میرا پاکستان

میرا پاکستان the round off nangaparbat Rupal face
contacting:
cell:03145001329
only what's up:03554858581

11/08/2026

Nangaparbat Rupal face

Crossing Mazeno Pass 4870m Best view of Nanga Parbat Rupal Face 🏔️Want to trek Mazeno with us?DM us or WhatsApp: https:/...
30/07/2026

Crossing Mazeno Pass 4870m
Best view of Nanga Parbat Rupal Face 🏔️

Want to trek Mazeno with us?
DM us or WhatsApp: https://wa.me 03145001923
Stay: Rupal Perch Resort - Last Hotel on this road

5400m. Mazeno Pass conquered. The mighty Rupal Face of Nanga Parbat is calling 🏔️Want to explore this with me? DM me or ...
18/07/2026

5400m. Mazeno Pass conquered.
The mighty Rupal Face of Nanga Parbat is calling 🏔️

Want to explore this with me?
DM me or WhatsApp: https://wa.me/923555340341

Come & explore the mighty Nanga Parbat Rupal Phase, the highest rock face in the 🌎
11/07/2026

Come & explore the mighty Nanga Parbat Rupal Phase, the highest rock face in the 🌎

نانگا پربت تک پہنچنے کے تین بڑے راستے

اگر آپ نانگا پربت کو قریب سے دیکھنے کا خواب رکھتے ہیں تو اس عظیم پہاڑ تک پہنچنے کے تین مختلف راستے ہیں، اور ہر راستہ اپنی الگ کہانی سناتا ہے۔

سب سے مشہور راستہ فیری میڈوز بیس کیمپ کا ہے۔ شاہراہِ قراقرم پر رائیکوٹ برج سے جیپ کے ذریعے تاتو گاؤں پہنچا جاتا ہے، پھر تقریباً تین سے چار گھنٹے کی دلکش ٹریکنگ کے بعد فیری میڈوز آتا ہے۔ یہاں سے مزید پیدل سفر آپ کو نانگا پربت کے رائیکوٹ بیس کیمپ تک لے جاتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جہاں عام سیاح بھی اس عظیم پہاڑ کے سائے میں کھڑے ہو کر اس کی ہیبت کو اپنی آنکھوں سے محسوس کر سکتے ہیں۔

دوسرا راستہ ضلع استور کی طرف سے روپال بیس کیمپ جاتا ہے۔ استور سے طارشنگ گاؤں تک جیپ کا سفر اور پھر کئی گھنٹوں کی ٹریکنگ کے بعد وہ مقام آتا ہے جہاں دنیا کی سب سے بلند عمودی پہاڑی دیوار، روپال فیس، پوری شان کے ساتھ سامنے کھڑی ہوتی ہے۔ اسے دیکھ کر انسان اپنی حیثیت بھول جاتا ہے۔

تیسرا راستہ دیامیر بیس کیمپ کا ہے۔ چلاس سے آگے بونر داس کے علاقے سے جیپ ٹریک شروع ہوتا ہے، پھر آخری آبادی کے بعد صرف پتھریلے راستے، گلیشیئر، خاموش وادیاں اور مسلسل پیدل سفر رہ جاتا ہے۔ دنیا بھر کے زیادہ تر کوہ پیما نانگا پربت کو سر کرنے کے لیے اسی رخ کا انتخاب کرتے ہیں۔

یہاں سے آگے راستے ختم نہیں ہوتے، بلکہ کہانیاں شروع ہوتی ہیں۔

نانگا پربت... ایک ایسا نام جسے سنتے ہی برف سے ڈھکی ہوئی ایک دیوقامت چوٹی آنکھوں کے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔ مگر اس سفید چادر کے نیچے کتنی کہانیاں دفن ہیں، اس کا اندازہ صرف وہی لگا سکتا ہے جو اس پہاڑ کی تاریخ پڑھ لے۔ یہ صرف پاکستان کی نویں بلند ترین چوٹی نہیں، بلکہ انسانی حوصلے، جنون اور قربانی کی ایک ایسی داستان ہے جسے دنیا "کلر ماؤنٹین" یعنی قاتل پہاڑ کے نام سے جانتی ہے۔

آج تک پچاسی سے زائد کوہ پیما اور پورٹرز اس کی ڈھلوانوں پر اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہاں جانے والا تقریباً ہر پانچواں کوہ پیما واپس نہیں لوٹ پاتا۔ شاید اسی لیے نانگا پربت کو فتح کرنے سے پہلے ہر مہم جو کو اپنی انا نہیں، اپنی قسمت ساتھ لے کر جانا پڑتی ہے۔

1895 میں برطانوی کوہ پیما البرٹ مومیری نے پہلی مرتبہ اس چوٹی کو سر کرنے کی کوشش کی۔ وہ اپنے دو ساتھیوں سمیت ایک برفانی تودے کی نذر ہو گئے۔ ان کی لاشیں آج تک برف کی انہی تہوں میں کہیں گم ہیں، جیسے پہاڑ نے انہیں ہمیشہ کے لیے اپنی خاموشی کا حصہ بنا لیا ہو۔

اس کے بعد جرمن مہمات کا سلسلہ شروع ہوا، مگر نانگا پربت ہر بار پہلے سے زیادہ بے رحم ثابت ہوا۔ 1934 میں شدید طوفان نے کئی جانیں لے لیں، جبکہ 1937 میں ایک خوفناک برفانی تودے نے پوری مہم کو رات کی تاریکی میں دفن کر دیا۔ سولہ انسان ایک ہی لمحے میں برف کے نیچے ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے۔ اس حادثے کے بعد دنیا نے پہلی مرتبہ اس پہاڑ کو قاتل پہاڑ کہنا شروع کیا۔

پھر جولائی 1953 آیا۔ آسٹریا کے ہرمن بُہل نے بالآخر نانگا پربت کی چوٹی پر قدم رکھ دیا۔ مگر اس تاریخی کامیابی تک پہنچنے سے پہلے یہ پہاڑ اکتیس جانیں نگل چکا تھا۔ گویا اس نے اپنی چوٹی تک پہنچنے کی قیمت پہلے ہی وصول کر لی تھی۔

1970 میں دنیا کے عظیم کوہ پیما رائن ہولڈ میسنر اور ان کے بھائی گنتھر نے روپال فیس سے تاریخ رقم کی، مگر واپسی پر ایک برفانی تودے نے گنتھر کو ہمیشہ کے لیے اپنے ساتھ لے لیا۔ رائن ہولڈ کئی دن برف، بھوک، تنہائی اور زخمی جسم کے ساتھ زندگی سے لڑتے ہوئے نیچے پہنچے، مگر ان کی اس فتح میں بھائی کی جدائی ہمیشہ کے لیے شامل ہو گئی۔

22 جون 2013 کی رات نانگا پربت کی تاریخ کا شاید سب سے افسوسناک باب لکھا گیا، جب دہشت گردوں نے دیامیر بیس کیمپ پر حملہ کر کے گیارہ بے گناہ انسانوں کو شہید کر دیا۔ وہ لوگ جو دنیا کے مختلف ملکوں سے صرف ایک خواب کی خاطر یہاں آئے تھے، اسی خواب کی سرزمین پر ہمیشہ کے لیے سو گئے۔

2018 میں پولینڈ کے ٹومیک میکیوِچ نے سردیوں میں نانگا پربت سر کر کے تاریخ تو بنا دی، مگر واپسی پر بلندی کی بیماری اور برفانی اندھے پن نے انہیں وہیں روک لیا۔ ان کی ساتھی کو تو بچا لیا گیا، لیکن ٹومیک ہمیشہ کے لیے نانگا پربت کا حصہ بن گئے۔

2025 میں معروف چیک کوہ پیما کلارا کولوچووا بھی اسی پہاڑ پر جان کی بازی ہار گئیں۔ یوں ایک صدی گزرنے کے باوجود نانگا پربت آج بھی اپنی فطرت نہیں بدلا۔

آخر ایسا کیا ہے جو اس پہاڑ کو اتنا خطرناک بناتا ہے؟

یہاں موسم کسی وعدے کا پابند نہیں۔ چند لمحوں میں دھوپ برفانی طوفان میں بدل جاتی ہے۔ ہزاروں ٹن وزنی برفانی تودے کسی بھی وقت ڈھلوانوں سے ٹوٹ کر نیچے آ سکتے ہیں۔ اور آٹھ ہزار میٹر سے اوپر وہ ڈیتھ زون شروع ہو جاتا ہے جہاں ہر سانس جسم سے زندگی چھیننے لگتی ہے۔

شاید اسی لیے نانگا پربت ہمیں ایک سبق بھی دیتا ہے۔ فطرت کو کبھی شکست نہیں دی جا سکتی۔ انسان صرف اتنی اجازت پاتا ہے جتنی پہاڑ اسے دینا چاہے۔

اور یہی وجہ ہے کہ نانگا پربت صرف ایک پہاڑ نہیں، بلکہ زمین پر کھڑی وہ خاموش عظمت ہے جس کے سامنے پہنچ کر انسان اپنی تمام کامیابیوں، غرور اور طاقت کو بہت چھوٹا محسوس کرنے لگتا ہے۔

اگر آپ کو صرف ایک موقع ملے، تو آپ نانگا پربت کو فیری میڈوز سے دیکھنا پسند کریں گے، روپال فیس کی عظمت کے سامنے کھڑے ہونا چاہیں گے، یا دیامیر کی دشوار وادیوں میں اس قاتل پہاڑ کے اصل چہرے سے ملاقات کرنا چاہیں گے؟
Composed by Life Goes On

Explore the mighty Nanga Parbat Rupal Phase, the highest rock face in the world & stay at Rupal perch resort where the r...
28/06/2026

Explore the mighty Nanga Parbat Rupal Phase, the highest rock face in the world & stay at Rupal perch resort where the road ends and adventure starts.

Nanga Parbat Rupal Face has earned legendary status because it combines exceptional technical difficulty with the sheer scale of the climb. Even among the world's 8,000-meter peaks, it remains one of the most respected and demanding routes in mountaineering.

Alpine Adventure Guides ♥️ Romanian Association of Mountaneering and Exploration Club Alpino Italiano Sezione di PENNE Northern Areas of Pakistan Awka Expediciones

Address

Nanga Parbat Rupal Phase
Gilgit
14300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when میرا پاکستان posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category