Hotel-Shahzad-Mianwali

Hotel-Shahzad-Mianwali Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Hotel-Shahzad-Mianwali, Hotel, WATA KHEAL CHOCK, P. A. F BASE Road MIANWALI, Mianwali.
(571)

Another mouthwatering edition in the world of taste,,,,, ,❤️❤️
29/05/2025

Another mouthwatering edition in the world of taste,,,,, ,❤️❤️

29/05/2025

ہوٹل شہزاد آپ کی محبت اور اعتماد کے لیے مشکور ہے۔

HOTEL SHEHZAD MIANWALI کم و بیش 50 سال قبل میانوالی کے معروف گلو خیل قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک بینکار امیر امان اللہ ...
28/05/2025

HOTEL SHEHZAD MIANWALI
کم و بیش 50 سال قبل میانوالی کے معروف گلو خیل قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک بینکار امیر امان اللہ خان نیازی نے اس دور افتادہ اور پسماندہ علاقے میں ایک انتہائی جدید اور اعلی حیثیت رکھنے والے "ہوٹل شہزاد " کی بنیاد رکھی معیار پر کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کیا گیا ان کی شخصیت انتہائی سلجھی ہوئی اور نفع و نقصان کو سمجھنے والی تھی خدا داد صلاحیتوں اور اپنے اعلی معیار کی بنا پر یہ ادارہ دن دونی رات چوگنی ترقی کرتا چلا گیا ملک کے دور دراز علاقوں سے انے والے مہمان اس ہوٹل میں پہنچ کر محسوس کرتے ہیں کہ یہ ہمارا اپنا گھر ہے
شہزاد ہوٹل کا ماٹو بھی یہی ہے کہ " گھر سے باہر اپنا گھر"
برادرم امیر امان اللہ خان صاحب کے انتقال کے بعد یہ ساری ذمہ داری عزیزم حاجی عامر خان گلو خیل نے سنبھال لی اور اپنے والد محترم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس ہوٹل کو معیار کی بلندیوں تک پہنچایا الحمدللہ اج اس کا شمار پنجاب کے بہترین ہوٹلوں میں ہوتا ہے ملک بھر سے انے والے سرکاری اور غیر سرکاری افسران نیشنل اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے آفیشلز ادیب و شاعر سیاسی غیر سیاسی اور سماجی شخصیات اپنی فیملیز کے ساتھ میانوالی میں قیام و طعام کے لیے پہلی ترجیح شہزاد ہوٹل کو ہی دیتے ہیں میانوالی کا یہ اولین ہوٹل ہے جس نے کبھی بھی معیار پر سمجھوتہ نہیں کیا میں نے ذاتی طور پر اس ہوٹل میں کافی زیادہ پروگرام اٹینڈ کیے ہیں اور ہمیشہ معیار کو سوچ سے زیادہ پایا
انتظامیہ انتہائی حساس ہے اور خدا ترس بھی ہر روز غربا کے لیے عزت کے ساتھ مفت کھانے کا انتظام بھی کیا جاتا ہے
میرا ذاتی تعلق شہزاد ہوٹل اور اس کی انتظامیہ سے انتہائی قربت کا ہے یہ میرے پڑوسی بھی ہیں اور دوست میں دوسروں کی خوشی غمی میں حصہ ڈالنے والے اور محبتیں بانٹنے والے
ابھی کل ایک چھوٹا سا واقعہ ہوا جس نے یقینا شہرت اور عزت کو نقصان پہنچایا میں نہیں سمجھتا کہ ایسا جان بوجھ کر کیا جا سکتا ہے اور پھر ایسی انتظامیہ جو سخت کوالٹی کنٹرول رکھتی ہو کچھ انسانی تقاضے ہوتے ہیں اور کچھ بشری کمزوریاں بھی ہو سکتا ہے کچھ کمزوری یہاں بھی رہ گئی ہو یا پھر کسی سازشی عنصر کے برے ارادے
اس سب کے باوجود میں یہی کہوں گا کہ کم و بیش 50 سال کے طویل عرصے پر محیط یہ واحد واقعہ قابل گرفت نہیں ہو سکتا جہاں ایک طویل معیار ہو ایک عزت والا نام ہو ایک شہرت ہو وہاں نظر بد سے بچنے کے لیے پیشانی پر تھوڑی سی " کالک" بھی لگا دی جاتی ہے
میری دعا ہے کہ اللہ پاک عزوجل اس ادارے کو دن دونی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے اور اس کا یہ تصور
" گھر سے باہر اپنا گھر " ہمیشہ قائم و دائم رکھے اس مرحلے پر میری ساری ہمدردیاں محبتیں اور دعائیں انتظامیہ ہوٹل شہزاد میانوالی کے ساتھ ہیں
HOTEL SHEHZAD MIANWALI
گھر سے باہر اپنا گھر

فیروز احمد خان ترین

27/05/2025

Alhammadolillah Hotel Shahzad is open now,,,,,

ہوٹل شہزاد کا  کاکروچ __ ؟حرفِ آشناعصمت گُل خٹکگزشتہ روز ____ سوشل میڈیا کے اُس استرے نے ‛ پانچ دہائیوں سے میانوالی میں ...
27/05/2025

ہوٹل شہزاد کا کاکروچ __ ؟

حرفِ آشنا
عصمت گُل خٹک

گزشتہ روز ____ سوشل میڈیا کے اُس استرے نے ‛ پانچ دہائیوں سے میانوالی میں جدید ہوٹلنگ کے بانی اور خدمات سرانجام دینے والوں کو پل بھر میں آسمان سے زمین پر پٹخ دینے میں اپنا کام دکھا دیا ہے _____ جو بدقسمتی سے ہم جیسے بندروں کے ہاتھ میں آگیا ہے ____ سونے پہ سہاگہ کے مصداق ضلعی انتظامیہ نے بھی اسی افراتفری میپ ایک قدم آگے بڑھ کر فوراً ہی استرے کی بجائے تلوار اُٹھائی اور بغیر کسی تحقیق و تفتیش کے ہوٹل ہی سیلڈ کردیا __
یعنی ~
نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا
یہ خون خاک نشیناں تھا رزقِ ِخاک ہوا
یادش بخیر ___ اس سے پہلے اسی شہر کی شناخت اور برینڈ بننے والے سموسوں کی ایک دکان میں بھی ایک بار نہیں ___ کئی مرتبہ گدھے کا گوشت " برآمد " ہوا __ جو بعدازاں ‛ کاروباری رقابت اور حسد کا شاخسانہ نکلا ___
شہزاد ہوٹل کا وہ کاکروچ __ جس کی تصویر وائرل ہوئی اگر اس کو غور سے دیکھا جائے تو بڑا ڈھیٹ اور غالباً اسٹین لیس سٹیل کا بنا ہوا نظر آتا ہے جس کی ٹانگیں وغیرہ تک ‛ اس ٹمپریچر میں بھی " زندہ سلامت " دکھائی دیتی ہیں جس میں چکن وغیرہ کا گوشت ___ ہڈیوں تک فرائی ہو جاتا ہے ؟
سو‛ مجھے لگتا ہے کہ بظاہر نظر آنیوالا یہ کاکروچ درحقیقت ہماری اس نفسیاتی بیماری کا کاکروچ ھے جو کسی کی کامیابی پر ہمیں پریشان جبکہ دوسروں کے نقصان پر ____ ایک عجیب سی کمینگی بھری خوشی و سرمستی سے نہال کردیتا ہے _
تاہم اگر اس طرح کی صورت حال نہیں تو پھر تحقیق طلب امر یہ ہے اس کاکروچ کا کُھرا کہیں کسی کاروباری رقابت اور حسد کے گھر تک تو نہیں جاتا ؟
سوشل میڈیا ____ جس طرح آج شتر بے مہار بن کر ہر کسی کی پگڑی بغیر کسی تصدیق و تحقیق کے اچھال رہا ہے مجھے نہیں لگتا کہ اب بھی اگر کوئی یہ سوچ رہا ھے کہ وہ محفوظ اور سلامت رہے گا تو میرا خیال ہے کہ وہ کوئی صاحبِ شعور و عقل انسان نہیں بلکہ صحرا کا وہ بدقسمت اور کوتاہ اندیش شترمرغ ہے جو طوفان کو دیکھ کر اپنا سَر ریت میں چھپاکر یہ سمجھ لیتا ہے کہ طوفان اب اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا _
میں نے کہیں پڑھا تھا کہ ایک سربیائی آرٹسٹ مارینا ابرومووچ نے 1974 میں ایک تجرباتی تھیٹر پرفارمنس پیش کی تھی جس کا مقصد یہ تھا کہ اگر میڈیا کو مادر پدر آزادی دے دی جائے تو کسی معاشرے میں اس کے کیا خوفناک نتائج برآمد ہوتے ہیں ؟
واضح رہے کہ اُس وقت سوشل میڈیا وغیرہ جیسی کسی بَلا کا نام و نشان تک نہیں تھا __ بہرحال " رِدھم زیرو" (Rethem 0) کے عنوان سے پیش کی جانے والی اس تجرباتی پرفارمنس میں
ابرومووچ شام 8 بجے سے رات 2 بجے تک، یعنی مسلسل چھ گھنٹے ایک میز کے پیچھے لوگوں کے سامنے بغیر حرکت کیے اور بغیر کوئی بات کیے بیٹھی رہیں۔ انہوں نے شرط رکھی تھی کہ اس پرفارمنس کو کسی بھی صورت میں روکا نہ جائے، چاہے کچھ بھی ہو۔
اس شو کی خاص بات یہ تھی کہ ناظرین کو مکمل آزادی دی گئی تھی کہ وہ ان کے ساتھ جو چاہیں سلوک کریں — چاہے چھونا ہو، حرکت دینا ہو، یا جو بھی وہ کرنا چاہیں۔ ابرامووچ نے عہد کیا تھا کہ وہ کوئی ردعمل نہیں دکھائیں گی۔
یہ ایک تجربہ تھا تاکہ اس سوال کا جواب ملے کہ اگر لوگوں کو مکمل آزادی دی جائے تو وہ کیا کریں گے؟
شروع میں، ناظرین مہذب تھے — کسی نے انہیں پھول دیا، کسی نے ان کا ہاتھ تھاما، کسی نے ان کے گال پر بوسہ دیا۔
پہلے دو گھنٹے نسبتاً پُرامن اور مہذب گزرے۔ لیکن پھر حالات بدلنے لگے۔ ایک شخص نے اچانک انہیں تھپڑ مار دیا — یہ تھا وہ اندرونی خوفناک روپ جو آزادی ملنے پر ظاہر ہوا۔
کسی نے انہیں جنسی تسکین کے لیے چھوا، اور آہستہ آہستہ جنسی ہراسانی بڑھنے لگی۔
صورتحال ہاتھ سے نکل گئی۔ ایک شخص نے ان پر جنسی حملہ کرنے کی کوشش کی۔
کچھ لوگوں نے ان کے کپڑے قینچی سے کاٹ ڈالے اور انہیں برہنہ کر دیا۔ کچھ نے ان کی برہنہ تصاویر لیں اور انہیں ان کے سر پر چپکا دیا، اور مختلف قسم کے ظلم کرنے لگے۔
ابرومووچ نے اپنے عہد پر قائم رہتے ہوئے نہ کوئی مزاحمت کی، نہ اپنا دفاع کیا، حتیٰ کہ جب ان پر جنسی حملہ ہوا یا جب انہیں مارنے کی کوشش کی گئی، تب بھی نہیں۔
ایک شخص نے ان کے ماتھے پر بندوق رکھ دی، لیکن پھر بھی وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلیں، بس ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
مارینا اس سارے ظلم کے دوران خاموش رہیں، مضبوط رہیں، لیکن زخمی ہو گئیں — صرف جسمانی طور پر نہیں، بلکہ روحانی طور پر بھی۔
جب پرفارمنس ختم ہوئی، اور وہ آہستہ آہستہ چلنے لگیں، تو وہی لوگ جو ابھی کچھ لمحے پہلے ان پر ظلم کر رہے تھے، ان کی طرف دیکھنے سے بھی ڈرنے لگے۔ کوئی ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہیں دیکھ سکا۔
یہ پرفارمنس ایک سوال چھوڑ گئی , اگر انسان کو مکمل اختیار دیا جائے، تو کیا وہ محبت کا انتخاب کرے گا، یا ظلم کا؟
عظیم فلاسفر ارسطو نے انسان کو " سوشل اینیمل " یعنی سماجی جانور قرار دیا ہے ___ جس کیلئے آسمانی کتابیں و صحائف اترے _____ سوا لاکھ کے قریب انبیاء و رسول بھی آئے مگر _____ " الحمدللہ " اس سماجی جانور کا مستقل بنیادوں پر وہ بھی کچھ نہیں بگاڑ سکے __ سو‛
آج کے اس سوشل میڈیا عہد میں مکمل اختیار مل جانے کی صورت میں ہم سب محبت کی بجائے _____ آئے روز نت نئے ظلم کا انتخاب کرتے ہوئے خود ہی ظالم اور خود ہی مظلومیت کا شکار بنتے جارہے ہیں ____ جس کا بہت چھوٹا سا مظاہرہ ____ ہمارے اندر اودھم مچاتے بہت سارے کاکروچوں میں سے ایک شہزاد ہوٹل کی کڑاہی گوشت والے کاکروچ کی صورت میں نکل آیا ______ اور ہم سب نے سربیائی آرٹسٹ مارینا ابرومووچ کے تھیٹر " ردھم زیرو " کے تماش بینوں کی طرح اپنا اپنا حصہ بقدرِ جثہ ڈال کر سماجی ___ " جانور " ہونے کا بھرپور ثبوت دیا #

آپ کی محنت اور محبت کا صلہ آپ کے کی وفات کے بعد بھی میانوالی کے غیور لوگوں نے اپنی محبت سے دیا❤️❤️❤️❤️  اللہ آپ کو  جنت ...
27/05/2025

آپ کی محنت اور محبت کا صلہ آپ کے کی وفات کے بعد بھی میانوالی کے غیور لوگوں نے اپنی محبت سے دیا❤️❤️❤️❤️ اللہ آپ کو جنت میں اعلی مقام دے۔ ھوٹل شہزاد میانوالی بھکر آپ آپ سب کی محبتوں کا مشکور ھے ❤️❤️❤️❤️

After ...🌹🌹🌹
15/03/2024

After ...🌹🌹🌹

Address

WATA KHEAL CHOCK, P. A. F BASE Road MIANWALI
Mianwali
42200

Telephone

+92459232706

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hotel-Shahzad-Mianwali posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category