14/06/2022
Proud of you
ہسپتالوں کی بہنیں💞
جب اسپتال میں مریض کو لایا جاتا ہے تو ڈاکٹر کے
منہ سے پہلا لفظ ہی نرس نکلتا ہے اسٹاف جلدی آئیں جلدی جائیں
یا پھر انجکیشن لگائیں اور پھر وارڈ میں شفٹ کروائیں تک کا سفر رب کریم نے ہر بندے میں اپنی
کوئی نہ کوئی صفت ضرور ڈالی ہے
چاہے وہ ڈاکٹرز ہوں انجئنیر ہوں یا پھر کوئی عام آدمی ہی کیوں نہ ہو اسی طرح ہمارے معاشرے میں ایک مقدس پیشہ اسپتالوں میں مسیحاوں کے روپ میں اسٹاف کا بھی ہوتا ہے جن کو ہم
اسپتالوں میں عام زبان میں سسٹر جو انگریزی کا لفظ ہے
مگر اردو میں اس کا مطلب ہے بہنیں
تو بہن دنیا کا وہ واحد مقدس رشتہ ہے جس کی مثال ڈھونڈنے
سے بھی نہیں ملتی اسپتال میں اگر ڈاکٹرز مسیحاوں کا کردار ادا
کر رہے ہیں تو وہی پر یہ نرسسز بھی لوگوں کے ساتھ مسیحائی
کر رہی ہیں جب اسپتال میں مریض کو لایا جاتا ہے تو ڈاکٹر کے
منہ سے پہلا لفظ ہی نرس نکلتا ہے اسٹاف جلدی آئیں جلدی جائیں
یہ پھر انجکیشن لگائیں اور پھر وارڈ میں شفٹ کروائیں تک کے سفر
میں سسٹر کا رول ہر جگہ پر بہت اہم ہوتا ہے
سرکاری و پرائیوٹ اسپتالوں میں یہی بہنیں اسی طرح مریض کی
حفاظت دیکھ بھال کر رہی ہوتی ہیں جیسے گھر ایک بہن بھائی
کی والد، ماں، بچوں کی دیکھ بھال کر رہی ہوتی ہے بعض بار تو
ایسا ہوتا ہے کہ اسپتال میں پریشان مریضوں کے ساتھ ان کے
لواحقین نرسسز سے بہت زیادہ بد اخلاقی سے پیش آتے ہیں
مگر ان کا دل بہنیوں کی طرح موم ہوتا ہے وہ پھر بھی اپنی بے
عزتی کروا کر چہرے پر مسکراہٹ لیے اس مریض کی دیکھ
بحال کر رہی ہوتی ہیں اسپتال میں یہ سسٹرز جن کو ہر کوئی
ایک ایک سکینڈ کے بعد پکار رہا ہوتا ہے سسٹر میرے بیٹے
کو انجیکشن لگا دیں سسٹر میرے بھائی کو اکسیجن لگا دیں
سسٹر یہ بیڈ شیٹ بدل دیں سسٹرز دیکھیں میری ماں کو کیا
ہوا تو پھر وہ اسپتال کی سسٹر ویسے ہی اس ماں کو بچانے کے
لیے اسپتال میں ڈوڑ رہی ہوتی ہے جیسے کوئی بیٹی بہن بیوی
اپنے کسی سگے کو بچانے کے لیے دوڑتی ہے
مگر آج تک کسی نے اسپتال میں ٹھیک ہونے کے بعد سسٹر جو
اسپتال میں حقیقی معنوں میں بہن کا کردار ادا کر رہی ہوتی ہے
اس کو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا اس معاشرے کو سوچنا ہو
گا کہ کام کوئی بڑا چھوٹا نہیں ہوتا انسان اپنے اخلاق اور کردار
سے بڑا ہوتاہے مشکل وقت میں مدد کرنے والا ہی اصل مسیحا ہوتا ہے