Hotel 2nd Home

Hotel 2nd Home A unique experience of staying in your second home.. As it's our priority to serve you well..

اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کتنی زبانیں جانتے ہیں، دل کی زبان جاننا آپ کو اہل اور قیمتی بنا دیتا ہے ۔ *مولانا رومی*
02/10/2023

اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کتنی زبانیں جانتے ہیں، دل کی زبان جاننا آپ کو اہل اور قیمتی بنا دیتا ہے ۔

*مولانا رومی*

ریاض خٹک لکھتے ہیں۔ کہ صحرائے سینا بھی سرسبز و شاداب ہو سکتا ہے. ہالینڈ کا ایک ماہر مصر کی حکومت کو بریفنگ دے رہا تھا. و...
25/09/2023

ریاض خٹک لکھتے ہیں۔ کہ صحرائے سینا بھی سرسبز و شاداب ہو سکتا ہے. ہالینڈ کا ایک ماہر مصر کی حکومت کو بریفنگ دے رہا تھا. وہ ان کو سمجھا رہا تھا کہ مسئلہ سارا تخیل کا ہے. آپ صحرائے سینا کی وسعت کو سوچیں گے تو یہ صحرا اپنا طول و عرض بڑھاتا چلا جائے گا. لیکن اگر آپ اسے ٹکڑے ٹکڑے کر کے درختوں سے آباد کرنا شروع کر دیں گے تو یہ سرسبز میدان بن جائے گا.

سفر ہمیشہ ایک خواب سے شروع ہوتا ہے. چاند پر انسان کے جانے کا خواب پہلے دیکھا گیا تب ناسا کہ پاس کوئی روڈ میپ نہیں تھا کہ یہ ممکن کیسے ہوگا.؟ لیکن خواب کو قابل عمل بنانے کیلئے قابل حصول ٹکڑوں میں تقسیم کیا جاتا ہے. جیسے افریقہ کے بہت سے ممالک نے صحرائے صحارا کے آگے ایک عظیم سبز دیوار کھڑی کرنے کا منصوبہ بنایا. بہت بڑی سرمایہ کاری کی گئی لیکن وہ ناکام ہوگئی. کیونکہ اتنی بڑی سرمایہ کاری کی دیکھ بھال ممکن نہیں تھی درخت سوکھتے چلے گئے.

چین نے البتہ اپنے خواب کو ٹکڑے ٹکڑے کیا. سالوں تک صحرا ہنستا رہا یہاں تک کے جگہ جگہ سبز دیوار بلند ہو کے آپس میں ملنے لگی اور صحرا کو پیچھے دھکیلنا شروع ہوگیا. صحرا آباد زمینوں کا کینسر ہے. اسے بڑی مستقل مزاجی اور طویل محنت سے ہی ہرانا ممکن ہے. صحرا جب آباد زمین میں گھستا ہے تو پہلے اس کی کمزور مخلوق یعنی گھاس پھونس کو ڈھانپ لیتا ہے. یہ کمزور مخلوق ہی ماحول کو آباد رکھتی ہے. یہ جب ختم ہو جائے تو ہوا صحرائی ہو جاتی ہے اور پھر بڑے بڑے درخت سوکھنا شروع ہو جاتے ہیں.

آباد زمین صحرا نہ بن جائے اس کیلئے اس زمین کی کمزور مخلوق کا تحفظ لازم ہے. صحرا کو لیکن دوبارہ سر سبز و شاداب کرنے کیلئے بڑے خواب اور ایک عرصے کی مستقل مزاج مزاحمت کی ضرورت ہوتی ہے.

19/09/2023

ہم لوگ ماڈرن کہلائے جانے کے چکر میں بہت قیمتی چیزیں چھوڑ بیٹھے ہیں۔ ہم نے آسانیاں ڈھونڈیں اور اپنے لیے مشکلیں کھڑی کر دیں۔
-
آج ہم دھوتی پہن کے باہر نہیں نکل سکتے لیکن صدیوں کی آزمائش کے بعد یہ واحد لباس تھا جو ہمارے موسم کا تھا۔ ہم نے خود اپنے اوپر جینز مسلط کی اور اس کو پہننے کے لیے کمروں میں اے سی لگوائے۔ شالیں ہم نے فینسی ڈریس شو کے لیے رکھ دیں اور کندھے جکڑنے والے کوٹ جیکٹ اپنا لیے۔ ہمیں داڑھی مونچھ اور لمبے بال کٹ جانے میں امپاورمنٹ ملی اور فیشن بدلا تو یہ سب رکھ کے بھی ہم امپاورڈ تھے!
-
ہم نے حقہ چھوڑ کے سگریٹ اٹھایا اور ولایت سے وہی چیز جب شیشے کی شکل میں آئی تو ہزار روپے فی چلم دے کر اسے پینا شروع کر دیا۔ ہے کوئی ہم جیسا خوش نصیب؟
-
ہم نے لسی چھوڑی، کولا بوتلیں تھام لیں، ہم نے ستو ترک کیا اور سلش کے جام انڈیلے، ہم نے املی آلو بخارے کو اَن ہائی جینک بنا دیا اور وہی چیز ایسنس کے ساتھ جوس کے مہر بند ڈبے خرید کے بچوں کو پلائی، وہ پیک جس کے آر پار نہیں دیکھا جا سکتا کہ گتے کا ہوتا ہے۔ ہم نے ہی اس اندھے پن پہ اعتبار کیا اور آنکھوں دیکھے کو غیر صحت بخش بنا دیا۔
-
ہم نے دودھ سے نکلا دیسی گھی چھوڑا اور بیجوں سے نکلے تیل کو خوش ہو کے پیا، ہم نے چٹا سفید مکھن چھوڑا اور زرد ممی ڈیڈی مارجرین کو چاٹنا شروع کر دیا، اس کے نقصان سٹیبلش ہو گئے تو پھر ڈگمگاتے ڈولتے پھرتے ہیں۔ گوالے کا پانی ہمیں برداشت نہیں لیکن یوریا سے بنا دودھ ہم گڑک جاتے ہیں، الحمدللہ!
-
اصلی دودھ سے ہمیں چائے میں بو آتی ہے اور ٹی واٹنر ہم نوش جان کرتے ہیں جس پہ خود لکھا ہے کہ وہ دودھ نہیں۔ گھر کے نیچے بھینس باندھ کر ہم نے سوکھا دودھ باہر ملک سے خریدنے کا سودا کیا اور کیا ہی خوب کیا!
ہم تو وہ ہیں جو آم کے موسم میں بھی اس کا جوس شیشے کی بوتلوں میں پیتے ہیں۔
-
ہم گڑ کو پینڈو کہتے تھے، سفید چینی ہمیں پیاری لگتی تھی، براؤن شوگر نے ہوٹلوں میں واپس آ کے ہمیں چماٹ مار دیا۔ اب ہم ادھر ادھر دیکھتے ہوئے گال سہلاتے ہیں لیکن گڑ بھی کھاتے ہیں تو پیلے والا کہ بھورا گڑ تو ابھی بھی ہمیں رنگ کی وجہ سے پسند نہیں۔
-
آئیں، ہم سے ملیں، ہم ایمرجنسی میں پیاسے مر جاتے ہیں، گھروں کی ٹونٹی کا پانی نہیں پی سکتے، نہ ابال کر نہ نتھار کے، ہم پانی بھی خرید کے پیتے ہیں۔ ہم ستلجوں، راویوں، چنابوں اور سندھوں کے زمین زاد، ہم ولایتی کمپنیوں کو پیسے دے کے پانی خریدتے ہیں۔
-
ہم تو پودینے کی چٹنی تک ڈبوں میں بند خریدتے ہیں۔ چھٹانک دہی اور مفت والے پودینے کی چٹنی ہم ڈیڑھ سو روپے دے کے اس ذائقے میں کھاتے ہیں جو ہمارے دادوں کو ملتی تو انہوں نے دسترخوان سے اٹھ جانا تھا۔
-
سوہانجنا ہمیں کڑوا لگتا تھا، جب سے وہ مورنگا بن کر کیپسولوں میں آیا ہے تو ہم دو ہزار میں پندرہ دن کی خوراک خریدتے ہیں۔ وہی سوکھے پسے ہوئے پتے جب حکیم پچاس روپے کے دیتا تھا تو ہمیں یقین نہیں تھا آتا۔
-
پانچ سو روپے کا شربت کھانسی کے لیے خریدیں گے لیکن پانچ روپے کی ملٹھی کا ٹکڑا دانتوں میں نہیں دبانا، ’عجیب سا ٹیسٹ آتا ہے۔‘
-
ہم پولیسٹر کے تکیوں پہ سوتے ہیں، نائلون ملا لباس پہنتے ہیں، سردی گرمی بند جوتا چڑھاتے ہیں، کپڑوں کے نیچے کچھ مزید کپڑے پہنتے ہیں اور زندگی کی سڑک پہ دوڑ پڑتے ہیں، رات ہوتی ہے تو اینٹی الرجی بہرحال ہمیں کھانی پڑتی ہے۔
-
ہم اپنی مادری زبان ماں باپ کے لہجے میں نہیں بول سکتے۔ ہم زبان کے لیے نعرے لگاتے ہیں لیکن گھروں میں بچوں سے اردو میں بات کرتے ہیں۔ ہم اردو یا انگریزی کے رعب میں آ کے اپنی جڑیں خود کاٹتے ہیں اور بعد میں وجہ ڈھونڈتے ہیں کہ ہم ’مس فٹ‘ کیوں ہیں۔
-
عربی فارسی کو ہم نے مدرسے والوں کی زبان قرار دیا اور ہاتھ جھاڑ کے سکون سے بیٹھ گئے۔ ’فورٹی رولز آف لَو‘ انگریزی میں آئی تو چومتے نہیں تھکتے۔ الف لیلیٰ، کلیلہ و دمنہ اور اپنے دیسی قصے کہانیوں کو ہم نے لات مار دی، جرمن سے گورے کے پاس آئی تو ہمیں یاد آ گیا کہ استاد مال تو اپنا تھا۔
جا کے دیکھیں تو سہی، عربی فارسی کی پرانی ہوں یا نئی، صرف وہ کتابیں ہمارے پاس اب باقی ہیں جو مدرسوں کے نصاب میں شامل ہیں۔ باقی ایک خزانہ ہے جسے ہم طلاق دیے بیٹھے ہیں۔ پاؤلو کوہلو اسی کا ٹنکچر بنا کے دے گا تو بگ واؤ کرتے ہوئے آنکھوں سے لگا لیں گے۔ متنبی کون تھا، آملی کیا کر گئے، شمس تبریز کا دیوان کیا کہتا ہے، اغانی میں کیا قصے ہیں، ہماری جانے بلا!
-
ہماری گلیوں میں اب کوئی چارپائی بُننے والا نہیں آتا، ہمیں نیم اور بکائن میں تمیز نہیں رہ گئی، ہمارے سورج سخت ہوگئے اور ہمارے سائے ہم سے بھاگ چکے، ہمارے چاند روشنیاں نگل گئیں اور مٹی کی خوشبو کو ہم نے عطر کی شکل میں خریدنا پسند کیا۔
-
وہ بابا جو نیم کی چھاؤں میں چارپائی لگائے ٹیوب ویل کے ساتھ دھوتی پہنے لیٹا ہوتا ہے، وہ حقے کا کش لگاتا ہے، ہمیں دیکھتا ہے اور ہنس کے آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ اسے کب کی سمجھ آ گئی ہے، ہمیں نہیں آئی۔
منقول

05/07/2023
05/07/2023

سفر پر نکلو
ورنہ تم نسل پرست بن کے رہ جاؤ گے،
اور تم اسی ایمان و گمان کے دائرے میں مقید رہو گے
کہ گویا صرف اور صرف تمہاری چمڑی کا رنگ ہی حق ہے
اور یہ کہ بس تمہاری ہی زبان رومانوی ہے،
اور یہ کہ بس تم ہی اولین تھے اور تم ہی اول رہو گے۔

سفر پر نکلو
کیونکہ اگر تم سفر نہیں کرتے
تو تمہارے خیالات کو مضبوطی نصیب نہیں ہو سکے گی
اور تمہارے خیالات کی جھولی عظیم ترین نظریات سے لبریز نہ ہو سکے گی،
تمہارے خواب کمزور، ناتواں
اور لرزتی ٹانگوں کے ساتھ جنم لینگے،
اور پھر تمہارے یقین کا مرکز و محور ٹیلی ویژن شو ہی رہ جائینگے،
یا پھر وہ لوگ کہ جو درندہ صفت دشمنوں کی ایجاد و کاشت کرتے ہیں،
جو تمہارے ڈراؤنے خوابوں سے ہم آہنگ ہوں گے
تاکہ تم اگر جیو بھی تو ایک گہرے خوف کے ساتھ۔

سفر پر نکلو
کیونکہ سفر تم کو بغیر اس تفریق کے،
کہ ہم کس خطے کے باسی ہیں،
تمہیں ہر ایک کو "صبح بخیر” کہنے کی طاقت سے سرشار کر دے گا،

سفر پر نکلو
کیونکہ سفر اس فرق کے بغیر کہ ہم
کون کونسے اندھیرے اپنے من میں لئے پھرتے ہیں،
ہر ایک کو "شب بخیر” کہنے کی غنائیت سے سرفراز کر دے گا۔

سفر پر نکلو
ورنہ تمہارا ایمان و نظر بجائے اسکے کہ تمہارے اندرونی مناظر کی سیر و تفریح سے لطف اندوز ہو،
ایک ہی بیرونی منظر کا قیدی رہے گا۔

(اٹلی کے عظیم شاعر گایو آیون کی نظم کا اردو ترجمہ)

10/06/2023

Rooms available at reasonable rates

10/06/2023




05/02/2023

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

چلاس گلگت ہنزہ عطاء آباد جھیل چائنہ بارڈر اور نلتر جانے والے تیار ھو جائیں اس جمعے کو روانگی

انتہائی مناسب ترین ریٹس پہ پیکج دستیاب ہے

سٹوڈنٹس اور کپلز کے لئے خصوصی ڈسکاؤنٹ

تفصیلات کے لئے کال یا واٹس ایپ کریں

0303-5845367
0318-6037927
عثمان غنی
فرینڈز ٹوورز لاھور

12/01/2023

سفر پر نکلو
ورنہ تم نسل پرست بن کے رہ جاؤ گے،
اور تم اسی ایمان و گمان کے دائرے میں مقید رہو گے
کہ گویا صرف اور صرف تمہاری چمڑی کا رنگ ہی حق ہے
اور یہ کہ بس تمہاری ہی زبان رومانوی ہے۔
اور یہ کہ بس تم ہی اولین تھے اور تم ہی اول رہو گے۔

سفر پر نکلو
کیونکہ اگر تم سفر نہیں کرتے
تو تمہارے خیالات کو مضبوطی نصیب نہیں ہو سکے گی
اور تمہارے خیالات کی جھولی عظیم ترین نظریات سے لبریز نہ ہو سکے گی،
تمہارے خواب کمزور، ناتواں
اور لرزتی ٹانگوں کے ساتھ جنم لیں گے۔
اور پھر تمہارے یقین کا مرکز و محور ٹیلی ویژن شو ہی رہ جائیں گے۔
یا پھر وہ لوگ کہ جو درندہ صفت دشمنوں کی ایجاد و کاشت کرتے ہیں،
جو تمہارے ڈراؤنے خوابوں سے ہم آہنگ ہوں گے
تاکہ تم اگر جیو بھی تو ایک گہرے خوف کے ساتھ۔

سفر پر نکلو
کیونکہ سفر تم کو بغیر اس تفریق کے،
کہ ہم کس خطے کے باسی ہیں۔
تمہیں ہر ایک کو "صبح بخیر" کہنے کی طاقت سے سرشار کر دے گا۔

سفر پر نکلو
کیونکہ سفر اس فرق کے بغیر کہ ہم
کون کونسے اندھیرے اپنے من میں لئے پھرتے ہیں،
ہر ایک کو "شب بخیر" کہنے کی غنائیت سے سرفراز کر دے گا۔

سفر پر نکلو
ورنہ تمہارا ایمان و نظر بجائے اسکے کہ تمہارے اندرونی مناظر کی سیر و تفریح سے لطف اندوز ہو،
ایک ہی بیرونی منظر کا قیدی رہے گا۔

(اٹلی کے عظیم شاعر گایو آیون کی نظم کا اردو ترجمہ)

21/11/2022

Stunning "KKH" Gilgit Baltistan

Lake "Saif ul malook" in winter... ❄️❄️
21/11/2022

Lake "Saif ul malook" in winter... ❄️❄️

Address

Main Yadgar Chowk Near Gilgit Airport
Gilgit
15100

Telephone

+923465751541

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hotel 2nd Home posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Hotel 2nd Home:

Share

Category