Kutton Jagran Resort - AJK, PDO

Kutton Jagran Resort - AJK, PDO Jagran Resort kutton /kutton Colony is luxurious rest house in Kutton, Neelum Valley,AJK. For booking and other information
(1)

Kutton is a village and a tourist place in Neelam Valley of Azad Kashmir administered by Pakistan. Kutton is accessible by Neelam road from Muzaffarabad branches off from Kundal Shahi. Almost 78 km from Muzaffarabad, kutton Jagran Resort is located in Kutton Valley. Road leading to resort is metalled with minor patches. Any kind of vehicle can be taken there. Jagran Resort is fully furnished and m

ost luxurious resort in whole Neelum Valley. For booking and information Contact:
Muzaffarabad:
Office : 05822924272 Fax No 0582292064

Kutton:
05821-920309_10
05821-920310
0343 5607400
03558116661

Facilities
Call facilities, Cable, internet 4G,warm water, heating systems
Intercom, snooker, gym, squash, badminton,

01/03/2025
01/03/2025

27 November 2025 Avalanches in Neelum valley

27 February 2025 Neelum valley Snow fall
01/03/2025

27 February 2025 Neelum valley Snow fall

16/07/2024

پیر مظہر سعید شاہ صاحب (وزیر اطلاعات اذادجمووکشمیر ) اپنی پیاری سر زمین کی خوبصورتی کہ بارے میں بتاتے ہوئے
نیلم ویلی کی سیر و تفریح کرنے کا آسان طریقہ:
پوسٹ لمبی ضرور ہے پر ہے بہت ہی اہم اور دلچسب امید ہے پڑھنے میں بور نہیں ہوں گے ۔
نیلم ویلی آزاد کشمیر کی سیاحت کا ارادہ رکھنے والے سیاح حضرات کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ پاکستان کے کسی بھی شہر سے نیلم ویلی آنے کے لیے اسلام آباد سے براستہ ایکسپریس ہائی وے مری سے ہوتے ہوئے آئیں۔ ایکسپریس ہائی وے کے اختتام پر دائیں جانب مری روڈ کے ذریعے آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کا سفر جاری رکھیں۔ (ہزارہ سے آنے والے معزز مہمان ہزارہ موٹروے کا استعمال کریں)
نیلم ویلی بارڈر ایریا ہونے کی وجہ سے یہاں پر موبائل سروس کا بڑا ایشو ہے، یہاں پر صرف SCOM سم کی سروسز حاصل کی جا سکتی ہیں جو کہ نیلم ویلی کے تقریباً سارے مقامات پر سروس فراہم کرتی ہے بشمول 4G انٹرنیٹ۔ تاہم Ufone کی سم بھی رومنگ پر چلتی ہے مگر اس پر انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں ہوتی۔ لہذا SCOM کی سم مظفرآباد سے آتے ہوئے لینا نا بھولیں۔ مظفرآباد کے علاوہ راستے میں نوسیری کے مقام سے بھی سم مل سکتی ہے یا پھر نیلم میں کنڈل شاہی، کٹن یا آٹھمقام سے بھی سم مل جاتی ہے۔
خبردار- (اسلام آباد سے تقریباً 2 گھنٹے کے فاصلے پر نیلم پوائنٹ کے نام سے دریائے جہلم کے کنارے سیاحوں کو نیلم ویلی کا دھوکہ دینے کے لیے ایک کاروباری مرکز کھلا ہوا ہے جس کا آزاد کشمیر یا نیلم ویلی سے سرے سے کوئی تعلق نہیں ہے، یاد رکھیں یہ جگہ آزاد کشمیر یا نیلم ویلی میں قطعاً نہیں ہے. لہٰذا دھوکہ کھانے سے بچیں)
اسی مقام کے پاس کوہالہ پل کراس کرنے کے بعد ریاست آزاد جموں و کشمیر کا آغاز ہوتا ہے۔ کوہالہ سے تقریباً ایک گھنٹہ کے فاصلے پر مظفرآباد شہر واقع ہے۔ سیاح حضرات اپنے وقت کے حساب سے فیصلہ کر لیں کہ انہوں نے رات مظفرآباد میں قیام کرنا ہے یا نیلم ویلی کی طرف نکلنا ہے۔ عموماً رات کے وقت نیلم ویلی کا سفر سیاحوں کے لیے خطرناک ہوتا ہے۔ اگر آپ شام کے وقت مظفرآباد پہنچے ہیں تو رات مظفرآباد میں قیام کیجئے۔ مظفرآباد شہر میں 2500/3000 روپے فی کمرہ سے لے کر پی- سی ہوٹل تک ہر معیار کے ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز موجود ہیں۔ اگر آپ دن کے وقت مظفرآباد پہنچے ہیں اور آپ کا ارادہ آگے بڑھنے کا ہے تو مظفرآباد شہر کی مرکزی شاہراہ یا براستہ نلوچھی گوجرہ بائی پاس روڈ چہلہ بانڈی کی طرف نکل جائیں۔ چہلہ بانڈی سے نکل کر آپکا نیلم ویلی کے لیے سفر شروع ہو جاتا ہے۔ راستے میں مختلف ٹورسٹ پوائنٹس (پنجگراں واٹرفال، دھنی واٹرفال، نیلم جہلم ڈیم، لائین آف کنٹرول چلہانہ کا وزٹ کرتے ہوئے تقریباً 3 گھنٹے بعد آپ کنڈل شاہی پہنچ جائیں گے. کنڈل شاہی واٹرفال وزٹ کرنے کے بعد رات کا قیام کٹن واٹرفال پر یا کٹن کالونی /جاگراں ریزارٹ کٹن یا کٹن کے دیگر گیسٹ ہاؤسز میں کریں. ان مقامات پر متعدد گیسٹ ہاؤسز سیاحوں کی رہائش کے لیے موجود ہیں۔ جن کا کرایہ 2500 سے 8000 تک ہے۔ اپنے بجٹ کے حساب سے آپ اپنی رہائش لے سکتے ہیں۔ اگر آپ یہاں رات سٹے کر رہے ہیں تو اگلے دن آپ بابون ویلی وزٹ کے لیے چلے جائیں یا پھر واپسی پر آپ بابون ویلی وزٹ کر سکتے ہیں جس کی تفصیل آگے لکھی ہوئی ہے۔
اگر ان جگہوں پر رہائش کے لیے جگہ موجود نہیں تو آپ آٹھمقام میں رہائش لے سکتے ہیں یا پھر آٹھمقام سے 35 منٹس کے فاصلے پر کیرن یا پھر اپر نیلم کے مقام پر بھی قیام کر سکتے ہیں۔ اپر نیلم گاؤں کو نیلم ویلی کی سیاحت میں ایک خاص مقام حاصل ہے جو کہ اسکی خوبصورتی اور لائن آف کنٹرول کے بالکل سامنے ہونے کی وجہ سے ہے.
رات قیام کے بعد آپ پتلیاں جھیل کے دلفریب مناظر دیکھنے کے لیے نکل جائیں، کیرن سے تقریباً 20 منٹس کے فاصلے پر دواریاں سے بذریعہ لنک روڈ لوات بالا آپ پتلیاں جھیل کی طرف جاتے ہوئے انتہائی دلفریب جیپ ٹریک کے منظر سے لطف اندوز ہوں گے۔ یہ تقریباً ساڑھے تین گھنٹے (3.5) کا خوبصورت ترین جیپ ٹریک ہے۔ نارملی اس ٹریک پر جیپ کا کرایہ 15 سے 18 ہزار ہے۔ جیپ تقریباً آخری مقام تک جاتی ہے، اوپر ٹاپ پر بیس کیمپ بھی موجود ہوتا ہے۔ تقریباً 10 سے 15 منٹس کا پیدل سفر کرنا پڑ سکتا ہے۔ دن گزار کر واپس کیرن میں رات گزارنے کے لیے رخت سفر باندھ لیجئے ۔
رات کے قیام کے بعد اگلی صبح ناشتہ وغیرہ کرنے کے بعد اگر اب آپکا ارادہ رتی گلی جھیل کا ہے تو کیرن سے تقریباً 30 منٹس کے فاصلے پر دواریاں گاؤں سے ایک لنک روڈ رتی گلی جھیل کی طرف جاتی ہے۔ اگر آپ کے پاس اپنی 4WD گاڑی نہیں ہے تو دواریاں سے جیپ کرائے پر لے لیں جو تقریباً 12 سے 15 ہزار روپے میں مل جاتی ہے۔ اگر آپکا پیدل ٹریکنگ کا ارادہ ہے تو اپنے ساتھ انرجی فوڈز جیسے انرجی بسکٹ، انسٹنٹ پاؤدر جوسز، دودھ وغیرہ لازمی رکھیں۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر کی سوغات کلچہ بھی کافی کار آمد رہتا ہے۔ اگر آپ کے پاس اپنی 4WD گاڑی ہے تو بھی کوشش کریں کہ دواریاں سے کسی مقامی ڈرائیور کو ساتھ رکھ لیں جو مناسب دیہاڑی پر مل جائے گا۔ رتی گلی روڈ پر نا تجربہ کار حضرات خود ڈرائیونگ سے گریز کریں۔
دواریاں سے رتی گلی بیس کیمپ جہاں تک گاڑیاں جا سکتی ہیں تقریباً 18 کلومیٹر پر مشتمل ہے اور یہ 18 کلومیٹر کا فاصلہ تقریباً 2.5 سے 3 گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔ رات قیام رتی گلی بیس کیمپ پر کریں جہاں آپ اپنے ٹینٹ بھی لگا سکتے ہیں، بصورت دیگر بیس کیمپ پر مناسب کرائے پر ٹینٹ دستیاب ہوتے ہیں۔ رتی گلی بیس کیمپ میں رات کے قیام کے بعد صبح بیس کیمپ سے رتی گلی جھیل کی طرف پیدل ٹریکنگ کریں، بیس کیمپ سے رتی گلی جھیل تقریباً 40 منٹ کے فاصلے پر ہے۔ اپنی زندگی کا حسین ترین دن رتی گلی جھیل پر گزار کر دن کو موسم کی صورتحال کا اندازہ کرنے کے بعد 12 بجے تک واپس بیس کیمپ پہنچیں اور پھر واپس دواریاں کا سفر شروع کر دیں. دواریاں پہنچ کر شاردہ کے لیے نکل جائیں۔ دواریاں سے شاردہ کا فاصلہ تقریباً 2 گھنٹے کا ہے۔ یاد رکھیں محتاط ڈرائیونگ کریں۔ رات کا قیام شاردہ میں کریں، جہاں بہت سے ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز موجود ہیں۔ یہاں پر آپ موٹر بوٹنگ بھی کر سکتے ہیں اور شاردہ پل کراس کر کے قدیم شاردہ یونیورسٹی کا وزٹ بھی کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس وقت ہے اور آپ کا آگے جانے کا ارادہ ہے تو انتہائی محتاط ڈرائیونگ کرتے ہوئے آپ شاردہ سے تقریباً 1.5 گھنٹے کے بعد کیل پہنچ جائیں گے۔ (شاردہ سے کیل جیپس ریکومنڈڈ ہیں تاہم کار بھی لے جا سکتے ہیں) اپنی گاڑی پارکنگ میں کھڑی کریں اور کیل سے بذریعہ چیئرلفٹ اڑنگ کیل کے لیے روانہ ہو جائیں. چیئرلفٹ کے بعد تقریباً 35 سے 40 منٹس کا ہائیکنگ ہے. (یاد رکھیں کہ چیئرلفٹ اکثر مغرب سے پہلے پہلے بند ہو جاتی ہے)
رات قیام اڑنگ کیل کریں اور صبح سویرے اٹھ کر خوبصورت وادی کا نظارہ کریں۔ اس کے بعد کیل واپس آکر کیل سے بذریعہ جیپ یا ذاتی 4WD گاڑی تاؤبٹ کے لیے نکل جائیں۔ کیل سے تاؤبٹ کا فاصلہ 40 کلومیٹر کے لگ بھگ ہے جو تقریباً 3 گھنٹے میں طے ہو جاتا ہے۔ جیپ بکنگ کا کرایہ تقریباً 13 سے 15 ہزار ہے. کوشش کریں رات قیام تاؤبٹ کے پرفضا مقام پر ہی کریں، اگر آپکا ارادہ واپسی کا ہے تو دن کو تقریباً 2 بجے واپس کیل کی جانب نکل آئیں۔ کوشش کریں رات واپس کنڈل شاہی یا کٹن پہنچ جائیں.
رات قیام کے بعد اگلی صبح اٹھیں اور براستہ جاگراں بابون ویلی کی طرف نکل جائیں. جاگراں تک آپ کی اپنی کار جا سکتی ہے یا پھر آپ کنڈل شاہی یا کٹن سے ہی 4WD گاڑی لے جائیں جو کہ 12 سے 15 ہزار تک مل جائے گی. آپ آدھے گھنٹے میں جاگراں پہنچ جائیں گے. جاگراں سے تقریباً 2 گھنٹے میں آپ بابون ویلی پہنچ جائیں گے اور پہنچتے ساتھ ہی آپ کی زبان سے پہلا لفظ جو نکلے گا وہ کچھ یوں ہو گا.
''واہ بابون تیری کیا بات ہے''
دن بھر اللہ پاک کی قدرت کے نظارے کرنے کے بعد رات واپس قیام کنڈل شاہی یا کٹن کریں.
اگلی صبح ناشتہ کرنے کے بعد کنڈل شاہی واٹرفال کے نظارے کرتے ہوئے واپسی کا سفر شروع کر دیں. اللہ تعالیٰ آپ کا نگہبان ہو

کچھ ضروری گزارشات:
1. کیونکہ نیلم ویلی پہاڑی علاقہ ہے، انتہائی احتیاط کے ساتھ ڈرائیونگ کریں. اور سپیشلی نیند کی حالت میں مسلسل ڈرائیو کرنا انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
2. نیلم ویلی آتے وقت اپنی ضرورت کے مطابق گرم شال، گرم کپڑے، جیکٹ، ٹوپی، دستانے اور جرابیں ضرور ساتھ رکھیں۔
3. چونکہ نیلم ویلی میں ہسپتال وغیرہ تک جلدی پہنچنا ممکن نہیں ہے اس لیے اپنے ساتھ ایمرجنسی میڈیسنز جیسے بخار، زکام، دست، الٹی، قبض وغیرہ کی ادویات، پٹیاں اور پائیوڈین وغیرہ بھی ساتھ رکھیں۔
4. رتی گلی اور بابون ویلی سطح سمندر سے انتہائی بلندی پر واقع ہے لہٰذا اپنی جلد کو الٹرا وائیلٹ شعاؤں سے بچانے کے لیے اچھے معیار کی سن بلاک کریمز ضرور ساتھ رکھیں۔
5. دریائے نیلم کی موجیں انتہائی طاقتور اور خطرناک ہیں لہٰذا دریا، ندی نالوں میں اترنے سے گریز کریں، ایک سیلفی یا کسی بھی نالے یا لکڑی کے پل پر ایک تصویر کا شوق آپ کی جان لے سکتا ہے۔ اپنی اور اپنے پیاروں کی جان کی حفاظت کریں۔
6. کسی بھی علاقے کی سیر کے دوران اس علاقے کے قدرتی حسن کا خیال کریں اور اپنے ساتھ لائی ہوئی کھانے پینے کی اشیا کے ریپرز کو وہاں پھینکنے کے بجائے کسی شاپنگ بیگ میں رکھ کر اپنے ساتھ واپس لے جا کر کسی مخصوص جگہ پر ڈسپوز کریں اور باشعور شہری ہونے کا ثبوت دیں۔
7. کسی بھی علاقے کی سیر کے دوران وہاں کے مقامی لوگوں کی عزت اور پرائیویسی کا خیال رکھیں اور بغیر اجازت کسی گھر یا عورت کی تصویر نہ بنائیں، یہ آپ کے لیئے جھگڑے اور بدمزگی کا سبب بن سکتا ہے۔
8. یہ کہ 4WD گاڑی کے علاوہ کوئی بھی گاڑی کچی یا سولنگ والی سڑکوں پر لے جانے کی کوشش مت کریں کیونکہ یہ آپکی جان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
9. رتی گلی جھیل، بابون ویلی، پتلیاں جھیل اور شونٹھڑ جھیل عموماً جون کے بعد ہی اوپن ہوتی ہیں اور اکتوبر تک وزٹ کی جا سکتی ہیں۔
10. جیپوں کے کرایے اوپر نیچے ہوتے رہتے ہیں اس لیے یہ مختص ریٹس تصور نا کیے جائیں۔
نوٹ: یہ ایک جنرل ٹور ہے باقی بھی اس کے علاوہ بہت ساری جگہیں ہیں وزٹ کرنے کے لیے جن میں شونٹھر ویلی، چٹہ کٹھہ جھیل، گٹیاں جھیل، سرال جھیل وغیرہ قابل ذکر ہیں.

نیلم ویلی آزاد کشمیر  کی 72 جھیلوں میں سے چند مشہور جھیلوں کی تفصیل 👇*رتی گلی جھیل ♥️آٹھمقام سے 22 کلو میٹر کی دوری پر و...
06/07/2024

نیلم ویلی آزاد کشمیر کی 72 جھیلوں میں سے چند مشہور جھیلوں کی تفصیل 👇

*رتی گلی جھیل ♥️

آٹھمقام سے 22 کلو میٹر کی دوری پر وادی نیلم کا ایک گاوں دواریاں آباد ہے جہاں سے 4*4 گاڑی کے ذریعے 18 کلو میٹر کے سفر کے بعد "رتی گلی جھیل" کا دیدار کیا جا سکتا ہے۔ یہ جھیل آزاد کشمیر کی نہایت خوبصورت جھیل ہے جو سائز میں ڈیڑھ کلو میٹر کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔ جھیل کی سطح سمندر سے بلندی تقریباً 3823 میٹر ہے۔

*پتلیاں جھیل*♥️
آٹھمقام سے 19 کلو میٹر کی مسافت کے بعد نیلم کا گاوں لوات پائن واقع ہے جہاں سے بذریعہ 4*4 گاڑی تین گھنٹے کے سفر کے بعد سیاحوں کے خوابوں کی ملکہ "پتلیاں جھیل" اپنے نیلگوں اور چمکدار پانی کے ساتھ نظر آتی ہے۔ اس جھیل کے گرد و نواح میں بلند و بالا پہاڑ ہیں۔۔

*مائی ناردا جھیل*♥️
ناردا جھیل دریائے نیلم کی شمال مغربی جانب 15000 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ یہ شمالاً جنوباً 550 فٹ چوڑی اور نیم بیضوی شکل میں تمام اطراف سے بند ہے۔ اس کی تہہ میں جو پتھر استعمال کیئے گئے ہیں وہ نہایت اعلی مہارت سے تراشیدہ ہیں۔ جھیل میں اُترنے کے لیئے ایک چبوترہ نما تراشیدہ پتھروں کی سیڑھی بھی بنائی گئی ہے جس کے تین زینے ہیں۔ وادی نیلم میں پائی جانے والی جھیلوں میں سے یہ واحد جھیل ہے جسے کسی غیر مرئی قوت نے تعمیر کیا ہے۔ ماہرینِ آثار قدیمہ کے مطابق "ناردا جھیل میں استعمال کیئے گئے پتھروں کی جسامت، بناوٹ و حجم اور خاصیت شاردا قدیمی یونیورسٹی میں استعمال ہونے والے پتھروں سے مشابہ ہے جس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہیکہ شاردہ یونیرسٹی اور ناردا جھیل کا آپس میں کوئی تعلق ضرور ہے۔

*سراسوتی جھیل*♥️
سراسوتی جھیل دو رنگوں والی ایک منفرد جھیل ہے جس کے ایک طرف پانی نیلگوں اور دوسری طرف قدرے بھورے رنگ کا ہے۔ جس کی خاص وجہ شاید وہاں آئرن کا وافر مقدار میں ہونا ہے۔ اس جھیل پر پہنچنے کے لیئے "سرگن بکوالی" گاوں کے ٹاپ سے تین گھنٹے کی پیدل مسافت کے بعد گاوں چھٹیاں بہک پہنچ کر پھر آگے دو گھنٹے کے پیدل سفر کے بعد سراسوتی جھیل کے حسین نظاروں سے لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔ مائی ناردا جھیل سراسوتی جھیل کے جنوب میں ایک گھنٹے کی ہموار سطح کی مسافت پر واقع ہے۔۔

*گٹیاں جھیل*♥️
نیلم کے سنگلاخ برف پوش پہاڑوں کے درمیان قریباً ایک کلو میٹر رقبے پر پھیلی نیلم کی یہ جھیل قدرت خداوندی کا ایک عجیب شاہکار ہے۔ اس جھیل پر جانے کے لیئے "سرگن بکوالی گاوں" سے تین گھنٹے کی پیدل مسافت کے بعد جبہ بہک میں پہلا پڑاو کرنا پڑتا ہے۔ یہاں سے پھر تین گھنٹے کی مسافت کے بعد اس جھیل تک پہنچا جا سکتا ہے۔۔

*گال جھیل*♥️
یہ جھیل حجم میں گٹیاں جھیل جیسی ہی ہے اور گٹیاں جھیل کے شمال مشرق میں صرف پینتالیس منٹس کی ہموار سطح کی مسافت پر واقع ہے۔۔

*سرال جھیل*♥️
گال جھیل کے عین شمال میں پہاڑی کی دوسری جانب ایک گھنٹے کی مسافت کے بعد وادی نیلم کی ایک اور خوبصورت جھیل "سرال" واقع ہے۔ جس کی لمبائی قریباً دو کلو میٹر اور چوڑائی ڈیڑھ کلو میٹر ہوگی۔ اس جھیل کیساتھ خود رو پھولوں کی ایک وافر مقدار کا قدرتی گلشن سجا ہوا ہے۔

*پروی ناڑ جھیل*♥️
سرال جھیل سے تقریباً دو گھنٹے شمال مغرب کی جانب ایک اور نمایاں خصوصیت کی حامل جھیل "پروی ناڑ" جو کہ حجم میں سرال جھیل کے برابر محسوس ہوتی ہے۔ اس کی منفرد خصوصیت یہاں وافر مقدار میں سنہری رنگ کی چمکتی ہوئی ٹراوٹ مچھلی ہے جو کہ شاید وادی کی کسی اور جھیل میں اس قدر نمایاں طور پر تیرتی ہوئی نظر نہ آتی ہو۔۔۔

*چِٹا کٹھہ جھیل*♥️
شونٹھر نالہ "دومیل بالا بیس کیمپ" سے ایک گھنٹہ چڑھائی کے بعد دائیں جانب وادی نیلم کی ایک خوبصورت جھیل "چِٹا کٹھہ" واقع ہے۔ اس جھیل کی سطح سمندر سے بلندی 4030 میٹر اور اس کا سائز 1500*900 فٹ تقریباً ہے۔ کیل سے 4*4 گاڑی کے ذریعے 4 گھنٹے "دومیل بالا" اور پھر یہاں سے پیدل 8 گھنٹے کی مسافت پر "چِٹا کٹھہ جھیل" پہنچا جا سکتا ہے۔۔

*ڈک جھیل*♥️
پھلاوئی بازار سے آٹھ کلو میٹر مغربی سمت چڑھائی کی جانب "حیات پڑی" کا مشہور مقام آتا ہے جہاں دو چھوٹی جھیلیں واقع ہیں۔ ان کا نظارہ کرنے کے بعد یہاں سے قریباً سات کلو میٹر آگے کی طرف "گوجر ناڑ" کی طرف بڑھا جائے تو وہاں ایک دلکش جھیل "ڈک" موجود ہے۔۔

*بلور جھیل تاوبٹ*♥️
بلور جھیل چٹانوں کے درمیان آزاد کشمیر کی ایک بلند ترین جھیل ہے جو کہ بلور نامی (شیشہ نما) قیمتی پتھر کے نام سے منسوب ہے۔ یہاں ماربل، ٹرملین، کوارٹس اور بہت سی قیمتی معدنیات کو دریافت کیا جا سکتا ہے۔ یہ جھیل رتی گلی جھیل کے سائز جتنی ہے۔ بلور جھیل کے ٹاپ پر بائیں جانب وقفے وقفے سے چار چھوٹی جھیلیں ایک لمبائی میں جبکہ باقی تین تقریباً گیند نما بیضوی شکل میں موجود ہیں۔♥️
Neelum valley

نیلم ویلی شخاراں اور  کاغان بٹہ کنڈی کو جانے والے راستہ (درا) سے قبل  میدان
18/06/2024

نیلم ویلی شخاراں اور کاغان بٹہ کنڈی کو جانے والے راستہ (درا) سے قبل میدان

پاکستان کے ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار عید الاضحی کی چھٹیوں کے دوران جاگراں ریزارٹ کٹن (کٹن کالونی)میں
18/06/2024

پاکستان کے ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار عید الاضحی کی چھٹیوں کے دوران جاگراں ریزارٹ کٹن (کٹن کالونی)میں

Address

Jagran Resort, Kutton, Near Kutton Waterfall, Neelum Valley AJK
Muzaffarabad

Telephone

+925821920310

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kutton Jagran Resort - AJK, PDO posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share