06/07/2026
سرن ویلی۔۔۔سفر نامہ۔
"کالم"بزم قلم
تحریر۔عبدالواحد خان۔جبوڑی
دنیا کی ہنگامہ خیزیوں اور اعصابی تناو کے ماحول سے نکل کر طویل عرصے بعد جبوڑی سے جچھہ کا سفر اختیار کیا۔جچھہ پل کے پاس دریاۓ سرن کے کنارے قائم خیمہ بستی میں چار روزہ قیام کے دوران ایک طرف قدرت کی فیاضیوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع میسر آیا جبکہ دوسری طرف سیاحت اور علاقائی مسائل سے متعلق آگاہی حاصل کی۔مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ سیاحوں کی اچھی خاصی تعداد ان مقامات کا رخ کرتی ہے۔جچھہ پل سے پانچ منٹ کی مسافت پر دریاۓ سرن کے کنارے ایک پرفضا مقام پر دو ہوٹل زیر تعمیر ہیں۔شاہد کاظمی کا ہوٹل تکمیل کے آخری مراحل میں ہے جبکہ عبدالشکور خان لغمانی کا ہوٹل ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔اسی طرح جچھہ سے چند کلو میٹر پہلے عبدالغفور خان آفریدی کا ٹراوٹ فش فارم اور لگژری رہائشی کمرے چالو حالت میں ہیں۔منڈہ گچھہ میں بھی رہائش کیلیے مختلف گیسٹ ہاوسز کی سروسز میسر ہیں۔
جبوڑی سے نوازآباد تک سڑک کی حالت اچھی ہے تاہم نوازآباد تا منڈہ گھچہ اور دیولی تا منڈھی روڈ کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے جسکی وجہ سےنہ صرف مقامی آبادی بلکہ سیاحوں کو بھی شدید سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔۔نئے آنے والے سیاحوں کی معلومات میں اضافے کیلیے بتاتا چلوں کہ نواز آباد کے مقام سے سڑک دو حصوں میں تقسیم ہوجاتی ہے۔دائیں طرف منڈہ گچھہ۔سریالہ۔جچھہ۔ہڈور۔بکی۔کھوڑی۔موسٰی کا مصلٰی اور دیگر قابل دید سیاحتی مقامات واقع ہیں جبکہ نوازآباد سے سیدھا آگے کیطرف جانے والے روڈ پر کیری۔جبڑ ۔دیولی سادات۔نرالبن اور منڈھی کے مقامات سڑک کے کنارے واقع ہیں جبکہ بالائی مقامات میں بہشتی۔پلہجہ۔عرشی۔سوہنڑی دی سر۔کھنڈا گلی۔چرکو پیک۔چوڑ کوہستان اورآرام گلی کا حسن اپنی مثال آپ ہے۔ان مقامات تک صرف مہم جو سیاح ہی جا سکتے ہیں۔۔سرن ویلی کی شاہراہ نواز آباد سے دو حصوں میں تقسیم ہونے کے بعد جچھہ کے مقام پر اختتام پزیر ہوتی ہےجبکہ دوسری طرف منڈھی کے مقام پر سڑک کا اختتام ہوجاتا ہے۔نواز آباد سے دیولی موڑ تک نئی سڑک حال ہی میں تعمیر ہوئی ہے جس سے سفری مشکلات میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے تاہم دیولی موڑ سے منڈھی تک سڑک کھنڈرات کا منظر پیش کرتی ہے۔خاص طور پر سیاحوں کو کھنڈرات نما روڈ پر شدید سفری مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے۔ منڈھی سے آرام گلی تک سڑک کی تعمیر کا اہم ترین سیاحتی منصوبہ پچھلے کئی سالوں سے کھٹائی میں پڑا ہوا ہے اور سرن ویلی کے عوام میں اس منصوبے کی تاخیر سے متعلق مختلف خدشات پاۓ جاتے ہیں اور صوبائی حکومت کو اس منصوبے کی تاخیر کا ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے۔اسی طرح نواز آباد تا جچھہ سڑک کی حالت انتہائی خراب ہے جسکے نتیجے میں سیاحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔یہ بھی معلوم ہوا ہیکہ سابق امیدوار صوبائی اسمبلی عبدالشکور خان لغمانی نے نواز آباد تا جچھہ روڈ کی تعمیر اور کشادگی کیلیے 35 کروڑ کے فنڈ منظور کرواۓ ہیں۔بلاشبہ سڑک کی تعمیر سے سیاحت کو فروغ حاصل ہوگا اور سفری مشکلات میں خاطر خواہ کمی واقع ہوگی۔سرن ویلی کے عوام کو یہ اعزاز حاصل ہیکہ وہ مہمان نوازی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔یہ ایک انتہائی پرامن اور پرسکون علاقہ ہے جہاں دنیا کی ہنگامہ خیزیوں سے بے نیاز ہوکر قدرت کی رعنائیوں کو من کی جھیل میں اتارا جاتا ہے۔چند روز قبل سچہ کے مقام پر پیش آنے واقعے کو بعض عزائم نویسوں نے غلط رنگ دیکر علاقے کی سیاحت پر وار کی کوشش کی لیکن وہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہ ہوسکے۔علاقے بھر میں سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سیاحت کے فروغ کیلیے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے تاہم مرکزی اور صوبائی سطح پر سرن ویلی کی سیاحت سے متعلق مجاز حکام کی چشم پوشی اور عدم توجہی ایک مجرمانہ فعل ہے جسکی جتنی بھی مذمت کی جاۓ کم ہے۔ضرورت اس امر کی ہیکہ حکومتی سطح پر سیاحت کے فروغ کیلیے ٹھوس اقدامات عمل میں لاۓ جائیں۔خاص طور پر سڑکوں کی خستہ حالی پر فی الفور توجہ دی جاۓ۔جنگلات کے تحفظ کو یقینی بنایا جاۓ۔دریاے سرن میں مچھلی کے غیر قانونی شکار کا سختی سے تدارک کیا جاۓ۔دریاۓ سرن کے صاف شفاف پانی کی شفافیت کی برقرار رکھنے کیلیے گٹر لائنوں کا تدارک کیا جاۓ۔اسی طرح سیاح حضرات بھی مہذب اور شائستہ شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوۓ جگہ جگہ کچرا پھینکنے سے گریز کریں۔اکثر سیاح حضرات پہاڑی علاقوں کی ڈرائیونگ سے ناواقف ہوتے ہیں جسکے نتیجے میں اکثر افسوسناک حادثات وقوع پزیر ہوتے رہتے ہیں۔مون سون کے دوران دریاۓ سرن سے دور رہیں اور کسی بھی قسم کے حادثے یا پریشانی کی صورت میں تھانہ نواز آباد سے رابطہ کریں۔رابطہ نمبر.ایس ایچ او۔0341,8938077
فاصلے سی پیک اچھڑیاں تا جبوڑی۔
جھیل شاہ زیب۔۔۔دس منٹ۔
سم پارک۔۔۔۔پندرہ منٹ
ڈاڈر۔۔۔۔۔۔۔بیس منٹ
جبوڑی۔۔۔۔تیس منٹ۔
(فاصلے۔۔۔جبوڑی تا دیگر مقامات)
جبوڑی ڈیم۔۔۔دس منٹ
سچہ پارک۔۔پندرہ منٹ
دومیل ٹراوٹ فش فارم۔۔پچیس منٹ۔
نواز آباد۔تیس منٹ۔
منڈہ گچھہ۔۔۔۔پچاس منٹ
جچھہ۔۔۔۔ایک گھنٹہ
منڈھی۔۔۔ڈیڑھ گھنٹہ۔
(ہائکنگ والے مقامات)
ہڈور۔۔ساڑھے تین گھنٹے۔
بکی۔۔چھ گھنٹے
کھوڑی۔۔آٹھ گھنٹے
مصلٰی پیک۔۔چودہ گھنٹے۔
چرکو پیک۔۔اٹھارہ گھنٹے۔
شہید پانی۔۔۔چھ گھنٹے۔
لنڈا۔۔۔ساڑھے پانچ گھنٹے۔
آرام گلی۔۔۔سات گھنٹے۔
کھنڈا گلی۔۔۔ساڑھے آٹھ گھنٹے۔
آغاز حدود چوڑ کوہستان۔نو گھنٹے
کوہ پلہجہ۔۔۔تین گھنٹے۔
عرشی میڈوز۔۔چار گھنٹے۔
وادی کے تمام مقامات کی مکمل تفصیل اور رہائش کیلیے بکنگ کی صورت میں رابطہ کریں۔
واحد خان۔0341,9272903
ولید خان۔0313,5802587
لب جو ریزورٹ جبوڑی۔