Bilal Student Hostel

Bilal Student Hostel Bilal student hostel cricket stadium road Rawalpindi We have different charges ranging from 8000 to 11000(included every thing) depending upon your choice..

17/09/2024

دو بکرے ہیں۔۔۔ دونوں کی رنگت بھی ایک جیسی، عمر بھی برابر، صحت بھی ایک جیسی۔۔۔ دونوں کو ذبح کر کے تیار کیا گیا سالن بھی ایک جیسا، ذائقہ بھی ایک جیسا۔۔۔۔ لیکن ان سب مماثلتوں کے باوجود یہ ممکن ہے کہ ایک حلال ہو اور دوسرا حرام۔۔۔۔ اور جو حرام ہے اس کے حرام ہونے کیوجہ اوپر ذکر کی گئیں مماثلتیں نہیں بلکہ یہ ہے اسے ذبح غیر شرعی طریقے سے کیا گیا ہو یا کسی کافر نے ذبح کیا گیا ہو
جو لوگ اس فرق کو سمجھ سکتے ہیں۔۔۔۔ انہیں ہی یہ بھی سمجھایا جا سکتا ہے کہ میلاد کے حوالے سے کون کون سے نظریات اسے بدعت بنا دیتے ہیں، کون کون سی خرافات اس کو گناہ بنا دیتی ہیں باوجود اس کے صورتاً وہ ان لوگوں کو سیرت کانفرنس جیسی دکھائی دیتی ہوں، ختم بخاری جیسی دکھائی دیتی ہوں

10/04/2024

16/01/2024

*رجب کی مخصوص عبادات اور 27 رجب کے روزہ کا حکم اورشب معراج کی تاریخ*

*سوال:*

رجب المرجب کی 27 اور 28 تاریخ روزے کی حقیقت کیا ہے؟ اور معراج کے بارے میں وضاحت درکار ہے۔ اور رجب کے مہینے میں کچھ خاص تسبیحات جو آپ ﷺ سے ثابت ہوں؟

*جواب:*

رجب کا مہینہ حرمت والے مہینوں میں سے ہے، ان مہینوں میں عبادت کا ثواب زیادہ ہے، البتہ رجب کے مہینہ میں تخصیص کے ساتھ کسی دن روزہ رکھنا یا کوئی مخصوص قسم کی تسبیحات صحیح احادیث سے ثابت نہیں ہے، لہذا 27 رجب کو تخصیص کے ساتھ روزہ رکھنے اور اس رات شب بیدار رہ کر مخصوص عبادت کرنے (مثلاً: صلاۃ الرغائب یا دیگر مخصوص تسبیحات وغیرہ) کا التزام درست نہیں ہے، اور اس کی جو فضیلت عوام میں مشہور ہے کہ اس روزہ کا ثواب ہزار روزے کے برابر ہے یہ ثابت نہیں ہے؛ اس لیے اس دن کے روزہ کو زیادہ ثواب کاباعث یا اس دن کے روزہ کے متعلق سنت ہونے کا اعتقاد صحیح نہیں ہے ، علماءِ کرام نے اپنی تصانیف میں اس کی بہت تردید کی ہے،حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے ”تبیین العجب بما ورد في فضل رجب“کے نام سے اس موضوع پر مستقل کتاب لکھی ہے،جس میں انہوں نے رجب سے متعلق پائی جانے والی تمام ضعیف اور موضوع روایات پر محدثانہ کلام کرتے ہوئے سب کو باطل کردیا ہے۔

حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ رجب کے مہینے میں ” تبارک“ اور 27 رجب کو روزہ رکھنے کے متعلق فرماتے ہیں:

*”اس امر کا التزام نا درست اور بدعت ہے"۔* (فتاویٰ رشید یہ مع تا لیفات رشید یہ،ص: 148)

حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

*”ستائیسویں رجب کے روزے کو جوعوام ہزارہ روزہ کہتے ہیں اور ہزارروزوں کے برابر اس کا ثواب سمجھتے ہیں، اس کی کچھ اصل نہیں ہے‘‘۔* (فتاوٰی دار العلوم مدلل و مکمل: 6/491۔ 492)

حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

*”ماہ رجب میں تاریخِ مذکورہ میں روزہ رکھنے کی فضیلت پر بعض روایات وار دہوئی ہیں، لیکن وہ روایات محدثین کے نزدیک درجہ صحت کو نہیں پہنچیں۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ نے ”ماثبت بالسنتہ“ میں ذکر کیا ہے۔ بعض بہت ضیعف ہیں اور بعض موضوع (من گھڑت) ہیں“۔* (فتاوٰی محمودیہ، 3/281،ادارہ الفاروق کراچی)

حضرت مولانا مفتی رشید احمد صاحب لدھیانوی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:

*”27 رجب کے روزہ کا کوئی ثبوت نہیں۔“* (سات مسائل صفحہ:5)

حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:

*”اس شب کے لیے خصوصی نوافل کا اہتمام کہیں ثابت نہیں ،نہ کبھی حضور صلی الله علیہ وسلم نے کیا ، نہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے، نہ تابعین عظام رحہم اللہ نے کیا۔ علامہ حلبی تلمیذ شیخ ابن ہمام رحمہ اللہ نے غنیتہ المستملی، ص:411 میں، علامہ ابن نجیم رحمہ اللہ نے الجر الر ائق شرح کنز الد قائق ،ج:2، ص: 56، میں، علا مہ طحطا وی نے مراقی الفلاح ،ص:22 میں، اس رواج پر نکیر فرمائی ہے اور اس کے متعلق جو فضائل نقل کرتے ہیں ان کو ردکیا ہے‘‘۔* (فتاویٰ محمودیہ:3/284،ادارہ الفاروق کراچی)

لہذا اس مہینے میں تخصیص کے ساتھ کسی عبادت کو ضروری سمجھنا درست نہیں ہے، ہاں تخصیص اور التزام کے بغیر جس قدر ہوسکے اس پورے مہینے میں عبادت کا زیادہ اہتمام کرنا چاہیے۔

2۔ رجب کی ستائیسویں رات کے بارے میں اگرچہ مشہور ہے کہ یہ شبِ معراج ہے، لیکن یقینی طور پر نہیں کہاجاسکتا کہ یہ وہی رات ہے جس میں نبی کریم ﷺ معراج پر تشریف لے گئے تھے، کیوں کہ اس بارے میں روایات مختلف ہیں، بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ ربیع الاول کے مہینے میں تشریف لے گئے تھے ، بعض روایتوں میں رجب، بعض میں ربیع الثانی، بعض میں رمضان اور بعض میں شوال کا مہینہ بیان کیا گیا ہے، اس لیے پورے یقین کے ساتھ نہیں کہاجاسکتا کہ کون سی رات صحیح معنی میں معراج کی رات تھی، اگر یہ کوئی مخصوص رات ہوتی اور اس کے بارے میں خاص احکام ہوتے تو اس کی تاریخ اور مہینہ محفوظ رکھنے کا اہتمام کیا جاتا، جب کہ شبِ معراج کی تاریخ قطعی طور پرمحفوظ نہیں۔فقط واللہ اعلم

*فتوی نمبر : 144007200326*

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

مؤطا امام مالکؒ ’’کتاب الجہاد باب ماجاء فی الغلول‘‘ میں حضرت ابن عباس ؓ کا ارشاد نقل کیا ہے:’’ما ظہر الغلول فی قوم قط إل...
24/11/2023

مؤطا امام مالکؒ ’’کتاب الجہاد باب ماجاء فی الغلول‘‘ میں حضرت ابن عباس ؓ کا ارشاد نقل کیا ہے:
’’ما ظہر الغلول فی قوم قط إلا ألقی فی قلوبہم الرعب ولا فشیٰ الزنا فی قوم إلا کثر فیہم الموت ولانقص قوم المکیال والمیزان إلا قطع عنہم الرزق، ولاحکم قوم بغیر الحق إلا فشیٰ فیہم الدم، ولاختر قوم بالعہد إلا سلط علیہم العدو‘‘۔ (مؤطا امام مالک، ص:۴۷۶، مؤطا امام محمد، ص:۳۶۹)

ترجمہ:…’’جس قوم میں خیانت عام ہوجاتی ہے، اس کے دل میں رعب ڈال دیا جاتا ہے۔ اور جس قوم میں زنا عام ہوجاتا ہے، ان میں اموات کثرت سے واقع ہونے لگتی ہیں۔ جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے، ان کا رزق بند کردیا جاتا ہے۔ جو حق کے خلاف فیصلے کرتی ہے، اس میں خونریزی عام ہوجاتی ہے اور جو قوم عہد شکنی کرتی ہے، ان پر دشمن کا تسلط ہوجاتا ہے‘‘۔

03/09/2021

Bilal student hostel cricket stadium road rawalpindi
3 seater Room

03/09/2021

Bilal student hostel
2 Seater Room

01/08/2021

Bilal Student Hostel Cricket Stadium Road

Bilal student hostel cricket stadium road Rawalpindi

28/07/2021

Bilal Students Hostel 🏢

Bilal student hostel cricket stadium road Rawalpindi

Bilal student hostel
27/06/2021

Bilal student hostel

05/06/2021

Bilal Student Hostel
cricket stadium road Rawalpindi

Bilal student hostel cricket stadium road Rawalpindi

Address

Cricket Stadium Duble Road
Rawalpindi
46300

Telephone

+923335106867

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bilal Student Hostel posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Bilal Student Hostel:

Share

Category