K2 Guesthouse Khaplu since 1977

K2 Guesthouse Khaplu since 1977 K2 Guesthouse since 1977 Offers well Furnished comfortable rooms at prime location in Khaplu city on affordable prices..

Book now and enjoy the stay at one of the most beautiful places in the world..

20/07/2023

Nature















شمدون کے راہی ۔۔۔ اب یہ شمدون کیا ہے۔ شمدون تھلے بروق کے آخری سرے پر موجود شمدون بروق یا شمدون پولو گراؤنڈ ہے۔ سہولت کیل...
20/07/2023

شمدون کے راہی ۔۔۔
اب یہ شمدون کیا ہے۔ شمدون تھلے بروق کے آخری سرے پر موجود شمدون بروق یا شمدون پولو گراؤنڈ ہے۔ سہولت کیلئے اسے شمدون میڈوز بھی کہہ سکتے ہیں ۔
میرے حالیہ ٹرپ میں خپلو کیلئے خاصے دن مختص تھے ۔میرے پہنچنے سے پہلے یہ خبر ملی کہ خپلو ہوٹل ایسوسی ایشن دو روزہ ٹرپ منعقد کر رہی ہے جس میں مجھے شامل ہونا ہے ۔ چلیں اس سے بھلا کیا ہو گا اگر ہوٹل ایسوسی ایشن کے ممبران اپنے لئے ٹرپ پلان کر رہے تو یقیناََ اچھا ہی ہو گا۔
میرے میزبان ہل ویو ہوٹل کے قطب الدین بھائی تھے۔
اب مصروف ترین سیزن کے دنوں میں اگر ایسا پلان بن جاے تو صاف بات ہے اتنی شدید مصروفیت کے عالم میں سب کا ایک ساتھ اکٹھا ہونا بہت مشکل کام تھا۔
سویر آٹھ بجے روانگی کی اطلاع ملی تو ہم چھ بجے کے قریب ہی فریش ہو کر واک پر نکل گئے۔ واپس آئے تو بھی گیسٹ ہاؤس سویا ہوا محل بنا ہوا تھا ۔ اٹینڈنٹ کو فون کر کے پوچھا بھیا جی کیا، ارادے ہیں تو جواب ملا نو بجے تک آرام فرمائیے اس کے بعد آپ کو زحمت دی جاے گی ۔ چلو جی ہن آرام اے ہور دکھاو پھرتیاں ۔۔۔۔
دس بجے کے قریب قطب الدین بھائی نے کہا کہ ایک سوشل ویلفیئر فاؤنڈیشن کی تعلیمی تقریب میں شرکت کرنا ہے پھر وہاں سے ہم آگے چلیں گے۔ سامان رکھا اور ان کے والد صاحب قبلہ ۔۔۔۔۔ کو ڈراپ کرتے ہم تقسیم اسناد کی اس محفل میں کچھ دیر حاضری لگانے اور اپنا اپنا اظہارِ خیال فرمانے کے بعد رخصت چاہی۔
اب اگلا پڑاو کے ٹو ہوٹل تھا جہاں پہنچنے پر پتا چلا ابھی گول میز کانفرنس جاری ہے ۔
جس میں کے ٹو ہوٹل کے مالک زاہد بھائی جو کہ انتہائی نفیس انسان ہیں ، گیاری ریزارٹ سے طاہر بھائی ٹیم کا سب سے شغلی بندہ ، گنگچھے فوڈ سٹریٹ سے خاموش خاموش سے مظاہر بھائی، اور راک ہل سے جی ایم بھائی جن کی مجھے ککھ سمجھ نہیں آئی موجود ہیں اللہ جانے بلتی زبان میں کیا سر کھپائی جاری تھی کہ مجھے کہنا پڑا مجھے بتا دیں کیا مسئلہ ہے جو حل نہیں ہو رہا، خیر انہوں نے یہی غنیمت جانا کہ مجھے الگ ٹیرس پر نشست فراہم کردی گئی تاکہ وہ اپنے معاملات امن سکون سے حل کر سکیں ۔
اگلی اینٹری رائل فش فارم سے آصف بھائی اور شاہنواز عرف شانو دی فوٹوگرافر اور قراقرل لاج سے تنویر بھائی کی تھی۔
یاد رہے اس ساری سرگرمی کا مقصد علاقے میں ہوٹلز کا ایک مربوط نظام اور حکمت عملی ترتیب دینے کے ساتھ ساتھ علاقے کی پروموشن بھی تھا ۔ جس میں لکھاری، فوٹوگرافر، ولاگرز وغیرہ کی شمولیت متوقع تھی۔
خیر وہاں سے آدھی ٹیم بقیہ خریداری کرنے نکل گئی اور ہمیں گنگچھے فوڈ سٹریٹ پہنچا دیا گیا۔
گنگچھے فوڈ سٹریٹ خپلو میں اب تک کی میری پسندیدہ کھانے کی جگہ ہے اور جس جس کو بھی ریکیمنڈ کیا اچھا فیڈ بیک ہی ملا ہے۔
دوپہر ہو چکی تھی اور میں نے کھانا کھایا ساتھ میں بارش انجواے کی باقی ٹیم پھر بندے اکٹھے کرتی تتر بتر ہو چکی تھی ۔
خیر سب تقریباً اکٹھے ہو ہی گئے اور جن لوگوں نے آگے جوائن کرنا تھا ان سے رابطے ہو گئے تو سامان لوڈ کیا اور سامان کیا تھا پورا ٹرک بھر کے ۔۔ جس نے مجھے یہ کہنے پر مجبور کیا کہ کیا ہم وہاں صرف کھانے جا رہے۔ چکن سبزیاں، پھل ،کولڈ ڈرنکس، اور اللہ جانے کیا کیا بھرا تھا جو شاپنگ بیگز کی بجاے تھیلوں میں تھا ۔ میرے اتنا کہنے پر طاہر بھائی نے میری معلومات میں اضافہ کیا کہ ابھی ہم نے بکرا بھی لینا ہے ۔۔
وہ کیوں ۔۔
وہاں کھائینگے ۔۔۔
تو یہ جو اتنا کچھ ساتھ ہے ۔۔
وہ بھی کھائینگے ۔۔۔
اگے ہن اللہ دا ای آسرا اے ۔۔
زاہد بھائی نے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہی مجھ سے کہا " پہلے تو آپ نے گھبرانا نہیں ہے " موسم خراب تھا اور گاڑی کے بریک کے علاوہ سارے سسٹم" فری " تھے اور بارش ہوتے کافی دیر ہو چلی تھی تو امید تھی آگےچڑھائی پر پھسلن وغیرہ کا سامنا ہو گا۔
اور میرا جواب تھا " جا تو ہم سب ہی رہے ہیں، جہاں بھی جائیں گے اکٹھے ہی جائیں گے اور اسکا مطلب مجھے سمجھانا پڑا کہ نیچے جانے کی صورت میں گاڑی ہی جاے گی تو میں اکیلی تو ہوں نہیں جو مجھے فکر ہو ۔
سارے راستے طاہر بھائی ہر آتی جاتی بھیڑ بکری پر نظر رکھے تھے کہ کونسی کھانے والی ہے کونسی نہیں ۔
ایک جگہ بکریوں کا ریوڑ ملا راستے میں تو طاہر بھائی نے بھاؤ تاؤ کرنے کی بھی کوشش کی مگر بات نہیں بنی اور طاہر بھائی کے بقول ان بکروں میں سے سلاجیت کی بو آ رہی یہ کہیں پہاڑوں سے سلاجیت چاٹ کر آے ہیں اور یہ کہ تھلے ویلی کے بکروں کا گوشت علاقے میں پاے جانے والے جانوروں میں سب سے خوشذائقہ ہوتا ہے ۔
تو آئیندہ آپ لوگ خپلو کی جانب عازم سفر ہوں تو گیاری ریزارٹ میں طاہر بھائی سے فرمائش کر کے یہ سلاجیتی بکرے کھا سکتے ہیں ۔
سارے راستے جی ایم بھائی کلمہ پڑھتے اور زاہد بھائی کو گاڑی پہاڑ کے ساتھ چلانے کی ہدایات دیتے رہے ۔
دوسری گاڑی والوں کے حالات نہ جانے کیا تھے ۔
اچھا خوبصورت راستہ سنہرے کھیت، پھلدار درخت اور دودھیا ندیوں کی سرزمین تھلے بے حد خوبصورت نظاروں کی حامل ہے۔
پہاڑوں کی ساخت اور ہئیت ہی بہت منفرد اور خوبصورت تھی۔
اچانک خستہ حالی میں اپنی مثال آپ ایک پل جو اچانک اترائی اور چڑھائی کے درمیان معلق تھا ۔ میں تو اسے کبھی پیدل نہ پار کرتی جس پر پوری گاڑی گزار دی گئی ۔۔۔
اللہ ہی حافظ ہے ۔۔۔ اور یہ ہی نہیں ایسے کئی پھَٹا پُل آپ کو منتظر ملیں گے ۔
خیر ناچتے گاتے گاڑی میں بھی اور جہاں گاڑی رکی وہاں بھی سب تھلے بروق کی جانب رواں تھے۔
برف پوش چوٹیاں بادلوں کے جھرمٹ میں سے اپنا آپ ظاہر کرتی تھیں ۔ ہلکی پھلکی بارش مسلسل جاری رہی تاوقتیکہ ہم تھلے بروق پہنچ گئے۔
اور یہ تھلے بروق کیا ہے ۔۔۔!!!
تھلے وادی ۔۔۔
اسے دودھ ندیوں اور سونا کھیتوں کی سرزمین کہیے یا گلیشئرز اور پھولوں کا جہان
جس طرف رخ کر لیں ایک عجب حسین منظر آپ کا منتظر ہو گا۔
ہریالی، زرخیزی اور قدرتی پھولوں کا جو تاثر لیے ہم دیوسائی جاتے ہیں میں نے اس علاقے کو بھی اتنا ہی بھر پور پایا ہے ۔
وادی تھلے خپلو شہر سے 40 کلو میٹر شمال مغربی سمت میں اور اکردو شہر سے 103 کلومیٹر اور مشرقی جانب واقع ہے ۔
تھلے مقامی زبان میں زیرے کو کہتے ہیں جو ایک بیش قیمت مصالحہ ہے جو ادویات اور کھانوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس وادی میں قدرتی طور پر بکثرت اگتا ہے۔ میدانوں اور ڈھلوانوں پر جا بجا آپ کو چھوٹے چھوٹے سفید پھولوں کے تیز خوشبو والے پودے ملیں گے جو اصل میں کالا زیرہ کے پودے ہیں ۔
وادی تھلے کے مشرق میں مشہور وادی ہوشے اور مشہ برم پیک، مغرب میں کیرس، نر غوڑو، بلغار ڈوغنی، وادی شگر ، کے ٹو ٹریک اور لا تعداد گلیشئرز اور ماونٹین پاسز کا گیٹ وے ہے ۔
بے انتہا خوبصورت وادی جس کا تاج شنکھا پیک اور شنکھانگ گلیشئر جو دور سے ہی خوبصورت دعوت نظارہ دیتے ہیں اور جن کے قدموں تک پہنچنے کیلئے آپ کو تھلے بروق سے ایک آسان ٹریک درکار ہے ۔
بلندو بالا برف پوش پہاڑوں کے دامن میں شنگ کھانگ بروق، بقما بروق، کھا سومک بروق، شمدون بروق اور شمدون زیارت گاہ، تھلے بروق موجود ہیں ۔ بروق مقامی زبان میں رہائشی علاقوں سے اوپر موجود بالائی چراگاہوں یا میڈوز کو کہتے ہیں ۔
4100 میٹر کی بلندی پر واقع جھیلیں ژھوس گھانگ لیک، راز گھانگ لیک، اور خما لیک اسی علاقے میں موجود ہیں ۔
ہر سال بہت سے مہم جو اور نیچر لورز اس علاقے کا رخ کرتے ہیں ۔
4552 میٹر بلند تھلے لا ٹریک وادی تھلے اور شگر کو ملاتا ہے ۔
تھلے کی مقامی آبادی مختلف علاقوں سے ہجرت کر کے اس علاقے میں آباد ہوئی جن میں چین، نگر اور شگر شامل ہیں.
پرانے قلعوں اور آمدورفت کے کچھ آثار بھی ان علاقوں کے بلند دروں میں پاے جاتے ہیں ۔
تھلے لا کی اہمیت زمانہ قدیم سے رہی ہے کہ اس راستے سے سکردو اور خو کے لوگ لداخ و دہلی تک پہنچتے تھے کہ حالیہ موجود سڑک کا وجود نہ تھا۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بلتستان کے راجاوں پر بیرونی حملے کی صورت میں تھلے لا ایک محفوظ راستہ سمجھا جاتا تھا ۔
تاریخ چاہے کچھ بھی کہے مگر ایک بات طے ہے کہ وادی تھلے انتہائی خوبصورت اور منفرد لینڈ سکیپ کی حامل ہے اور گلگت بلتستان کے دیگر علاقوں کی مانند ٹریکرز کیلئے جنت ثابت ہو سکتی ہے کہ آپ جدھر بھی رخ کر لیں منفرد میڈوز، گلیشئرز، چوٹیاں اور جھیلیں آپ کی منتظر ہونگی۔
خپلو شہر سے دو گھنٹے کی ڈرائیو پر ہر گاڑی باآسانی وادی تھلے اور تھلے بروق تک پہنچ سکتی ہے ۔ جہاں تھلے بروق ریزارٹ اور تھلے ان کے نام سے دو اور تین کمروں پر مشتمل ریسٹ ہاؤس کام کر رہے ہیں، صاف ستھرے ریسٹ ہاؤس، واش رومز اور اچھا کھانا یہاں موجود ہے اور اس کھانے کی بہترین بات یہ ہے کہ دودھ، گوشت، پھل، سبزی، گھی، مکھن، دہی، پنیر تمام تر قدرتی یا آرگینک ملے گا۔
شمدون بروق تک کے ٹریک نے بھی منفرد لینڈ سکیپ اور وسعت سے متعارف کرایا ۔
بلتستان آنے والے سیاحوں کیلئے جہاں خپلو شہر میں رہائش ایک نہایت خوبصورت اور پرسکون احساس ہے وہیں وادی تھلے اس خوبصورتی میں مزید اضافے کا باعث ہے۔
اگر آپ اپنے سیاحتی شوق کو مزید جلا بخشنا چاہتے ہیں تو خپلو شہر کے اطراف میں ایکسپلور کرنے کے بے تحاشا مواقع ہیں ۔
تمام بنیادی سہولیات آپ کو خپلو شہر میں ملتی ہیں جو کہ بذاتِ خود ایک منفرد اور خوبصورت شہر ہے۔
جبکہ اسکے اطراف میں مچلو، سیلنگ، دم سم، ہوشے، سیاچن اور چھوربٹ کارگل تک دیکھتے جائیے وادیوں اور ٹریکس کیلئے یہ علاقہ جنت کا درجہ رکھتا ہے ۔
تو ہم تھلے بروق پہنچ چکے تھے ۔ جہاں تھلے بروق ریزارٹ اور تھلے اِن کے نام سے دو گیسٹ ہاؤس موجود ہیں جو اچھی صاف ستھری سروسز دے رہے ہیں ۔
شام ہو چلی تھی پہلا دھاوا پھلوں پر بولا گیا اور ان کے ساتھ انصاف کرتے ہم تو آرام کرنے چلے گئے باقی ٹیم باہر ڈائننگ ایریا میں مصروف کار رہی پھر گیسٹ ہاوس کی چھت پر چڑھ گئے ۔۔مجھے بھی آفر کی آپ بھی آ جائیں جسے ہم نے لکڑی والی سیڑھی کی حالت اور اس سے زیادہ خود پر رحم کھاتے اوپر جانے سے صاف منع کردیا ۔۔۔
ایسی ہی ایک خوفناک سیڑھی کمراٹ میں راجا تاج کے میوزیم کی بھی تھی جو جانے کیسے چڑھے اور اترے تھے لیکن آج کیلئے توبہ ہی بھلی ۔۔۔
مغرب کی اذان ہونے کو تھی جب ٹیم نیچے تھلے اِن کی طرف روانہ ہوئی اور ہمارے زمے کھانے کا چارج تھا جو کہ مٹن کڑاہی اور چکن تکہ تھا ۔ چکن تکہ کو مصالحہ لگا دیا کہ باقی کام خود ہی کریں گے واپس آ کر اور اللہ کا نام لے کر مٹن کڑاہی بنا ڈالی جو میرے خاصے خدشات کے باوجود شکر ہے اچھی بن گئی ۔
ممتاز بھائی کے کچن کی میں فین ہوگئی دنیا کے اس کونے میں اتنی سہولیات والا کچن جو اچھے اچھے ہوٹلز میں بھی نہ ہو ۔
ٹیم واپس آئی تو سنگیت پارٹی شروع کر لی جسے میں نے بھوک لگی کا نعرہ لگا کر تھوڑی دیر کیلئے بریک لگوائی کھانے کے بعد قہوے کا دور اور میں تو حسبِ معمول ٹور پہ سب سے پہلے سونے والی عادت برقرار رکھے اپنے کمرے میں چلی گئی باقی ٹیم کب تک جاگی نہیں معلوم بس ایک وارننگ دی گئی کہ آپ نے صبح جلدی نہیں اٹھنا نہ ہی کسی کو اٹھانا ہے ۔۔۔ اوکے ٹھیک ہے !!!
اگلی صبح حسبِ معمول جلدی اٹھ کر باہر آئی تو دنیا سوئی پڑی تھی جاگ رہے تھے تو صرف گدھے اور ان کے والی جو انہیں ہانکتے اوپر پہاڑوں میں جا رہے تھے۔
کچھ دیر ادھر اُدھر ٹہلتی رہی بے تحاشہ جنگلی پھول ،خوبصورت مناظر، پرندوں کی آوازیں کیا خوب نظارہ تھا۔
ایک ایک کر کے ٹیم ممبرز بھی برآمد ہونا شروع ہوئے اور جو اٹھتا جاے چھت پر چڑھتا جاے ویسے یہ منطق سمجھ نہیں آئی پر جو بھی تھا رہنے ہی دیتے ہیں۔
بقول مزمل بھائی" مس جی ہر گل پچھن والی نئیں وی ہوندی ۔۔۔ " تو ہم نے بھی پوچھنا مناسب نہ سمجھا۔۔۔
ناشتہ" تھلے اِن " میں تھا جس کے مالک عطاء اللہ ہمیں ریسیو کرنے خود آ پہنچے اچھا تمیزدار بندہ ہے اور کیا مہمان نوازی تھی روایت اور جدت کا اعلی امتزاج لئے تھی ۔ اللہ ان کے رزق کاروبار میں برکت دے اس سے بہتر مہمان نوازی ممکن نہ تھی۔
ناشتے کے بعد ٹریک کاآغاز ہوا پہلے تنویر بھائی پھر زاہد بھائی ساتھ ہو لیے، ایک ہوٹل ہیلپر بھی سامان اٹھانے ساتھ تھا ۔
ہم حسبِ معمول اپنی سست رفتاری میں چلتے رکتے بڑھتے گئے اتنے میں باقی ٹیم گاتی بجاتی آئی اور ہم سے آگے نکل گئی ۔
پتھریلا رستہ جابجا جنگلی پھولوں سے اٹا ہوا تھا، پانی کی گزرگاہیں بے تحاشہ تھیں ۔اور گھاٹی نما راستے چڑھتے اترتے شمدون ٹاپ پہنچ گئے۔
شمدون ٹاپ تک پہنچ کر کچھ دیر ہمارا انتظار کیا اور ہمارے اوپر پہنچنے کے بعد کچھ فوٹوز ویڈیوز بناتے نیچے شمدون بروق جسے مقامی شمدون پولو گراؤنڈ بھی کہتے ہیں اتر گئے۔
شمدون بروق کیا تھا وسیع میدان جسکے چاروں طرف پہاڑ اور گلیشئرز اپنی شان و شوکت دکھاتے تھے اور درمیان میں بہتی ندیاں جلترنگ بجاتی تھیں۔
کچھ چرواہے اور مقامی لوگ اپنے جانوروں سمیت موجود تھے گھوڑے، گائیں، گدھے اور چند زوہ چرتے نظر آ رہے تھے ۔
میدان کے بیچ میں اتر کر ٹیم نے آگ جلانے اور چاے بنانے کا سلسلہ شروع کیا اور باقی ٹیم ڈھول سمیت گانے بجانے کی محفل سجا کر بیٹھ گئی اردگرد موجود مقامی افراد اور چرواہے بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے اور کافی دیر محفل سجی رہی ۔
ہم حسبِ معمول کچھ دور زمین پر ڈھیر رہے کچھ دیر ساتھیوں کو گاتے بجاتے دیکھا چاے تیار ہوئی اور چاے پی کر واپسی کی راہ لی ۔
عطاءاللہ بھائی نے مجھ سے ہمدردی کرتے مشورہ دیا کہ اب دائیں جانب پانی کے ساتھ ساتھ واپسی کریں ادھر سے چڑھائی" کم " ہے ۔اور یہ کم چڑھائی کیا تھی ۔۔ پہاڑ کے بنیرے بنیرے ریتلا کنارہ جس پر صرف بھیڑ بکریوں کے چلنے کی گنجائش تھی وہ تو خدا بھلا کرے زاہد بھائی کا جو مسلسل مدد گار رہے ۔
باقی ٹیم اپنی سپیڈ کے باعث شارٹ کٹ مارتی ہم سے پہلے ریزارٹ پہنچ چکی تھی ۔
میں تو فوراً کمرے میں جا کر دراز ہو گئی باقی ٹیم ڈائننگ ہال میں تھی کھانے کا انتظار ہوا جو کہ اچھی کوالٹی کی بریانی وہ بھی سلاد رائتے کولڈ ڈرنک اور میٹھے میں آم کے ہمراہ تھی اور اس جہاں میں کیا عیاشی چاہیے ۔
کھانے کے بعد واپسی کا سفر تھا جو دوسرے راستے سے کیا یوں ہم نے وادی کا راونڈ ٹرپ اور شمدون بروق ٹریک مکمل کیا اور اپنے گھر کی مطلب ہوٹل کی راہ لی ۔۔۔۔
ان لوگوں کے ساتھ گزرے دو دن میں یہ ضرور سمجھ آیا کہ یہ لوگ اپنے کام سے مخلص اور بہتری کے خواہاں ہیں ۔ اور دستیاب وسائل میں بہترین رہائش اور کھانا فراہم کر رہے ہیں ۔ کسی حد تک کوئی مسئلہ ہے تو وہ اس دور دراز علاقے میں دستیاب لیبر کا ہے ۔ لوکل لیبر اگر سکردو کے لوگوں کی طرح ہو جاے تو سروسز مزید بہتر ہو سکتی ہیں ۔
اور ہم ۔۔۔۔ ہم ابھی اس علاقے کو مزید ایکسپلور اور بقول ممتاز بھائی "ایکسپوز" کرنے کی خواہش میں اپنی مطلوبہ منازل کی گنتی ٹیم کو سناتے بقیہ بندوبست کرنے کا شور مچا رہے دیکھیے اس بار خپلو اور سکردو ہمارے ساتھ کیا کیا سلوک کرتا ہے ۔۔۔۔
شکریہ شمدون بروق ان دو خوبصورت اور یادگار دنوں کیلئے ۔۔۔۔ !!!
تحریر و تصاویر : سدرہ عتیق خان
ویڈیو : شاہنواز

20/07/2023
17/07/2023

Khaplu Hanjoor

17/07/2023

Siachen valley

Khorkondo kondus






















خوش آمدید❤️🌹
29/05/2022

خوش آمدید❤️🌹

از قلم خادم نوری صاحبتوجہ طلبضلع گانچھے فلک بوس چوٹیوں،سبزہ زاروں، آبشاروں،ماہ پاروں اور جھیل و چشموں کی سر زمین ہے ۔ماض...
16/09/2021

از قلم خادم نوری صاحب
توجہ طلب

ضلع گانچھے فلک بوس چوٹیوں،سبزہ زاروں، آبشاروں،ماہ پاروں اور جھیل و چشموں کی سر زمین ہے ۔ماضی میں یہ ضلع بلتستان کے دیگر اضلاع کی طرح ملکی لیول پر سیر و تفریح کے دلدادہ افراد کی نظروں سے ہمیشہ اوجھل رہے ہیں جس وجہ سے اکثر سیاح ناران ،کاغان اور زیادہ سے زیادہ وادی ہنزہ کی دیدار کرنے کے بعد واپس اپنے علاقوں کو لوٹتے تھے اس کے برعکس International level پر یہ ضلع مشہ بروم اور گشہ بروم کے آسمان سے باتیں کرتی چوٹیوں کی وجہ سے پہلے ہی کسی تعارف کے محتاج نہیں رہےلیکن 2017 کے بعد سوشل میڈیا کی وجہ سےیہاں کے پُرکشش سیاحتی مقامات دنیا بھر میں اجاگر ہونا شروع ہوا۔ اس کے علاوہ امریکہ کے ایک میگزین نے جی بی کے تمام اضلاع کو خوبصورت ترین علاقہ قرار دیااس صورتحال کی وجہ سے بڑی تعداد میں غیر ملکیوں کے علاوہ ملکی سیاح بھی یہاں کا رُخ کرنے لگے ہیں جو دیگر اضلاع کے مکینوں کی طرح اہلیان گانچھے کے لئے بھی نیک شگون ہےکیونکہ ہمارامستقبل بلا شبہ شعبہ سیاحت سے وابسطہ ہے۔پچھلے مہینے کسی کتاب کی تقریب رونمائی کے سلسلے میں مجھے ہائی سکول خپلو جانے کا اتفاق ہوا۔اس تقریب میں فرزند ملکہ بلتستانی راشد سمیع صاحب کے علاوہ شہر سے تشریف لائے ہوئے ایک Invester بھی شریک تھے انہوں نے سامعین سے مخاطب ہو کر کہا کہ یہ خطہ سیاحت کے اعتبار سے دنیا بھر میں اجاگر ہونے لگا ہے اس لئے کوڈ 19 پر قابو پانے کے بعد سکردو ائیر پورٹ پر ملکی سیاحوں کے علاوہ بڑی تعداد میں فارن ٹورسٹ آیا کرے گی اس لئے قبل از وقت بڑی تعداد میں انوسٹر بلتستان میں سیاحت کے شعبے میں انوسٹ کرنے کے خواہاں ہے لہذا بہت جلد یہاں کے لوگوں کی قسمت بدل جائے گی۔ بحر کیف مہمانوں کی امید افزا باتوں سے سامعین اور سکول کے بچوں کو مستقبل کے حوالے سے کافی حوصلہ ملا اس لئےیہ امید کی جا سکتی ہے کہ ایندہ کچھ سالوں میں بلتستان میں سیاحت کے شعبے میں وسیع روزگار کے مواقع میسر ہونگے جس سے علاقے میں خوشحالی آئے گی لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سیاحوں کے ساتھ اخلاق سے پیش آئے ،مہمانوں کی ہر ممکن مدد کی جائے،ہوٹل مالکان اور گاڑی ڈرائیورز نا جائز منافع خوری سے اجتناب کرے نیز علاقے کی امیج کو بہتر بنانے کے سلسلے میں ہر فرد اپنے حصے کا شمع روشن کرے۔اکثر سیاحتی و تاریخی مقامات پر وزٹ کے لئے آنے والے لوگ مقامی بچوں کو پیسے اور ٹرافی تھما دیتے ہیں جس وجہ سے سلینگ سپنگ ٹوق سمیت دیگر تاریخی مقامات پر سیاحوں کے پیچھے معذرت کے ساتھ ہمارے بچے مٹھائی،بسکٹ اور پیسے کی حصول کے لئے طاق میں بیٹھے نظر آتے ہیں یہ صورتحاں ہمارے لئے بلا شبہ کسی المیے سے کم نہیں۔ اس کے علاوہ ایک سفید کلر کی ٹوپی پہنے ہنڈکو سپیکنگ ایک بزرگ شخص اور ایک اور غیر مقامی شخص جو دیکھنے میں پنجابی لگتے ہیں خود کو بیمار بتا کر بھیک مانگنے کی غرض سےپچھلے کئی مہینوں سے مختلف دفتروں کے چکر کاٹ رہے ہیں اور کبھی کبھار سیاحوں سے بھی پیسے کا تقاضا کرتے نظر آتے ہیں یوں یہ دونوں لوگوں سے خوب پیسہ بٹورنے میں مصروف ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف علاقے کے لئے بدنامی کا باعث بن رہی ہے بلکہ اس صورتحال سےگداگری کے پیشے کو بھی تقویت ملنے کا خدشہ ہے اس لئے ان منفی سرگرمیوں کی تدارک کے لئے ہم سب کو کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ دنیا بھر میں علاقے کی بہتر امیج عیاں ہو۔

09/09/2021

After 3 to 5 hours of trekking from khaplu city the majestic view of khaplu city and Khaplu broq❤️

Address

Khapalu
65000

Telephone

+923468116628

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when K2 Guesthouse Khaplu since 1977 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to K2 Guesthouse Khaplu since 1977:

Share

Category