27/06/2025
کچھ واقعات صرف واقعات نہیں ہوتے… وہ پوری قوم کی روح پر زخم بن کر اُترتے ہیں۔
سوات کے حسین پہاڑوں، سرسبز وادیوں، ٹھنڈے پانیوں اور پرسکون فضا میں…
ایسا طوفان اٹھا، کہ 18 زندگیاں،
18 سانسیں،
18 امیدیں…
دریا کی بے رحم موجوں کی نظر ہو گئیں۔
وہ چند لمحے، جب انسان پانی کے بیچ کھڑا ہو،
چاروں طرف موت رقص کر رہی ہو،
اور مدد کی ہر امید بس آسمان کی طرف دیکھنے پر مجبور کر دے…
کیسے بیان ہو وہ لرزہ خیز کیفیت؟
دریا کا وہ کٹاؤ،
ریت کا آہستہ آہستہ سرکنا،
پاؤں کے نیچے زمین کا کھسک جانا،
اور پھر…
ایک ایک کرکے ہر امید کا دریا میں ڈوب جانا۔
جسم کانپتے ہیں، روح تڑپتی ہے،
اور سوال بس ایک…
کیا ہمارا کوئی قصور تھا؟
ان میں کچھ ماں باپ تھے…
کچھ بیٹے، کچھ بھائی…
کسی کی نئی شادی ہوئی تھی،
کسی نے بچے کے اسکول کی فیس دی تھی،
کسی نے ابھی نیا گھر بنانے کا خواب دیکھا تھا۔
مگر وہ خواب، وہ ہنسی، وہ قہقہے،
آج دریا کی تہہ میں دفن ہو چکے ہیں۔
یہ صرف حادثہ نہیں،
یہ ایک سوال ہے ہم سب سے…
ہماری غفلت کا، ہمارے سسٹم کا، ہماری لاپرواہی کا۔
ہم آخر کب جاگیں گے؟
کب اپنے دریاؤں کے کناروں کو محفوظ بنائیں گے؟
کب الرٹ سسٹم ہوں گے؟
کب پہلے بچاؤ، بعد میں افسوس کا اصول اپنائیں گے؟
آج صرف سوات نہیں رو رہا،
آج ہر حساس دل، ہر انسان دوست روح،
ہر آنکھ اشکبار ہے۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔۔۔۔