03/09/2026
ہجرت کے بعد مسجدِ نبوی ﷺ تعمیر ہوئی۔ مسجد کے ایک حصے میں کھجور کی شاخوں سے سایہ دار چبوترہ/برآمدہ بنایا گیا، جسے الصُّفَّة (Suffah) کہا جاتا تھا۔ یہاں ایسے صحابہؓ قیام فرماتے تھے جن کے پاس مدینہ میں اپنا گھر یا خاندان نہیں تھا، خصوصاً ایسے مہاجرین جو دنیاوی سہولیات چھوڑ کر رسول اللہ ﷺ کی صحبت اور دین کی تعلیم کے لیے وقف تھے۔ ان صحابہ کو اصحابِ سفہ کہا جاتا ہے۔ ان اصحاب کی تعداد مستقل نہیں تھی بلکہ کم زیادہ ہوتی رہتی تھی۔ صحیح بُخاری کی حدیث 442 میں حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں:
"میں نے اصحابِ صفہ میں سے ستر آدمیوں کو دیکھا..."
اصحابِ صفہ صرف غریب لوگ نہیں تھے۔ ان میں بہت سے ایسے صحابہؓ تھے جنہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ رسول اللہ ﷺ سے قرآن، حدیث اور دین سیکھنے میں گزارا۔
وہ قرآن سیکھتے اور یاد کرتے، رسول اللہ ﷺ کی مجالس میں بیٹھتے،
احادیث سنتے، عبادت کرتے، بعض اوقات لکھنا پڑھنا بھی سیکھتے اور
پھر ان میں سے بعض کو مختلف قبائل میں اسلام اور قرآن کی تعلیم دینے کے لیے بھیجا جاتا۔ اسی لیے صُفّہ کو ابتدائی اسلامی دور کے ایک اہم علمی و تربیتی مرکز کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔
ان میں مختلف اوقات میں کئی جلیل القدر صحابہؓ شامل رہے، مثلاً:
حضرت ابو ہریرہؓ
سب سے مشہور اصحابِ صفہ میں سے، اور سب سے زیادہ احادیث روایت کرنے والے صحابہ میں نمایاں۔
حضرت سلمان فارسیؓ
رسول اللہ ﷺ نے اُن کی آزادی کے لیے تین سو کھجور کے درخت اپنے دستِ مبارک سے لگائے۔ آج مدینہ شریف میں یہی باغ حضرت سلمان فارسی کا باغ کہلاتا ہے۔
حضرت ابو ذر غفاریؓ
اسلام قبول کرنے والے ابتدائی صحابہؓ میں سے تھے اور حق گوئی و بے باکی میں مشہور تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی سچائی اور زہد کی بہت تعریف فرمائی۔ ( جامعہ ترمذی 3801)
حضرت حذیفہ بن یمانؓ
رسول اللہ ﷺ نے انہیں منافقین کے ناموں سے متعلق ایک خاص راز عطا فرمایا تھا۔ اسی وجہ سے انہیں "صاحبِ سرِّ رسول اللہ ﷺ" بھی کہا جاتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ
وہ قرآنِ کریم کے جلیل القدر قاری اور فقہ و علم میں ممتاز صحابیؓ تھے۔
رسول اللہ ﷺ نے ان سے قرآن سیکھنے کی ترغیب دی۔ (صحیح بُخاری 4999)
حضرت صہیب رومیؓ
وہ روم سے نسبت رکھنے والے عظیم صحابیؓ تھے اور اسلام کی خاطر اپنا مال چھوڑ کر ہجرت کی۔ ان کی قربانی پر اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف فرمائی، اور رسول اللہ ﷺ نے ان کی قدر فرمائی۔ (سورہ بقرہ آیت 207)
حضرت کعب بن مالکؓ
وہ انصار کے مشہور شاعر اور رسول اللہ ﷺ کے دفاع میں شعر کہنے والے صحابیؓ تھے۔ غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ جانے کے بعد ان کی سچی توبہ قبول ہونے کا واقعہ بہت مشہور ہے۔ (سورۃ توبہ 118)
صُفّہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد صرف نماز کی جگہ نہیں تھی؛ وہ عبادت، تعلیم، تربیت، معاشرت اور انسانوں کی کفالت کا مرکز بھی تھی۔
اور حضرت ابو ہریرہؓ کی زندگی اس کی بہترین مثال ہے۔ وہ صُفّہ میں رہتے، رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں زیادہ وقت گزارتے اور اسی وجہ سے انھیں بے شمار احادیث یاد کرنے اور آگے پہنچانے کا شرف حاصل ہوا۔
مسجدِ نبوی میں ریاض الجنہ جانے کے لیے گیٹ نمبر 40 بابِ جبریل سے اندر داخل ہوتے ساتھ ہی بائیں طرف یہ مبارک جگہ موجود ہے۔ آپ میں سے جو بھی ریاض الجنہ جائے اس مبارک جگہ کی بھی لازمی زیارت کریں۔
تحریر پسند آئے تو اپنے دوست احباب کے ساتھ بھی شیئر کریں خاص کر وہ جو بہت جلد مدینہ شریف جانے والے ہیں
Faizan E Kaaba Group
صُفّہ کا چبوترا مسجد نبوی
مدینہ منورہ سعودی عرب