यार ख़ान और न उधर असलम ख़ान। शराफत यार ख़ान ‘सहर’ को देखने के लिए लगातार बेचैन होते जा रहे थे और नींद कोसों दूर होती जा रही थी। उनकी ज़िंदगी में ऐसे लम्हे पहले काभी नहीं आए थे। कभी उन्हें किसी लड़की ने अपनी तरफ आकर्षित नहीं किया था। सब कहते थे, शराफ़त की ज़िंदगी में औरत है ही नहीं। शादी की लकीर पर सांप बैठ गया है। वह इंसान नहीं, एक देवमालाई महाकाती किताब है जिसमें देव हैं, दानव हैं, राक्षस हैं और बदसूरत कुटनियाँ हैं। परियाँ तो शाराफ़त यार ख़ान के पास से होकर गुजर जाती हैं, देखती ही नहीं।
एक बार स्टेशन पर एक लड़की ने पूछा, “मेरे साथ डेटिंग करेंगे?” चौंककर शराफत यार ख़ान ने झिझकते हुए पूछा, “क्यों?” लड़की ने जवाब दिया, “यूं ही, आप मुझे अच्छे लगे, मैं कर्नल मैक मोहन सरीन की बेटी हूँ। हॉर्स-राइडिंग मेरा पैशन है। नौजवान मेरे साथ डेटिंग के सपने देखते हैं लेकिन मैं आपको इनवाईट कर रही हूँ। यह मेरा पैशन है.... ”
यहाँ पर शराफ़त खान एकाएक सकपका गए। उन्होंने लड़की को तो जवाब नहीं दिया, उलटे टिकट जरूर मांग लिया। लड़की का चेहरा इतना सुनते ही लाल हो गया, उसने अपने बाडीगार्ड को आवाज दी, ’साहब को मेरा आईडी चेक करा दो ....” इतना कहकर वह तीर की तरह स्टेशन से बाहर निकल गई। उसने एक बार भी मुड़कर नहीं देखा बल्कि एयर-फोर्स की सी ड्रेस पहने ड्राइवर के साथ एक बेशकीमती कार में जाकर बैठ गईऔरड्राइवरसेदहाड़करबोलीकहा,ब्लडी-बास्टर्ड.......।” ”” ?“ ”
असलम ने करवट लेकर भाई को देखा, वह जग रहे थे। माथा छुआ, तप रहा था। सोचा, कहीं कोविड का असर तो नहीं हो रहा है। भाई सोये भी नहीं हैं। वह हड़बड़ाकर उठ बैठा,“पानी दूँ भाई?” लेकिन भाई को शायद नींद आ गई थी। असलम ने अंगड़ाई ली और वरांडे में निकल आया। वरांडे में गमले फूलों से भरे हुए थे, आधी रात की महक रगों में बहने लगी थी। अनार के पेड़ पर कई अनार ग़िलाफ़ से ढके हुए थे। शायद पूर्णिमा के कारण चंद्रमा पूरे आकाश को अपने प्रकाश से दमका रहा था, खुशबू और रोशनी ने अजीब सी जादुई ठंडक उसके जिस्म की रगों में पहुँच दी थी। असलम अकारण आँगन में टहलने लगा, उसकी आँखों से नीद ग़ायब हो चुकी थी। रास्ते की थकन अभी भी जिस्म में बाकी थी। शायद वह सो भी जाता लेकिन कौसर की दिलफ़रेब मुस्कुराहट ने उसे अजाने में कहीं बेचैन कर दिया था। नल से टिककर आकाश को देखने लगा। इतनी रात आँगन में पूरे चाँद के नीचे उसकी दूधिया चाँदनी में वह रोमांच से भरता जा रहा था।
ढाई बज रहे थे, आँगन में खुलने वाली ऊपरी मंजिल की खिड़की से असलम को एक चेहरा झाँकता हुआ महसूस हुआ। उसके समूचे जिस्म में इस चेहरे से एकाएक सिहरन सी दौड़ जाती है। “भूत.. ”..! असलम डरकर भागने को हुआ कि कौसर खिड़की से आधी नीचे लटक सी जाती है। उसने फुसफुसाते हुए धीरे से कहा,“ज़ीने का दरवाजा मैंने खोल दिया है, आज मेरे यहाँ कोई नहीं है। आ जाओ......चुपचाप, बहुत सी बातें करेंगे!”
असलम का गला खुश्क हो गया था। उसे प्यास लग ने लगी थी लेकिन वह अपने पसीने को भी खुश्क नहीं कर पा रहा था । एकाएक एक द्वंद्व युद्ध छिड़ गया था। क्या करून भाई ? पता नहीं क्या हो गया है मुझे? कहीं कुछ ग़लत तो नही होने वाला है? शाहिद के साथ भी तो एक रात एक लड़की उसके कमरे में रुक गई थी, फिर वह आती रही, फिर उसने उससे शादी कर ली। लेकिन कौसर से वह शादी तक की बात नहीं सोच सकता। अभी तो वह खुद छोटा है।”
लेकिन कौसर ने दबे पांव नीचे उतरकर पूरी हिम्मत के साथ दरवाजे में ताला लगाया और असलम को लेकर ऊपर अपने घर आ गई और पूरी सतर्कता से ऊपर अपने कमरे के दरवाजे बंद कर लिए। बाहर सड़क के कुत्तों के भौंकने की शुरुआत हो गई थी। कहीं करीब से गार्ड की व्हिसिल भी सुनाई दी, शायद गार्ड को कुछ संदेह हुआ था, वह शहरयार के क्वार्टर के पास आकर ऊपर टार्च की रोशनी फेंकी लेकिन कहीं कुछ दिखाई नहीं दिया। अंततः कुत्तों का भौंकना भी बंद हो गया।

—--------------------------------------------------------------------
(कहानी अब एक नए मोड़ पर पहुँचने वाली है। नागरिकता संशोधन कानून के लागू हो जाने के बाद देश की महिलाएं अपने अधिकार की लड़ाई किस तरह के आंदोलनों के माध्यम से लड़ना चाहती हैं,और लड़ेंगी; पढ़िए कहानी की अगली कड़ी में... )

25/03/2024

तलाश
सिकुड़ रही है ज़मीं, हम ज़मीन की खातिर
हदें बनाके उसी से मज़ाक़ करते हैं
ज़मीं की रेत को तुम मुट्ठियों में मत भरना
फ़लक के तारे चमकते हैं, टूट जाते हैं
पहुंच के चाँद पे ढूँढा सुकून के नुस्खे
मगर यहां भी मिरे साथ-साथ तूफ़ां थे
यहाँ भी एक पिंजर था ज़मीं थी और बरज़क़ भी
मैं लौट आया ज़मीं पर ये सोचकर के
ख्वाब तो ख्वाब हैं, चलो उन्हीं में जाके बस जाएँ
रंजन ज़ैदी

22/03/2024

ایک بیشقیمت، خوبصورت شخص جومخلص دوست بھی تھا اور رفیق انسان بھی-علیم بھی تھا اورعا لم بھی.- مفککر بھی تھا اورنررخ بھی- ای ٹیوی اردو میں وہ میرا مینٹیور بھی تھا-آخری بار میری ان سے ملاقات ایک ہارٹ سینٹر کے ویٹنگ لوج میں ہوی تھی- میں اس وقت اپنے مامو زاد بھائی پروفیسر مشیرالحسن کو دیکھنے گیا تھا کیونکہ تب اونکا سیریس ایکسیڈنٹ ہوا تھا-اور پھر وہ نہیں رہے تھے- آج صبح ہی ڈر. آغا کے انتقال کی خبر نے مجھے جھنجھوڈکررکھ دیا -اللہ انھیں کروٹ کروٹ جنّت نصیب ہو، انیں! /رنجن زیدی

कहानी; दिल दरिया-दरिया                                          डॉ. जेड. ए. ज़ैदी  'रंजन ज़ैदी'       'सम्बन्ध तोड़ने से पह...
14/03/2024

कहानी; दिल दरिया-दरिया
डॉ. जेड. ए. ज़ैदी 'रंजन ज़ैदी'

'सम्बन्ध तोड़ने से पहले एक बार बैठ कर संवाद कर लो, संवाद रिश्ते बनाते हैं. घृणा करते हुए भी एक बार प्रेम का प्याला पीकर देखो, आंसुओं से आंखें नम हो जाएँगी. एक बार धरती पर माथा रखकर उसकी गंध की अनुभूति करो, उसे चूमने का प्रयास करो, फिर उठकर बैठो, आकाश को देखो, तुम्हें ब्रह्म्हाण्ड आलिंगन करता हुआ महसूस होगा.

जीवन एक स्वप्न है, अनुभूति का भ्रम है. न वह है, न वह स्पर्श देगा, न उसका इतिहास है, न भूगोल. न वह अतीत है, न वर्तमान. वह पहाड़ों से उतरने वाली धूप है, वृक्षों से खेलती हवा की गति है, एकांत का सन्नाटा है और सूर्य के गिर्द घूमती हुई धरती का नाद है. तुम किसे तलाश रहे हो?.........'

शराफ़त यार खां, क़लम एक तरफ़ रख कर खिड़की के बाहर अनार के वृक्ष को देखने लगे. पहाड़ी मैना का जोड़ा एक-दूसरे के चोंच में चोंच डालकर मुहब्बत की नई कहानी रच रहा था . परिंदों के शोर के बीच मन में गुदगुदी सी हुई. इसी समय सिग्नल होते ही रुकी हुई मालगाड़ी शोर के साथ सिधौली स्टेशन के प्लेटफॉर्म की तरफ़ धड़धड़ाती हुई जाने लगी थी. शराफ़त यार खां ने अंततः खिड़की बंद कर दी. सारा शोर बाहर रह गया. सामने दीवार पर टंगी घड़ी देखी. 10 डाउन का समय अब आने वाला था. वह कंधे पर तौलिया डालकर वॉश-रूम की तरफ़ चले गए.

सिधौली, उत्तर प्रदेश के जिला सीतापुर की एक तहसील है. इसका छोटा सा रेलवे स्टेशन है लेकिन शहर फैल रहा है. शहर के रूट 'मिश्रिख' को भी छूते हैं और बाड़ी जैसे ऐतिहासिक क़स्बे को भी. देश के क्रांतिकारियों की 'काकोरी' को भी और रियासत महमूदाबाद के खैराबाद को भी....... शराफत यार खां इसी सिधौली स्टेशन के सहायक स्टेशन मास्टर हैं. स्टेशन का अच्छा-खासा स्टाफ है. नियुक्ति के बाद इस स्टेशन पर उनकी पहली सरकारी नौकरी है. कुछ दिन उन्हें लगा जैसे किसी ज़मींदार को मज़दूरों और किसानों ने मोटे रस्से से बाँध कर एक जगह पर बिठा दिया है लेकिन फिर जैसे वह उसी स्टेशन का हिस्सा सा बन गए हैं.

स्टेशन से उनका लगाव दिन-ब-दिन बढ़ता जा रहा था. छुट्टियों में वह कभी बिसवां घूमने निकल पड़ते तो कभी भरोदा, कभी काकोरी, तो कभी बहरा, कभी मोहिद्दीन पुर तो कभी अलादात पुर....कभी मुक़ीम पुर तो कभी झखराव....यह सारे इलाक़े बचपन की कहानियों से भरे हुए थे. उन्हें जब भी अवसर मिलता वे सोथ नदी के मुहाने तक जा पहुँचते.

सिधौली स्टेशन के बाहर स्थित 'मिठौरा माई' के ढाबे से शराफत यार खां शुरू से न केवल चाय मंगाते थे बल्कि गाहे-बगाहे पराठे या भोजन की पूरी थाली मंगा लिया करते थे. 'मिठौरा माई' शराफत यार खां से गहरा लगाव रखती थी. उसका चेहरा जला हुआ था, और आंखें भी ज्योतिहीन थीं. इसके बावजूद वह अपने संघर्षों के सफल और सुखद परिणामों को 'भाग्य' की सज्ञा देती थी..

वह कहती थी, बीतता हुआ समय आवारा हाथी की तरह होता है जो अपने लिए एक छत वाला घर भी नहीं निर्मित करा सकता है जबकि एक दो वर्ष की उम्र पाने वाली चींटी अपने लिए मज़बूत और लम्बी बांबियां बनाकर अगली नस्लों को सौंप जाती है. रहस्यों से लिपटी माता माई के अनुभवों का खज़ाना उसके अपने पास अवश्य था और न दिखाई देने वाली दूर-दृष्टि भी उसके सिवा अन्यों के पास थी. कहते हैं कि सादा और सूफी ज़िन्दगी जीने वाले शराफत यार खां को भी माता माई की चौपाल में बैठने से कोई एतराज़ या परहेज़ नहीं रहता था क्योंकि उनके अनुसार वहां से उन्हें अपनी मिटटी की ही खुशबू का अहसास होता था.

एक सुबह आगरा फोर्ट से आई एक्सप्रेस ट्रेन से सिधौली के प्लेटफार्म पर हिजाब में छुपी एक लड़की उतरी, (जिसके पास टिकट नहीं था) उस दिन लाईन-मैन बउवा बेहरा की गेट पर डियूटी लगी हुई थी. टीटी की अनुपस्थिति और असिस्टेंट स्टेशन मास्टर शराफ़त यार ख़ान के मौखिक आदेश पर टिकट चेक करने के लिए वैकल्पिक व्यवस्था के अंतर्गत
बउवा बेहरा को गेट पर लगाया गया था. हिजाब में छुपी वह लड़की डियूटी-रूम में ले आई गयी, तो वहां ख़ान साहब को उसने अत्यंत व्यस्तता की हालत में देखा. स्टेशन मास्टर को कोविड फीवर था, इसलिए वह छुट्टियों पर थे. आगरा फोर्ट के छूटने की सूचना प्रसारित होने लगी थी.

गार्ड और दूसरा स्टाफ अपनी उपस्थिति दर्ज कराकर बाहर जा चुके थे. लड़की बेंच पर बैठी अपने दिल की धड़कनें गिन रही थी. देर बाद सीनियर लाइन-मैन बउवा बेहरा बेंच पर बैठी लड़की के पास आकर कान में बोला, ''यहीं बैठो! साहब अभी फ्री होंगे. मैँ अभी गाड़ी छोड़कर आता हूँ. याद रहे, तुम बिना टिकिट सफर पर थीं. भागना मत, कानूनी मामला है."

रेंगते समय के साथ लग रहा था, प्लेटफॉर्म पर पैसेंजर रफ्ता-रफ्ता कम होते जा रहे थे. धीरे-धीरे 'चाय-चाय' ,समोसा....' का शोर भी कम होता जा रहा था. तिपाई पर बैठी लड़की फ्रेश-रूम के बहाने कई बार बाहर गई, फिर लौट आई. आकर बेंच पर बैठ कर बाहर गई ताकि लोग उसे अकेला न समझें. उसने अफसरों को व्यस्त देखकर प्लेटफॉर्म का एक चक्कर भी लगाया. पता चला, पैसेंजर कम होते जा रहे हैं . लाइन मैन बउवा बेहरा भी शंटिंग की तरफ़ निकल गया था क्योंकि लख़नऊ पैसेंजर प्लेटफॉर्म नंबर-3 पर आने वाली थी लेकिन इस समय वह एक घंटा लेट थी. वह लड़की भी ईमानदारी से शराफ़त यार ख़ान के ऑफिस में लौट आई.

सुबह-सुबह रेलवे स्टॉफ भी लड़की की तरफ़ ध्यान नहीं दे पा रहा था. हालाँकि दो एक टीटी, टीसी, खुद गार्ड, रेलवे के दूसरे मुलाज़िम साहब के रूम में आते-जाते एक उड़ती नज़र उस पर ज़रूर डालते थे लेकिन गहमागहमी में किसी का भी ध्यान उस अनजान लड़की पर नहीं गया. सबको लपरवाह पाकर लड़की बड़ी होशियारी से दबे पाँव चलकर ऑफिस से बाहर निकल गई और कर तेज़ क़दमों से चलती हुई प्लेट-फॉर्म के अंतिम छोर तक पहुँच कर गई सीमेंट की बनी उस बेंच पर बैठ गई जो एक पियाऊ के पास बनाई गई थी. हालाँकि बेंच पर उस समय दो सैनिक, एक महिला और एक किशोर बालक पहले से ही बैठे हुए थे.

लड़की ने पियाऊ से पानी पिया, मुंह हाथ धोये और कृत्रिम मुस्कान बिखेरती हुई हाथ-मुंह-साफ करने लगी. अब तक सूरज निकल आया था. अनेक चिंताओं के कारण लड़की अंदर से बहुत डरी हुई लग रही थी. उसकी फिसलती हुई निगाहें इर्द-गिर्द हर उस व्यक्त को टटोल रही थी जिसपर उसका संदेह मज़बूत हो सकता था. kaheenकोई पकड़ने आ गया तो? दूर से भी कोई आता दिखता तो लड़की को लगता, बउवा बेहरा लौट आया है लेकिन पास आने पर वह व्यक्ति कोई और निकलता.


धूप फैल गई थी. कोई मालगाड़ी गुजरने वाली थी. लड़की एकाएक घबराकर खड़ी हो गई. महिला ने पूछा,'क्या जा रही हो?' हकलाते हुए उसने कहा, "हहहहहाँ! जा रही हूँ. वो...वो सामने....!"

सामने से रेलवे ऑफिसर शराफत यार खां अपनी डियूटी पूरी कर कॉलोनी की तरफ का लौट रहे थे. लड़की डरकर उनके साथ हो ली. उसे लगा, पकड़ी जाएगी. रेलवे ट्रक से जब वह अपनी कॉलोनी की ओर मुड़ने वाले थे तो एकाएक वह रुक गए, ऊपर से नीचे तक लड़की को देखा, पूछा,'कोई बात है? बहुत गहराई हुयी हो."

"जी सर! आप मुझे पुलिस के हवाले मत कीजियेगा, टिकट न लेना मेरी मजबूरी थी." होठों पर जीभ फिराते हुए उसने कहा,"मेरे पास पैसे नहीं थे. मैँ घर से भागकर यहां तक आई हूँ. पुलिस मुझे फिर मेरे दोज़ख में पहुंचा देगी. प्लीज़ मुझे जेल में मत भेजिए ..."

"ओह!' शराफत यार खां फिर चलने लगे. लड़की उनके साथ चलते-चलते क्वार्टर तक पहुँच गई. "मैँ कुछ समझ नहीं पाया." उन्होंने कहा,"आप घबराइए नहीं. हम आपको जेल नहीं भेज रहे हैं. अभी आप माता माई के पास रुकिए." उन्होंने झुग्गी की ओर कोदारी को आवाज़ दी,"बेटा, इन दीदी साहीबा को माता माई से मिला दे. इन्हें भोजन करा, मैँ एक घंटे बाद बुलाता हूँ. माता माई से कहो, मुझे तभी फोन करें!"
__________________________________________________________
(रंजन ज़ैदी की नई कहानी 'दिल, दरिया-दरिया' की दूसरी-कड़ी 'नई रचना' के अगले एपिसोड में.....)

Address

94FF, Ashiana Greens, Ahinsa Khand-II Indira Puram , Ghaziabad Bharat, Indira Puram
Ghaziabad
201014

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nayi Jung web news posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Nayi Jung web news:

Share