No Pain No Gain

No Pain No Gain In Pakistan

20/04/2024

خوشخبری خوشخبری 🎁🌹❤️

گوگل نے pi network کوئین کی ویلیو شو
کرنا شروع کر دی ہے حالانکہ ابھی تک مارکیٹ میں ابتدائی قیمت مقرر ہی نہیں کی گئی.
اسلام و علیکم دوستو ! 5 منٹ لگا کر تحریر ضرور پڑھیں
آپ کو ڈیجیٹل کرنسی میں اپنے قدم جمانے کا ایک شاندار موقع دوبارہ مل رہا ہے۔ پہلا موقع پاکستانیوں کو 2009 میں بٹ کوائن کی صورت میں ملا تھا لیکن پاکستان کی اکثریت نے اِسے دھوکہ اور فراڈ سمجھ کر اسے قبول نہیں کیا تھا اُس وقت بٹ کوائن نے لوگوں کو مفت میں بٹ کوائن بانٹ کر اپنی مائننگ شروع کروائی تھی اور جب جولائی 2010 میں بٹ کوائن نے اپنی پہلی قیمت مارکیٹ میں متعارف کروائی تو ایک بٹ کوائن کی قیمت صرف 0.08 ڈالر تھی لیکن آج اُسی بٹ کوائن کی قیمت70000 ڈالر ہے مطلب کہ پاکستانی 2 کروڑ 10 لاکھ روپے کے برابر یعنی صرف 10 سال کے عرصے میں اس کرنسی کا کوئی مدمقابل نہیں رہا ہے اور اب اس کرنسی کو ٹکر دینے کیلئے Stanford University کے PhD ہولڈرز نے ایک ڈیجیٹل کرنسی متعارف کروائی ہے جسے پائی نیٹ ورک (Pi Network) کا نام دیا گیا ہے اس وقت یہ نیٹ ورک بھی لوگوں کو مفت میں مائننگ کی آفر دے رہا ہے آپ کو کسی بھی قسم کی کوئی انویسٹمنٹ کرنے کیلئے نہیں کہا جاتا ہے نہ ہی آپ نے کوئی اشتھار وغیرہ دیکھنے ہیں اور نہ ہی آپ سے یہ شرط رکھی جاتی کہ اپنے نیچےٹیم بنائیں۔ یہ دنیا کی پہلی ڈیجیٹل کرنسی ہے جس کی مائننگ صرف ایک موبائل اپلیکیشن کے ذریعے کی جاسکتی ہے اس کے کام کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ کو 24 گھنٹے میں ایک بار اپلیکیشن کو کھول کر گرین بٹن کو دبانا ہے اور پھر کچھ نہیں کرنا ہے اور نہ ہی اس ایپ کو مسلسل انٹرنیٹ کی ضرورت ہوتی ہے بس مائننگ سٹارٹ کرتے ہوئے 10 سیکنڈ کیلئے انٹرنیٹ کی ضرورت ہوتی ہے وہ بھی 24 گھنٹے بعد
اس نیٹ ورک کو جوائن کرنے کیلئے play store میں جاکر pi network سرچ کریں
ایپ کو انسٹال کرنے کے بعد جب اُسے کھولیں گے تو آپ کو دو آپشن نظر آئیں گے ایک Facebook کی مدد سے اکاؤنٹ کھولیں اور دوسرا فون نمبر کی مدد سے اکاؤنٹ کھولیں آپ اکاؤنٹ فون نمبر کی مدد سے کھولیں گے تو زیادہ محفوظ رہے گا۔ اس کے بعد پاسورڈ درج کریں جو آپ رکھنا چاہتے ہیں لیکن پاسورڈ اس طرح کا ہونا چاہیے جس میں سب کچھ شامل ہو جیسے کہ
اِس کے بعد آپ کا نام پوچھے جائے گا نام درست درج کریں تاکہ بعد میں پریشانی نہ ہو
اِس کے بعد Username درج کریں جو آپ رکھنا چاہتے ہیں
اور پھر سب سے آخر میں invition Code درج کریں اس کے بغیر آپ اکاؤنٹ نہیں کھول سکیں گے۔ریفرل کوڈ یہ ہے SyedAshfaq9982

ریفرل کوڈ کا مطلب یہ ہے کہ کس نے آپکو ایپ کے بارے میں بتایا.جب آپ اپنا اکاؤنٹ بنا لیں گے تو اس پہ آپکا ریفرل کوڈ ہوگا.اس ریفرل کوڈ سے آپکیe ارننگ میں 25 فیصد مزید زیادہ ہوگی
جوائن کریں اور صبر سے کام لیں یہ نیٹ ورک جون میں اپنی پہلی قیمت مارکیٹ میں لانچ کرے گا جو کہ سننے میں آرہا ہے کہ اس کی ابتدائی قیمت 5 ڈالر کے آس پاس ہوگی اور اُس کے بعد یہ اپنی فری مائننگ بھی بند کردے گا۔l
لیکن اُس وقت تک آپ تقریباَ 600 سے 800 پائی حاصل کرسکتے ہیں بغیر ایک روپے کی انویسٹمنٹ کے، بغیر جعلی اشتھارات دیکھے اور بغیر ٹائم ضائع کیے۔
تو اب ذرا سوچیں کہ اگر ایک پائی کی قیمت 5 ڈالر لگائی گئی اور اگر آپ کے پاس صرف 500 پائی ہوں تو تو آپ کتنا سرمایہ حاصل کرسکتے ہیں صرف صبر کی بنیاد پر
500 x 5 = 2500 : یعنی کہ 2500 ڈالر
یہ سب کچھ آپ حاصل کر سکتے ہیں صبر کے ساتھ صرف 4 ماہ میں وہ بھی بغیر کسی فراڈ یا پونزی سکیم کے
نہ پیسوں کی انویسٹمنٹ، نہ جعلی اشتہار دیکھنے کا دھوکہ، اور نہ ہی اپنے نیچے ٹیم بنانے کا
invitation cod
SyedAshfaq9982

18/07/2023

برداشت :
Mustttttt Read......
صدر ایوب خان پاکستان کے پہلے ملٹری ڈکٹیٹر تھے‘ وہ روزانہ سگریٹ کے دو بڑے پیکٹ پیتے تھے‘ روز صبح ان کا بٹلر سگریٹ کے دو پیکٹ ٹرے میں رکھ کر ان کے بیڈ روم میں آجاتاتھا اورصدر ایوب سگریٹ سلگا کر اپنی صبح کا آغاز کرتے تھے‘ وہ ایک دن مشرقی پاکستان کے دورے پر تھے‘ وہاں ان کا بنگالی بٹلرانہیں سگریٹ دینا بھول گیا‘ جنرل ایوب خان کو شدید غصہ آیا اورانہوں نے بٹلر کو گالیاں دینا شروع کر دیں۔ جب ایوب خان گالیاں دے دے کر تھک گئے تو بٹلر نے انہیں مخاطب کر کے کہا ’’جس کمانڈر میں اتنی برداشت نہ ہو وہ فوج کو کیا چلائے گا‘ مجھے پاکستانی فوج اور اس ملک کا مستقبل خراب دکھائی دے رہا ہے‘‘۔ بٹلر کی بات ایوب خان کے دل پر لگی ‘ انہوں نے اسی وقت سگریٹ ترک کر دیا اور پھر باقی زندگی سگریٹ کو ہاتھ نہ لگایا۔آپ نے رستم زمان گاما پہلوان کا نام سنا ہو گا۔ہندوستان نے آج تک اس جیسا دوسرا پہلوان پیدا نہیں کیا‘ ایک بار ایک کمزور سے دکاندار نے گاما پہلوان کے سر میں وزن کرنے والاباٹ مار دیا۔ گامے کے سر سے خون کے فوارے پھوٹ پڑے‘ گامے نے سرپر مفلر لپیٹا اور چپ چاپ گھر لوٹ گیا۔ لوگوں نے کہا’’ پہلوان صاحب آپ سے اتنی کمزوری کی توقع نہیں تھی‘ آپ دکاندار کو ایک تھپڑ مار دیتے تو اس کی جان نکل جاتی‘‘۔ گامے نے جواب دیا ’’مجھے میری طاقت نے پہلوان نہیں بنایا‘ میری برداشت نے پہلوان بنایا ہے اور میں اس وقت تک رستم زمان رہوں گا جب تک میری قوت برداشت میرا ساتھ دے گی‘‘۔ قوت برداشت میں چین کے بانی چیئرمین ماؤزے تنگ اپنے دور کے تمام لیڈرز سے آگے تھے‘ وہ75سال کی عمر میں سردیوں کی رات میں دریائے شنگھائی میں سوئمنگ کرتے تھے اوراس وقت پانی کا درجہ حرارت منفی دس ہوتا تھا۔ ماؤ انگریزی زبان کے ماہر تھے لیکن انہوں نے پوری زندگی انگریزی کا ایک لفظ نہیں بولا ۔آپ ان کی قوت برداشت کا اندازا لگائیے کہ انہیں انگریزی میں لطیفہ سنایا جاتا تھا‘ وہ لطیفہ سمجھ جاتے تھے لیکن خاموش رہتے تھے لیکن بعدازاں جب مترجم اس لطیفے کا ترجمہ کرتا تھا تو وہ دل کھول کر ہنستے تھے ۔ قوت برداشت کا ایک واقعہ ہندوستان کے پہلے مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر بھی سنایا کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے انہوں نے زندگی میں صرف ڈھائی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کی پہلی کامیابی ایک اژدھے کے ساتھ لڑائی تھی‘ ایک جنگل میں بیس فٹ کے ایک اژدھے نے انہیں جکڑ لیا اور بابر کو اپنی جان بچانے کیلئے اس کے ساتھ بارہ گھنٹے اکیلے لڑنا پڑا۔ ان کی دوسری کامیابی خارش تھی۔ انہیں ایک بارخارش کا مرض لاحق ہو گیا‘خارش اس قدر شدید تھی کہ وہ جسم پر کوئی کپڑا نہیں پہن سکتے تھے۔ بابر کی اس بیماری کی خبر پھیلی تو ان کا دشمن شبانی خان ان کی عیادت کیلئے آ گیا۔ یہ بابر کیلئے ڈوب مرنے کا مقام تھا کہ وہ بیماری کے حالت میں اپنے دشمن کے سامنے جائے۔ بابر نے فوراً پورا شاہی لباس پہنا اور بن ٹھن کر شبانی خان کے سامنے بیٹھ گیا‘ وہ آدھا دن شبانی خان کے سامنے بیٹھے رہے‘ پورے جسم پر شدید خارش ہوئی لیکن بابر نے خارش نہیں کی۔ بابران دونوں واقعات کو اپنی دو بڑی کامیابیاں قرار دیتا تھا اورآدھی دنیا کی فتح کو اپنی آدھی کامیابی کہتا تھا۔ دنیا میں لیڈرز ہوں‘ سیاستدان ہوں‘ حکمران ہوں‘ چیف ایگزیکٹو ہوں یا عام انسان ہو‘ان کا اصل حسن ان کی قوت برداشت ہوتی ہے۔ دنیا میں کوئی شارٹ ٹمپرڈ‘ کوئی غصیلہ اور کوئی جلد باز شخص ترقی نہیں کر سکتا۔ دنیا میں معاشرے‘ قومیں اور ملک بھی صرف وہی آگے بڑھتے ہیں جن میں قوت برداشت ہوتی ہے۔ جن میں دوسرے انسان کی رائے‘ خیال اور اختلاف کو برداشت کیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک‘ ہمارے معاشرے میں قوت برداشت میں کمی آتی جا رہی ہے۔ ہم میں سے ہر شخص ہروقت کسی نہ کسی شخص سے لڑنے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔ شائد قوت برداشت کی یہ کمی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں دنیا میں سب سے زیادہ قتل اور سب سے زیادہ حادثے ہوتے ہیں لیکن یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کیا ہم اپنے اندر برداشت پیدا کر سکتے ہیں؟ اس کا جواب ہاں ہے اور اس کا حل رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ میں ہے۔ ایک بار ایک صحابیؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ’’یارسول اللہ ﷺآپ مجھے زندگی کو پر سکون اور خوبصورت بنانے کاکوئی ایک فارمولہ بتا دیجئے‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا ’’غصہ نہ کیا کرو‘‘ آپﷺ نے فرمایا ’’دنیا میں تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اول وہ لوگ جو جلدی غصے میں آجاتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں۔ دوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں اور سوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور دیر سے اصل حالت میں لوٹتے ہیں‘‘ آپﷺ نے فرمایا ’’ ان میں سے بہترین دوسری قسم کے لوگ ہیں جبکہ بدترین تیسری قسم کے انسان‘‘۔ غصہ دنیا کے90فیصد مسائل کی ماں ہے اور اگر انسان صرف غصے پر قابو پا لے تواس کی زندگی کے 90فیصد مسائل حل ہوجاتے ہیں

______
Copied

اسلام وعلیکم اقرار بھائی آپ یہ نہ کہیے  کہ آپ کو اللہ نے بیٹی نہیں دی بلکہ اللہ نے آپ کو اپنی رحمت  سے محروم رکھا ہے.خدا...
21/08/2021

اسلام وعلیکم اقرار بھائی آپ یہ نہ کہیے کہ آپ کو اللہ نے بیٹی نہیں دی بلکہ اللہ نے آپ کو اپنی رحمت سے محروم رکھا ہے.
خدا کےلئے ایسی باتوں سے اجتناب کریں. میں بھی آپ کے چاہنے والوں میں سے ہوں آپ نے ملک و قوم کے لئے بہت سارے اچھے کام بھی کئے ہیں. لیکن یہ بات کر کے آپ نے ہماری دل آزاری کی ہے. برائے مہربانی اگر میری بات سے آپ کو تکلیف پہنچی ہو تو معذرت خواہ ہوں.
سید اشفاق حسین

پیش ہے ڈرامہ سیریل ارتغرل غازی کی دوسری قسط۔ 26-04-2020- زیادہ سے زیادہ شئیر کریں
28/04/2020

پیش ہے ڈرامہ سیریل ارتغرل غازی کی دوسری قسط۔ 26-04-2020- زیادہ سے زیادہ شئیر کریں

Dirilis: Ertgurul Season 1 Episode 2 in Urdu HD 720p | PTV Home Ertgurul Episode 2 in Urdu, Ertgurul in Uredu, Ertgurul Episode 2 Hindi Bubbed, Ertgurul Seas...

Ertgurul Episode 1 is out now. Share with everyone.
28/04/2020

Ertgurul Episode 1 is out now. Share with everyone.

Dirilis: Ertgurul Season 1 Episode 1 in Urdu HD 720p | PTV Home Ertgurul Episode 1 in Urdu, Ertgurul in Uredu, Ertgurul Episode 1 Hindi Bubbed, Ertgurul Seas...

05/12/2019

‎❤️“تم اک گورکھ دھندہ ہو”❤️

‎کبھی یہاں تمہیں ڈھونڈا کبھی وہاں پہنچا❤️
‎تمہاری دید کی خاطر کہاں کہاں پہنچا
‎غریب مٹ گئے ، پامال ہو گئے لیکن
‎کسی تلک نہ تیرا آج تک نشاں پہنچا
‎ہو بھی نہیں اور ہر جا ہو
‎تم اک گورکھ دھندہ ہو

‎ہر ذرے میں کس شان سے تو جلوہ نما ہے❤️
‎حیراں ہے مگر عقل میں کیسا ہے تو کیا ہے
‎تجھے دیر و حرم میں میں نے ڈھونڈا تو نہیں ملتا
‎مگر تشریف فرما تجھ کو اپنے دل میں دیکھا ہے
‎جب بجز تیرے کوئی دوسرا موجود نہیں
‎پھر سمجھ میں نہیں آتا تیرا پردہ کرنا
‎تم اک گورکھ دھندہ ہو

‎کوئی الفت میں تمہاری کھو گیا ہے❤️
‎اسی کھوئے ہوئے کو کچھ ملا ہے
‎نہ بت خانے نہ کعبے میں ملا ہے
‎مگر ٹوٹے ہوئے دل میں ملا ہے
‎عدم بن کر کہیں تو چھپ گیا ہے
‎کہیں تو ہست بن کر آ گیا ہے
‎نہیں ہے تو تو پھر انکار کیسا
‎نفی بھی تیرے ہونے کا پتہ ہے
‎میں جس کو کہہ رہا ہوں اپنی ہستی
‎اگر وہ تو نہیں تو اور کیا ہے
‎نہیں آیا خیالوں میں اگر تو
‎تو پھر میں کیسے سمجھا تو خدا ہے
‎تم اک گورکھ دھندہ ہو
‎تم اک گورکھ دھندہ ہو

‎حیران ہوں اس بات پہ تم کون ہو ، کیا ہو❤️
‎ہاتھ آؤ تو بت ، ہاتھ نہ آؤ تو خدا ہو
‎اصل میں جو مل گیا ، لا الہ کیونکر ہوا
‎جو سمجھ میں آگیا پھر وہ خدا کیونکر ہوا
‎فلسفی کو بحث کےاندر خدا ملتا نہیں
‎ڈور کو سلجھا رہا ہے اور سرا ملتا نہیں
‎چھپتے نہیں ہو ، سامنے آتے نہیں ہو تم
‎جلوہ دکھا کے جلوہ دکھاتے نہیں ہو تم
‎دیر و حرم کے جھگڑے مٹاتے نہیں ہو تم
‎جو اصل بات ہے وہ بتاتے نہیں ہو تم
‎حیراں ہوں میرے دل میں سمائے ہو کس طرح
‎حالانکہ دو جہاں میں سماتے نہیں ہو تم
‎یہ معبد و حرم ، یہ کلیسا و دہر کیوں
‎ہرجائی ہو جبھی تو بتاتے نہیں ہو تم
‎بس تم اک گورکھ دھندہ ہو
‎تم اک گورکھ دھندہ ہو

‎دل پہ حیرت نے عجب رنگ جما رکھا ہے❤️
‎ایک الجھی ہوئی تصویر بنا رکھا ہے
‎کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ چکر کیا ہے
‎کھیل کیا تم نے ازل سے یہ رچا رکھا ہے
‎روح کو جسم کے پنجرے کا بنا کر قیدی
‎اس پہ پھر موت کا پہرہ بھی بٹھا رکھا ہے
‎یہ کہ تدبیر کے پنچھی کو اڑانے تو نے
‎دام تقدیر بھی ہر سمت بچھا رکھا ہے
‎کر کے آرائشیں کونین کی برسوں تو نے
‎ختم کرنے کا بھی منصوبہ بنا رکھا ہے
‎لامکانی کا بہر حال ہے دعوی بھی تمہیں
‎نام کا بھی پیغام سنا رکھا ہے
‎یہ برائی ، وہ بھلائی ، یہ جہنم ، وہ بہشت
‎اس الٹ پھیر میں فرماؤ تو کیا رکھا ہے
‎جرم آدم نے کیا اور سزا بیٹوں کو
‎عدل و انصاف کا معیار بھی کیا رکھا ہے
‎دے کے انسان کو دنیا میں خلافت اپنی
‎اک تماشا سا زمانے میں بنا رکھا ہے
‎اپنی پہچان کی خاطر ہے بنایا سب کو
‎سب کی نظروں سے مگر خود کو چھپا رکھا ہے
‎تم اک گورکھ دھندہ ہو
‎تم اک گورکھ دھندہ ہو

‎نت نئے نقش بناتے ہو ، مٹا دیتے ہو❤️
‎جانے کس جرم تمنا کی سزا دیتے ہو
‎کبھی کنکر کو بنا دیتے ہو ہیرے کی کنی
‎کبھی ہیروں کو بھی مٹی میں ملا دیتے ہو
‎زندگی کتنے ہی مردوں کو عطا کی جس نے
‎وہ مسیحا بھی صلیبوں پہ سجا دیتے ہو
‎خواہش دید جو کر بیٹھے سر طور کوئی
‎طور ہی ، برق تجلی سے جلا دیتے ہو
‎نار نمرود میں ڈلواتے ہو خود اپنا خلیل
‎خود ہی پھر نار کو گلزار بنا دیتے ہو
‎چاہ کنعان میں پھینکو کبھی ماہ کنعاں
‎نور یعقوب کی آنکھوں کا بجھا دیتے ہو
‎بیچو یوسف کو کبھی مصر کے بازاروں میں
‎آخر کار شاہ مصر بنا دیتے ہو
‎جذب ومستی کی جو منزل پہ پہنچتا ہے کوئی
‎بیٹھ کر دل میں انا الحق کی صدا دیتے ہو
‎خود ہی لگواتے ہو پھر کفر کے فتوے اس پر
‎خود ہی منصور کو سولی پہ چڑھا دیتے ہو
‎اپنی ہستی بھی وہ اک روز گنوا بیٹھتا ہے
‎اپنے درشن کی لگن جس کو لگا دیتے ہو
‎کوئی رانجھا جو کبھی کھوج میں نکلے تیری
‎تم اسے جھنگ کے بیلے میں رُلا دیتے ہو
‎جستجو لے کے تمہاری جو چلے قیس کوئی
‎اس کو مجنوں کی سی لیلیٰ کا بنا دیتے ہو
‎جوت سسی کے اگر من میں تمہاری جاگے
‎تم اسے تپتے ہوئے تھل میں جلا دیتے ہو
‎سوہنی گر تم کو “مہینوال” تصور کر لے
‎اس کو بپھری ہوئی لہروں میں بہا دیتے ہو
‎خود جو چاہو تو سر عرش بلا کر محبوب
‎ایک ہی رات میں معراج کرا دیتے ہو
‎تم اک گورکھ دھندہ ہو
‎تم اک گورکھ دھندہ ہو

‎جو کہتا ہوں مانا تمہیں لگتا ہے برا سا❤️
‎پھر بھی ہے مجھے تم سے بہر حال گلہ سا
‎چپ چاپ رہے دیکھتے تم عرش بریں پر
‎تپتے ہوئے کربل میں محمد کا نواسہ
‎کس طرح چلاتا تھا لہو اپنا وفا کو
‎خود تین دنوں سے وہ اگر چہ تھا پیاسا
‎دشمن تو بہر طور تھے دشمن مگر افسوس
‎تم نے بھی فراہم نہ کیا پانی ذرا سا
‎ہر ظلم کی توفیق ہے ظالم کی وراثت
‎مظلوم کے حصے میں تسلی نہ دلاسا
‎کل تاج سجا دیکھا تھا جس شخص کے سر پر
‎ہے آج اسی شخص کے ہاتھوں میں ہی کاسہ
‎یہ کیا ہے اگر پوچھوں تو کہتے ہو جواباً
‎اس راز سے ہو سکتا نہیں کوئی شناسا
‎تم اک گورکھ دھندہ ہو
‎تم اک گورکھ دھندہ ہو
‎راہِ تحقیق میں ہر گام پہ الجھن دیکھوں
‎وہی حالات و خیالات میں ان بن دیکھوں
‎بن کے رہ جاتا ہوں تصویر پریشانی کی
‎غور سے جب بھی کبھی دنیا کا درپن دیکھوں
‎ایک ہی خاک سے فطرت کے تضادات اتنے
‎کتنے حصوں میں بٹا ایک ہی آنگن دیکھوں
‎کہیں زحمت کی سلگتی ہوئی پت جھڑ کا ساماں
‎کہیں رحمت کے برستے ہوئے ساون دیکھوں
‎کہیں پُھنکارتے دریا ، کہیں خاموش پہاڑ
‎کہیں جنگل ، کہیں صحرا ، کہیں گلشن دیکھوں
‎خوں رُلاتا ہے یہ تقسیم کا انداز مجھے
‎کوئی دھنوان یہاں پر کوئی نردھن دیکھوں
‎دن کے ہاتھوں میں فقط ایک سلگتا سورج
‎رات کی مانگ ستاروں سے مزین دیکھوں
‎کہیں مرجھائے ہوئے پھول ہیں سچائی کے
‎اور کہیں جھوٹ کے کانٹوں پہ بھی جوبن دیکھوں
‎رات کیا شئے ہے سویرا کیا ہے
‎یہ اجالا یہ اندھیرا کیا ہے
‎میں بھی نائب ہوں تمہارا آخر
‎تم یہ کہتے ہو کہ تیرا کیا ہے
‎تم اک گورکھ دھندہ ہو
‎تم اک گورکھ دھندہ ہو

‎دیکھنے والا تجھے کیا دیکھتا❤️
‎تو نے ہر دم جس سے پردہ کیا
‎مسجد ، مندر ، یہ میخانے
‎کوئی یہ مانے ، کوئی وہ مانے
‎سب تیرے ہیں جاناں آشانے
‎کوئی یہ مانے ، کوئی وہ مانے
‎اک ہونے کا تیرے قائل ہے
‎انکار پہ کوئی مائل ہے
‎اصلیت یہ پھر تو جانے
‎اک خلق میں شامل کرتا ہے
‎اک سب سے اکیلا رہتا ہے
‎ہیں دونوں تیرے مستانے
‎کوئی یہ مانے ، کوئی وہ مانے
‎کوئی یہ مانے ، کوئی وہ مانے
‎سب ہیں جب عاشق تمہارے نام کے
‎کیوں یہ جکڑے ہیں رحیم و رام کے
‎دہر میں تو ، حرم میں تو
‎عرش پہ تو ، زمیں پہ تو
‎جس کی پہنچ جہاں تلک
‎اس کے لیے وہیں پہ تو
‎تم اک گورکھ دھندہ ہو
‎ہر ایک رنگ میں یکتا ہو
‎تم اک گورکھ دھندہ ہو

‎مرکز جستجو❤️
‎عالم رنگ و بو
‎دم بدم جلوہ گر ، تو ہی تو چار سو
‎ھُوکے ماحول میں کچھ نہیں اِلاّھو
‎تم بہت دلربا ، تم بہت خوبرو
‎عرش کی عظمتیں
‎فرش کی آبرو
‎تم ہو کونین کا حاصل آرزو
‎آنکھ نے کر لیا آنسؤں سے وضو
‎اب تو کر دو عطا دید کا اک سبُو
‎آؤ پردے سے تم آنکھ کے روبرو
‎چند لمحے ملن ، دوگھڑی گفتگو
‎ناز جپتا پھرے جا بجا ، کُو بکُو
‎وحدہ وحدہ لا شریک الٰہ
‎اللہ ھو ، اللہ ھو ۔ اللہ ھو
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

01/11/2019

اردو کا جنازہ ہے, ذرا دھوم سے نکلے

نصاب کو کورس کہا جانے لگا
اور اس کورس کی ساری کتابیں بستہ کے بجائے بیگ میں رکھ دی گئیں۔
ریاضی کو میتھس کہا جانے لگا۔
اسلامیات اسلامک سٹڈی بن گئی- انگریزی کی کتاب انگلش بک بن گئی- اسی طرح طبیعیات، فزکس میں اور معاشیات، اکنامکس میں، سماجی علوم، سوشل سائنس میں تبدیل ہوگئے-

پہلے طلبہ پڑھائی کرتے تھے اب اسٹوڈنٹس سٹڈی کرنے لگے۔
پہاڑے یاد کرنے والوں کی اولادیں ٹیبل یاد کرنے لگیں۔
اساتذہ کیلیے میز اور کرسیاں لگانے والے، ٹیچرز کے لیے ٹیبل اور چئیرز لگانے لگے۔

داخلوں کی بجائے ایڈمشنز ہونے لگے۔.... اول، دوم، اور سوم آنے والے طلبہ؛ فرسٹ، سیکنڈ، اور تھرڈ آنے والے سٹوڈنٹ بن گئے۔
پہلے اچھی کارکردگی پر انعامات ملا کرتے تھے پھر پرائز ملنے لگے۔
بچے تالیاں پیٹنے کی جگہ چیئرز کرنے لگے۔
یہ سب کچھ سرکاری سکولوں میں ہوا ہے۔

باقی رہے پرائیویٹ سکول، تو ان کا پوچھیے ہی مت۔ ان کاروباری مراکز تعلیم کیلیے کچھ عرصہ پہلے ایک شعر کہا گیا تھا،

مکتب نہیں، دکان ہے، بیوپار ہے
مقصد یہاں علم نہیں، روزگار ہے۔

اور تعلیمی اداروں کا رونا ہی کیوں رویا جائے، ہمارے گھروں میں بھی اردو کو یتیم اولاد کی طرح ایک کونے میں ڈال دیا گیا ہے۔

زنان خانہ اور مردانہ تو کب کے ختم ہو گئے۔ خواب گاہ کی البتہ موجودگی لازمی ہے تو اسے ہم نے بیڈ روم کا نام دے دیا۔

باورچی خانہ کچن بن گیا اور اس میں پڑے برتن کراکری کہلانے لگے۔
غسل خانہ پہلے باتھ روم ہوا پھر ترقی کر کے واش روم بن گیا۔
مہمان خانہ یا بیٹھک کو اب ڈرائنگ روم کہتے ہوئے فخر محسوس کیا جاتا ہے۔

مکانوں میں پہلی منزل کو گراونڈ فلور کا نام دے دیا گیا اور دوسری منزل کو فرسٹ فلور۔
دروازہ ڈور کہلایا جانے لگا، پہلے مہمانوں کی آمد پر گھنٹی بجتی تھی اب ڈور بیل بجنے لگی۔
کمرے روم بن گئے۔ کپڑے الماری کی بجائے کپبورڈ میں رکھے جانے لگے۔

"ابو جی" یا "ابا جان" جیسا پیارا اور ادب سے بھرپور لفظ دقیانوسی لگنے لگا، اور ہر طرف ڈیڈی، ڈیڈ، پاپا، پپّا، پاپے کی گردان لگ گئی حالانکہ پہلے تو پاپے(رس) صرف کھانے کے لئے ہوا کرتے تھے اور اب بھی کھائے ہی جاتے ہیں-
اسی طرح شہد کی طرح میٹھا لفظ "امی" یا امی جان "ممی" اور مام میں تبدیل ہو گیا۔

سب سے زیادہ نقصان رشتوں کی پہچان کا ہوا۔
چچا، چچی، تایا، تائی، ماموں ممانی، پھوپھا، پھوپھی، خالو خالہ سب کے سب ایک غیر ادبی اور بے احترام سے لفظ "انکل اور آنٹی" میں تبدیل ہوگئے۔
بچوں کے لیے ریڑھی والے سے لے کر سگے رشتہ دار تک سب انکل بن گئے۔
یعنی محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے۔

ساری عورتیں آنٹیاں، چچا زاد،
ماموں زاد، خالہ زاد بہنیں اور بھائی سب کے سب کزنس میں تبدیل ہوگئے، نہ رشتے کی پہچان رہی اور نہ ہی جنس کی۔

نہ جانے ایک نام تبدیلی کے زد سے کیسے بچ گیا ۔ ۔ ۔ گھروں میں کام کرنے والی خواتین پہلے بھی ماسی کہلاتی تھیں اب بھی ماسی ہی ہیں۔

گھر اور سکول میں اتنی زیادہ تبدیلیوں کے بعد بازار انگریزی کی زد سے کیسے محفوظ رہتے۔
دکانیں شاپس میں تبدیل ہو گئیں اور ان پر گاہکوں کی بجائے کسٹمرز آنے لگے، آخر کیوں نہ ہوتا کہ دکان دار بھی تو سیلز مین بن گئے جس کی وجہ سے لوگوں نےخریداری چھوڑ دی اور شاپنگ کرنے لگے۔
سڑکیں روڈز بن گئیں۔
کپڑے کا بازار کلاتھ مارکیٹ بن گئی، یعنی کس ڈھب سے مذکر کو مونث بنادیا گیا۔
کریانے کی دکان نے جنرل اسٹور کا روپ دھار لیا،
نائی نے باربر بن کر حمام بند کردیا اور ہیئر کٹنگ سیلون کھول لیا۔

ایسے ماحول میں دفاتر بھلا کہاں بچتے۔ پہلے ہمارا دفتر ہوتا تھا جہاں مہینے کے مہینے تنخواہ ملا کرتی تھی، وہ اب آفس بن گیا اور منتھلی سیلری ملنے لگی ہے اور جو کبھی صاحب تھے وہ باس بن گئے ہیں،
بابو کلرک اور چپراسی پِیّن بن گئے۔
پہلے دفتر کے نظام الاوقات لکھے ہوتے تھے اب آفس ٹائمنگ کا بورڈ لگ گیا-

سود جیسے قبیح فعل کو انٹرسٹ کہا جانے لگا۔ طوائفیں آرٹسٹ بن گئیں
اور محبت کو 'لَوّ' کا نام دے کر محبت کی ساری چاشنی اور تقدس ہی چھین لیا گیا۔
صحافی رپورٹر بن گئے اور خبروں کی جگہ ہم نیوز سننے لگے۔

کس کس کا اور کہاں کہاں کا رونا رویا جائے۔

اردو زبان کے زوال کی صرف حکومت ہی ذمہ دار نہیں، عام آدمی تک نے اس میں حتی المقدور حصہ لیا ہے-

اور دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہمیں اس بات کا احساس تک نہیں کہ ہم نے اپنی خوبصورت زبان اردو کا حلیہ مغرب سے مرعوب ہو کر کیسے بگاڑ لیا ہے۔
وہ الفاظ جو اردو زبان میں پہلے سے موجود ہیں اور مستعمل بھی ہیں ان کو چھوڑ کر انگریزی زبان کے الفاظ کو استعمال کرنے میں فخر محسوس کرنے لگے ہیں

وائے ناکامیِ متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

ہم کہاں سے کہاں آگئے اورکہاں جارہے ہیں؟
دوسروں کا کیا رونا روئیں، ہم خود ہی اس کے ذمہ دار ہیں. دوسرا کوئی نہیں۔
بہت سے اردو الفاظ کو ہم نے انگریزی قبرستان میں مکمل دفن کر دیا ہے اور مسلسل دفن کرتے جا رہے ہیں. اور روز بروز یہ عمل تیزتر ہوتا جا رہا ہے۔

*روکیے، خدا را روکیے،*
*ارود کو مکمل زوال پزیر ہونے سے روکیے۔*

اگر آپ مناسب سمجھیں تو قوم کو بیدار کرنے کی خاطر اس تحریر کو شیئر کریں.

*ملاحظہ: قومیں اپنی قومی زبان کو پروان چڑھا کر ہی ترقی کرتی ہیں۔ موجودہ زمانے کا یہی سکہ بند اصول ہے۔ جاپان روس اٹلی فرانس اور چین اس کی زندہ مثال ہیں

07/04/2019

کس موڑ پر لے آتی ہے نوکری انسان کو۔۔ اپنے ہی

گھر جانے کیلئے دوسروں سے اِجازت لینا پڑتی ہے. 😊

19/06/2018

PIA in loss.
Steel mill closed.
Railway in loss.
FBR failed.
Industries and
Pvt Sectors in loss.
Import exports at
lowest level of history.
Water Shortage increases.
Nandi pur, solar park, coal plant failed to produce electricity.
Record breaking Loans Of 13000
billions $ at highest interest rates.
Mega Curroption Scandals,
Panama Leaks,
Dawn Leaks,
Mineral Water Companies Scandal,
Metro Bus, Metro Train in
loss & subsidised
Yellow Cab Scheme, Laptop Scheme, PM Youth loan, Sasti Roti Scheme, Emensity Scheme,
Qarz Utaro Mulk Suwaro,
Motorway, Railway, PIA
mortgaged for Loans.
Nawaz Sharif holds 1st position in worlds most corrupt politicians list.
Remain Silent on Kalbhushan, Kashmir, Violations of LOC &
Indus Water Treaty, but
Blaming Pakistan for
Mumbai Attacks.
Try to remove blasphemy laws
in Parliament.
Spends 30 billions of dollars on Visits to world with 0% trade interest.
Failed to bring National
international investments for industrial & pvt Sector.
No effective policies for Healthcare, Education & welfare of society.
20 millions of Youth are jobless.
Politicised Fedral and provincial establishment institutions.
Always propagate against
Army and Court.

This is what they "PMLn's
Tajurba-kar Team" have
done in five years.

Most curropt & incapable Govt.
in the history of Pakistan.

Think before you vote.
Think for Pakistan.
Vote for Pakistan,
Not for "Biryani and
qeema wala naan"

Pakistan Zindabad❤

05/11/2017
08/03/2017
16/02/2017

دنیا میں بظاہر جسم کارفرما ہیں، ہاتھ ہلتے ہیں، پیر چلتے ہیں، منہ سے بولا جاتا ہے، آنکھیں دیکھتی ہیں، کانوں سے سنا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ نہیں ہے. حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں روح کارفرما ہے۔ کان بھی ہوں گے لیکن سنیں گے نہیں، آنکھیں ہوں گی لیکن دیکھیں گی نہیں، ہاتھ ہوں گے لیکن حرکت کریں گے نہیں، پیر ہوں گے لیکن چلیں گے نہیں، اعضائے بدن تو ہوں گے لیکن ہوں گے خاموش، کیونکہ اصل رو ح ہے، وہ ہوگی تو سب چیزیں حرکت میں آئیں گی، اگر نہیں ہوگی تو حرکت نہیں کریں گی۔

روح اللہ تعالیٰ کے ایک فیصلے کا نام ہے، اس سے زیادہ جانا نہیں جا سکتا۔ انسان کے پاس جو علم ہے وہ بہت ہی کم ہے بلکہ دیا ہی نہیں گیا جبکہ روح کو سمجھنے کےلیے زیادہ علم چاہیے جو مخلوق کی شان کے لائق نہیں ہے۔ حضوراکرم ﷺ مدینہ منورہ سے باہر کسی غیر آباد جگہ پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ چل رہے تھے، قریب ہی یہودی آبادی تھی، ان کے مذہبی علماء اکھٹے بیٹھے تھے، انہوں نے آپس میں کہا کہ وہ نبوت کا دعویدار آ رہا ہے، ان سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، ان میں سے جو سمجھدار تھے، انہوں نے کہا کہ مت پوچھو، ایسا نہ ہو کہ اور بےعزتی ہو جائے، لیکن اکثر نے کہا کہ نہیں پوچھنا چاہیے، پھر انہوں نے رسول کریم ﷺ سے پوچھا تو آپ خاموش ہوگئے، علمائے یہود گھبرا گئے اور ایک دوسرے سے کہا کہ ہم کہتے تھے کہ مت پوچھو، اس کی وجہ یہ تھی کہ یونانی حکماء و فلاسفر روح میں کلام کرتے تھے جبکہ انبیاء علیہم السلام نہیں کرتے تھے، وہ اسے اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دیتے تھے۔ کچھ دیر بعد آپﷺ نے فرمایا ”روح امر ربی ہے“۔

روح وہ امر ربی ہے جس کے حکم اور پروگرام کے ماتحت ہمارا وجود شروع ہوتا ہے۔ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ روح کا مادہ نور ہے اور یہ نور توانائی کی ایک قسم ہے، جس طرح ملائکہ نور سے پیدا ہوئے، اسی طرح روح بھی۔ سائنسی تحقیق کے مطابق روح انسان کا وہ حصہ ہے جس کا موت بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ مغربی ممالک میں نفوس کی جو تصاویر لی گئی ہیں، ان میں یہ ایک نوری ہیولا کی مانند نظر آتی ہے۔

انسان کا وجود مرکب ہے اور اس کے دوحصے ہیں، ایک وجود حیوانی ہے اور ایک وجود روحانی ہے۔ وجود حیوانی جسم اور جان پر مشتمل ہے جبکہ وجود روحانی ایک مستقل شخصیت ہے اور وہ روح ہے۔ جسم میں جان ایک کیفیت کا نام ہے، اور اس کا جسم سے علیحدہ کوئی تصور نہیں ہے، جبکہ روح کا ایک اپنا مستقل وجود ہے۔ روح آسمان سے ہے جبکہ جسم زمین سے ہے۔ روح کی بھی آنکھیں ہیں، کان ہیں، عقل ہے، جسم کی ان تینوں چیزیں کا تعلق دماغ سے ہے جبکہ روح کی ان تینوں چیزوں کا تعلق دل سے ہے۔ روح دل میں رہتی ہے، قرآن مجید کی سورۃ حج میں ارشاد ہے ”کیا یہ لوگ زمین میں سیر نہیں کرتے، پھر ان کے دل ہوتے جن سے وہ عقل لیتے یا کان جن سے وہ سنتے“، اندھی یہ آنکھیں نہیں ہوتیں بلکہ دل کی آنکھ اندھی ہو جاتی ہے. انسان ہونے کے ناطے جو چیز ہمیں دی گئی ہے، وہ روح ہے۔

جس طرح جسم کو طاقت کےلیے غذا کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ غذا زمین سے لی جاتی ہے۔ روح کو بھی طاقت کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کے کلام سے ملتی ہے۔ جسم اور روح کے رجحان ایک دوسرے سے مختلف ہیں، جسم جہاں سے آیا ہے اسی کی طرف جھکنا چاہتا ہے جبکہ روح اللہ تعالیٰ کا قرب چاہتی ہے۔ روح ہے لیکن اس کی تفسیر قرآن مجید نے نہیں بتائی، البتہ سوچنے والوں کے لیے اشارات ہیں. سب سے پہلا اشارہ یہ ہے کہ روح کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات سے منسوب کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا ”میں سڑے ہوئے گارے سے خشک ہو کر کھنکھناتی ہوئی مٹی سے بشر بنانے والا ہوں، جب میں اسے تیار کر دوں اور پھر اپنی روح اس میں پھونک دوں تو اسے سجدہ کرنا“ ( یہاں پر علمائے کرام احتیاط کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی شایان شان نہیں ہے کہ اس میں سے کوئی چیز نکلے)۔

صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ دنیا کی ہر مادی چیز کے ساتھ ایک غیر مادی چیز نتھی ہوتی ہے، اس غیر مادی چیز کو جوہر کہتے ہیں، روح انسان کے مادی جسم کا جوہر ہے، یہ غیر مادی جوہر جسم سے علیحدہ ہو جائے تو مادی جسم فوت ہو جاتا ہے، گویا ہمارا مادی جسم غیر مادی جوہر پر قائم ہے، یہ جوہر نہیں رہے گا تو مادی جسم بھی نہیں رہے گا۔ روح حلال ہے اور جسم حرام، حلال نکل جائے تو جسم حرام ہو جاتا ہے، اور حرام کو تدفین کےلیے غسل بھی چاہیے اور نمازی بھی۔

زندگی کے جس جزو کو ہم حیات کہتے ہیں، امام غزالیؒ نے اس کا نام روح حیوانی رکھا۔ جس جزو کو ہم نفس کہتے ہیں، آپؒ اس کو روح انسانی کہتے ہیں۔ آپؒ فرماتے ہیں کہ چونکہ روح حیوانی کا سفلی اشیاء سے تعلق ہے، اس لیے علم طب میں اس کی وضاحت موجود ہے اور اس کے مزاج کو اعتدال پر رکھنے کےلیے علاج مقرر ہیں تاکہ بیماریوں سے نجات مل سکے۔ اس کے برعکس روح انسانی علوی ہے جو قلب کی حقیقت سے تعلق رکھتی ہے۔

کچھ لوگوں نے روح کے متعلق یہ فلسفہ بیان کیا کہ یہ ایک حرارت غریزی (خون کی گردش سےگرمی پیدا ہونا) ہے، اور اس حرارت غریزی کی وجہ سے انسان زندہ ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ ایک قوت نامیہ (بڑھنے والی) ہے۔ ہندو شاعر برج نارائن چکبست اس نے اس فلسفے کو یوں بیان کیا ہے کہ
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب
موت کیا ہے انھی اجزاء کا پریشاں ہونا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”اے انسان جو تیرے قریب چیز ہے، اس سے محبت کرتا ہے (یعنی دنیا سے)، اور آخر ت چونکہ تمھیں نظر نہیں آتی، اس لیے تو اس کو چھوڑ دیتا ہے۔ اے انسان وہ وقت یاد رکھ جب تیری روح نکلنے کےلیے تیر ی پسلی تک پہنچ جائے گی۔“

نیویارک میں ڈاکٹر ایل جان نے چند ڈاکٹروں کو اپنے ساتھ ملا کر بارہ سو لوگوں پر تجربات کیے اور یہ نتائج اخذ کیے کہ جیسے ہی انسان فوت ہوتا ہے، اس کا وزن 67 گرام کم ہو جاتا ہے، اسی قسم کے تجربات ڈاکٹر ابراہام نے لاس اینجلس میں کیے، اور یہ نتائج اخذ کیے کہ روح کا وزن 21 گرام ہے، لیکن ان تجربات کے باوجود بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اصل میں روح کا وزن کتنا ہے۔ سائنس کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں ہے کہ روح کہاں چلی جاتی ہے، کائنات میں گردش کرتی ہے یا کوئی نیا بدن، کوئی نیا جسم تلاش کر لیتی ہے. سائنس اس کا ابھی تک کوئی تسلی بخش جواب تلاش نہیں کر سکی۔

قرآنی تعلیمات سے پتا چلتا ہے کہ روحیں اس وقت بھی موجود تھیں، جب انسانی جسم کی تخلیق نہیں ہوئی تھی۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی تو تمام انسانیت کی روحیں حضرت آدم علیہ السلام کے جسم میں داخل کر دی گئیں۔ یہ جنت کے زمانے کی بات ہے، چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ ”ہم نےحکم دیا کہ تم سب یہاں اتر جاؤ۔ پھر اگر تمہارے پاس میر ی طر ف سے کوئی ہدایت آئے، تو جو میری ہدایت کی اتباع کرے گا۔ نہ ہوگا ان کے لیے کوئی خوف اور نہ کوئی غم۔“ (سورۃالبقرہ آیت 38)۔ یہ بھی کہاجاتا ہے کہ جب حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا تو ان کی ہتھیلی پر چھوٹے چھوٹے ذرے رکھے گئے، وہ ان کی مٹھی میں آ گئے، ان میں کچھ کالے تھے، کچھ سفید تھے، کچھ سرخ تھے، انہیں کہا گیا کہ یہ تمہاری آل اولاد ہے۔ سید سرفراز شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے روحوں کو تخلیق کرنے کے بعد اُس آسمان پر اتارا جہاں فرشتے رہتے ہیں، وہاں پر انہیں فرشتوں کے نور میں غسل دیاگیا اور اس کا نام روح پاکیزہ رکھا گیا۔ وہاں سے پھر انہیں تیسرے آسمان پر اتارا گیا، اور ایک بار پھر غسل دیا گیا جس کے بعد اس کا نام روح متحرکہ رکھا گیا۔

دنیا میں روانگی کے وقت روح کو ایک ٹاسک دیا جاتا ہے کہ جب تک یہ زمین پر ہے، اپنے خالق کی طرف رجوع رکھے گی۔ دنیا میں آنے اور بلوغت کی حد تک پہنچنے کے بعد روح اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع تو رکھتی ہے لیکن اس طرح نہیں جس طرح رجوع رکھنے کا حق ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اس سرسری رجوع کو بھی قبول کرتا ہے، اسے رائیگاں نہیں جانے دیتا۔ اگر کوئی روح ہمیشہ اپنے خالق سے رجوع رکھتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنا علم عطا فرماتا ہے، پھر اسے دین کی سمجھ بھی آجاتی ہے، یہی وہ مقام ہوتا ہے جس کے بارے میں حضوراکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ”مؤمن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نور کی مدد سے دیکھتا ہے (جامع ترمذی، حدیث نمبر 3052)۔“ مزید قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے ”(اے نوع انسانی) اللہ تبارک و تعالیٰ کی اپنے اوپر مہربانی یاد کرو اور اس وعدہ پر غور کر جس پر تم نے پابند رہنے کا عہد کیا۔ اس وقت تم سب نے یہ کہا تھا کہ ہم نے اس وعدہ کو اچھی طرح سن لیا اور اطاعت کی۔ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو (اب تم اس وعدہ کے مطابق اپنے رب کے فرائض کو پورا کرو) بیشک اللہ تعالیٰ تمھارے دلوں کے اندرونی راز بھی خوب اچھی طرح جانتا ہے۔“ (سورۃ المائدہ آیت 7)

جب شکم مادر میں بچے کی تخلیق شروع ہوتی ہے، اور دل وجود میں آتا ہے تو اس وقت روح کو آسمان سے روانہ کر دیا جاتا ہے، اور ایک فرشتہ اس روح کو دل کے عین وسط میں رکھ دیتا ہے اور روح وہاں قید ہو جاتی ہے۔ چنانچہ حضوراکرمﷺ نے فرمایا ”ماں کے پیٹ میں بچے کے آغاز کو جب 40 دن ہوتے ہیں، تو اس میں روح داخل ہوتی ہے۔“ پیدائش کے بعد حالات اعتقادات اور اعمال کے اثرات کے نتیجہ میں یہی فطری روح، نفس کی شکل اختیار کر لیتی ہے جیسے بیج سے پودا اگتا ہے۔ ہمارا مستقبل ہماری نفس کی اس حالت پر منحصر ہے جس حالت میں اس دنیا کو ہم چھوڑتے ہیں۔ سائنس کہتی ہے کہ انسان جب ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو ایک لوتھڑے کی مانند ہوتا ہے، اچانک وہ سانس لیتا ہے اور اس میں زندگی آجاتی ہے۔

جب انسان پیدا ہوتا ہے تو یادداشت کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ انسان خواہ کہیں کا ہو، کسی بھی زمانہ کا ہو، اس میں اللہ تعالیٰ کی ذات کا احساس ضرور ہوتا ہے، یہ اور بات ہے کہ بسا اوقات ماحول کے زیراثر وہ اس کا پورا ادراک کرنے سےقاصر ہوتا ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن سے ہم کچھ لمحوں کے لیے ملتے ہیں، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم پہلے ملے ہوئے ہیں، چند سیکنڈ میں ان کے ساتھ ہماری گہری وابستگی ہوجاتی ہے جبکہ کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کے ساتھ پوری زندگی گزر جاتی ہے لیکن ان کے ساتھ دوستی نہیں ہوتی اور کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو بہت زبردست ہوتے ہیں لیکن ہمیں انہیں دیکھتے ہی چڑ ہو جاتی ہے اور بغیر کسی وجہ کے ان کے ساتھ نفرت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ ”اللہ تعالیٰ نے روحوں کوگروپوں کی شکل میں پیدا کیا“، کسی گروپ میں بیس لوگ تھے، کسی میں تیس، کسی میں دو، کسی میں سو تھے، وہ گروپس صدیوں ایک ساتھ رہے ہیں، صدیوں ایک ساتھ رہنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کر دیا، ان میں کوئی آسٹریلیا میں پیدا ہوا، کوئی بھارت میں پیدا ہوا، کوئی پاکستان میں پیدا ہوا، پھر ہوتا یہ ہے کہ جب ان کی کہیں اچانک ملاقات ہو جاتی ہے تو کشش محسوس ہوتی ہے، اور وہ کشش دوستی میں منتقل ہو جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے روح میں غلط اور صحیح کی تمیز شروع سے رکھی ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے ”قسم ہے نفس کی اور اس کی جس نے اسے سنوارا، اس کو صحیح اور غلط کی تمیز عطا کی، بےشک اس نے فلاح پائی جس نے (اس کو نیک کاموں سے) سنوارا۔ اور یقینا ناکام ہوگیا جس نے خراب کیا۔“ (سورۃ الشمس آیت 7 سے10)۔ اصل میں روح اللہ تعالیٰ کا ایک عطیہ ہے جس کا زندگی کے ساتھ تعلق ہے جب تک وہ عطیہ انسان کو نہیں ملتا، اس وقت نہ انسان کا شعور متحرک ہوتا ہے اور نہ جسم۔ جب روح کو مطمئن نہیں کیا جاتا، اس وقت تک ہماری زندگی مکمل نہیں ہوتی، اس وقت تک ہم ایک اچھی اور خوبصورت زندگی نہیں گزار سکتے۔ ہر وہ کام جو مثبت ہے، اگر اس کو کیا جائے تو روح مطمئن ہوگی اور ہر وہ کام جو منفی ہے، اس کو جب بھی کیا جائےگا، روح بےچین ہو جائےگی۔ مثبت کام وہ ہوتا ہے جو دوسرے آدمی کو تکلیف نہ دے بلکہ خوشی دے جبکہ منفی کام وہ ہوتا ہے یا ہر وہ چیز جو کسی کو تکلیف دے، منفی ہوتا ہے۔

روح کی زندگی کبھی ختم نہیں ہوتی۔ روح جب پہلے عالم حیات میں آتی ہے، پھر عالم برزخ میں اور پھر عالم آخرت میں جائے گی۔ عالم ارواح میں روحوں نے اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا تھا کہ ہم تیری عبادت کریں گے، اللہ تعالیٰ نے اس وعدے کے آزمانے کے لیے دنیا میں بھیجا کہ دیکھا جائے کون وعدہ پور ا کرتی ہے، اور کون نہیں ۔

روح قبض ہونے کا عمل اتنا تکلیف دہ نہیں ہوتا، ہلکی سنسناہٹ ہوتی ہے، اس کا آغاز پاؤں کے انگوٹھےسے ہوتا ہے۔ انسانی ذہن کو یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے اس کا جسم رفتہ فتہ فضا میں بلند ہو رہا ہے اور چاروں طرف سناٹا پھیل جاتا ہے۔ روح قبض ہونے سے قبل جب نزع کا عالم ہوتا ہے، اس میں کچھ لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ لیکن یہ بھی کہا جاتا ہے کہ روح جب کھینچی جاتی ہے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے انسان کانٹےدار جھاڑیوں میں کھینچا چلا جاتا ہو لیکن موت کے وقت انسان کے چیخنے چلانے کی قوتیں جواب دے چکی ہوتی ہیں، اس لیے وہ فریاد نہیں کر سکتا۔ حضرت امام غزالی ؒ فرماتے ہیں کہ اگر کافر دنیا میں نیک اعمال کرتا رہا تو اس پر قبض روح کا مرحلہ آسان رہتا ہے تاکہ اس کی نیکی کا بدلہ اس کو مل جائے، اور اللہ تعالیٰ پر آخرت میں اس کا کوئی حق نہ رہ جائے۔ کافر ہو، مشرک ہو، بدمذہب ہو یا گناہگار ہو، ان کے لیے اللہ تعالیٰ کا قانون ہے، ان کی روح تکلیف کے ساتھ ہی نکلے گی، لیکن نیک کے معاملے میں دو طرح کی روایات ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس نیک بندے کے لیے جو درجات مقدر فرمائے ہوئے ہیں، اگر وہ اپنے ذاتی اعمال کے ذریعے ان تک پہنچ چکا ہوتا ہے، تو پھر اللہ تعالیٰ اسے موت کے وقت انتہائی آسانی عطا فرماتا ہے، اور اس کی روح ایسے نکالی جاتی ہے جیسے آٹے میں سے بال نکالا جاتا ہے، نیک آدمی کے اعمال چاہے کتنے ہی کثیر ہوں، لیکن اللہ تعالیٰ نے جو اس کے لیے درجات مقدر فرمائے تھے، وہاں تک اس کی رسائی نہیں ہو پا رہی، تو پھر اس نیک آدمی کو بھی موت میں تکلیف دی جاتی ہے، اور وہ اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے، اور اس کی اس تکلیف پر صبر کرنا اور اس تکلیف میں مبتلا ہونا اس کو ان درجات تک پہنچا دیتا ہے، جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر فرمائے ہوتے ہیں۔

حوالہ جات:
(ماوریٰ، سلطان بشیر محمود، فقیر نگری، سید سرفراز اے شاہ، کالمزجاوید چوہدری، پیر سید نصیرالدین نصیر اور ڈاکٹر اسرار احمد، خطاب: مولانا مفتی محمد زرولی خان، پروگرام احکام ِشریعت: مفتی محمد اکمل قادری)

Address

Sheikhupura
Sheikhupura

Telephone

+923446599128

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when No Pain No Gain posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share